Death Shayari In Urdu: زندگی کے اس سفر میں، موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ یہاں ہم نے موت کی گہرائی کو بیان کرتی شاعری کا ایک مجموعہ پیش کیا ہے۔ آپ کو بہت سی خوبصورت چیزیں ملیں گی جو اس موضوع سے متعلق ہیں۔ یہ ہےDeath Shayari In Urdu ۔
یہ اشعار انسان کے دل کی بے پناہ کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ ان میں درد، یادیں اور زندگی کی حقیقت شامل ہے۔ ہر مصرعہ میں گہرا احساس ہے۔ یہ Death Shayari In Urdu آپ کے جذبات کو ظاہر کرے گی۔
ان خوبصورت الفاظ کو آپ اپنے محبوب سے بانٹ سکتے ہیں۔ اسٹیٹس، کیپشنز یا پیغام کے لیے بہترین ہیں۔ یہ Death Shayari In Urdu آپ کے جذبات کا ترجمان بن سکتی ہے۔ اپنے دوستوں کو بھی بھیجیں۔
Death Shayari In Urdu | موت کی شاعری اردو میں

زندگی نے آج ہمیں یہ سبق سکھایا
ہر شے فانی ہے، کچھ ساتھ نہ جائے
آخر سب کو موت کی آغوش میں جانا ہے
اسی حقیقت میں ہی زندگی کا راز پنہاں ہے۔
رشتہ و دل بستگی سب کچھ جھوٹا
سچی تو بس موت ہے، یہ کیسی روٹھی
کب آئے گی، کس وقت، کوئی خبر نہیں
اسی انتظار میں، جیتے ہیں ہم، اور نہیں کچھ بھی۔
موت کا سایہ ہے سر پر ہر وقت
بھول جاتے ہیں یہ بات، جیتے ہیں کب تک
دنیا کی رنگینیوں میں گم ہیں ہم
بھلا دیں گے آخر سب کچھ، وہ لمحہ جب آئے گا دم۔
آنسو جو بہے، وہ سب یاد آئیں گے
جب زندگی کے دن، پل پل گنوائے جائیں گے
موت کی آغوش میں جب سر جھکائیں گے
تب معلوم ہوگا، کیا کھویا، کیا پایا ہم نے۔
سانسیں ہیں جب تک، تب تک ہے یہ دنیا
بچھڑ جائیں گے سب، جب آئے گی وہ گھڑیا
یادوں کے سہارے، بس جیتے رہنا
جب موت پکارے، تو لبیک کہنا۔
یہ hidup کی حقیقت، کتنی تلخ ہے
محبت، نفرت، سب کچھ بس ایک الجھ ہے
آخر میں سب کو، مٹی میں مل جانا ہے
موت کا یہ در، سب کو ہی پار کرنا ہے۔
دل میں جو درد ہے، وہ کس کو بتائیں
جب وقت آئے گا، سب خود ہی سمجھ جائیں
موت سے کون بچا ہے، نہ کوئی بچ پائے گا
یہ آخری سفر ہے، سب کو ہی طے کرنا ہوگا۔
خوابوں کی دنیا، کب تک سجاؤ گے
حقیقت تو یہی ہے، کب تک بھلاؤ گے
موت آ کر، سب کچھ چھین لے جائے گی
تب یاد آئے گی، وہ زندگی جو گنوائی۔
کوئی اپنا، کوئی پرایا، سب جھوٹے رشتے
سچی تو بس موت ہے، جب آئے گی، لے جائے گی
آنسو بہتے رہیں گے، یادیں ستاتی رہیں گی
جب قبر کی مٹی، ہمیں اپنی لپیٹ میں لے گی۔
زندگی کا سفر، کب ختم ہو جائے
کوئی خبر نہیں، بس دعا ہے، سکون مل جائے
جب موت کی آغوش میں، سر رکھ کر سو جائیں
تب دنیا کی ہر فکر، ہم سے دور ہو جائے۔
وفا کے رشتے، سارے جھوٹے نکلے
سچی تو بس موت ہے، جو سب کے لیے ایک ہے
ہر دم یہ خوف، کہ کب وقت آئے گا
اور ہمیں اس دنیا سے، رخصت کر جائے گا۔
رات گہری ہے، اور نیند بھی نہیں آتی
موت کا خیال، دل میں بسی، گھبراہٹ بڑھ جاتی
کیا ہوگا، جب وقت آئے گا، کون ساتھ دے گا
بس تنہائی اور موت، یہی ساتھ رہیں گے۔
غم کے بادل، چھائے ہیں دل پر
موت کی آہٹ، سنائی دے رہی ہے ہر پل
کتنے خواب، ادھورے رہ گئے
جب زندگی نے، اس طرح ہاتھ چھوڑ دیا۔
دنیا کی ہوس، کب تک دل میں رکھو گے
یہ سب کچھ، یہ دولت، کب تک جھونکو گے
جب موت کا بلاوا آئے گا، تب سب کچھ چھوڑنا ہوگا
اور کچھ نہیں، بس ساتھ قبر کا ٹھکانا ہوگا۔
محبت کا دعویٰ، سب جھوٹا نکلتا ہے
اصل حقیقت، تو موت کا ہی کھیل ہے
جب وقت آئے گا، سب کو ہی جانا ہے
اور اس سفر میں، تنہا ہی چلنا ہے۔
لوگ کہتے ہیں، زندگی کو جی بھر کے جیو
پر موت کا خوف، دل سے کب نکل سکا ہے
ہر سانس، گنی چنی ہے، یہ یقین ہے
کہ کب زندگی، اس دنیا سے رخصت ہو جائے۔
آنکھوں میں نمی ہے، لبوں پر خاموشی
موت کی دستک، سنائی دے رہی ہے، خاموشی
یادیں ہیں بس، جو باقی رہ جائیں گی
جب یہ جسم، مٹی میں تحلیل ہو جائے گا۔
یہ دنیا، یہ رنگ، یہ بہار سب کچھ فانی
آج جو ہے، کل نہیں، یہی ہے زندگی کی کہانی
موت کا پیغام، ہر دم سناتا ہے
اور ہمیں سبق سکھاتا ہے، کہ سب کچھ چھوٹ جائے گا۔
یہ دل، جو دھڑکتا ہے، کب رک جائے گا
یہ جسم، جو چلتا ہے، کب تھک جائے گا
موت کی آغوش، منتظر ہے کب سے
اور ہمیں لے جائے گی، اس جہاں سے دور۔
زندگی ایک سفر ہے، اور موت اس کا انجام
خواہشات ہیں بے حساب، پر وقت ہے کم
جب موت کی آغوش میں، ہمیں پناہ ملے گی
تب شاید، دل کو سکون ملے گا، اور ہر غم مٹ جائے گا۔
Sad Death Shayari In Urdu | غمگین موت کا شاعری

زندگی کا سفر یوں ختم ہوا، جیسے سانسیں رک گئیں
دلوں میں یادیں رہ گئیں، آنکھیں نم ہو گئیں
بچھڑنے کا یہ غم ناقابلِ برداشت ہے
اجل کا بلاوا تھا، سب بے بس ہو گئے
وہ hidup کا چراغ بجھا، جیسے تاریکی چھا گئی
دنیا اجڑی، محفل سونی، ہر آنکھ اشکبار ہو گئی
یادوں کے سائے میں جیتے رہیں گے اب
یہ غم کی راتیں کب ڈھلیں گی، کب صبح ہوگی
خدا کی رضا میں راضی ہیں ہم، مگر دل غمگین ہے
روح کا ٹکڑا جو جدا ہوا، یہ کیسا نصیب ہے
دنیا کی ہنسی اب بے معنی لگتی ہے
غم کا دریا بہتا ہے، آنسو تھمتے نہیں
بچھڑنے کا یہ لمحہ بہت دکھ دے گیا
زندگی کا سفر ادھورا چھوڑ گیا
دعائیں ہیں ان کے لیے، راحت ملے
یہ غم کا سایہ کب چھٹے گا، کب سکون ملے
اجل کا سایہ پڑا، سب کچھ بدل گیا
خوشیوں کے رنگ اڑے، غم ہی غم رہ گیا
یادیں ہیں بس سہارا اب
دل کی یہ کیفیت، کون سمجھے گا
یوں اچانک چلے جانا، کیسا درد دے گیا
ہر شے سونی، ہر منظر اداس کر گیا
تیری یاد ستاتی ہے ہر پل
غم کی یہ رات ہے، کب ڈھلے گی
دل میں اک خلا سا بن گیا ہے
تیری جدائی کا غم، گہرا بن گیا ہے
دعائیں ہیں تیرے نام
اب فقط یادیں ہی سہارا ہیں
زندگی کی کتاب کا ایک باب بند ہوا
غم کا اندھیرا دل میں گھر کر گیا
ہر سانس کے ساتھ تیری یاد آئے
یہ غم کا دور کب ختم ہو
خدا کی مرضی، سب تسلیم ہے
مگر جدائی کا یہ غم، دل کا چین چھین لے گیا
یادیں ہیں بس ساتھی اب
یہ لمحات کیسے گزاروں
یوں خاموشی سے رخصت ہونا
ہم سب کو غمگین کر گیا
تیری کمی شدت سے محسوس ہو
یہ غم کی آہ کب تھمے گی
غم کی ایک لہر اٹھی، سب کچھ بہا گئی
زندگی کی خوشیاں، پل میں چھین لی گئی
تیری یادوں کا سایہ
دل میں بس گیا ہے
یہ سفرِ حیات یوں ہی تمام ہوا
دل پر غم کا بوجھ، گہرا ہو گیا
دعائیں ہیں تیرے نام
رب تجھے جنت میں جگہ دے
دل اداس ہے، آنکھیں نم ہیں
تیری جدائی کا غم، بہت گہرا ہے
یادیں ہیں بس اب
ان یادوں میں جی رہے ہیں
تقدیر کا کھیل، کس نے جانا
یوں بچھڑ جانا، دل کو توڑ گیا
غم کا یہ موسم
کب بدلے گا
زندگی کا یہ موڑ، دکھ دے گیا
دل میں بس یادیں، اور آنسو دے گیا
تیری کمی محسوس ہو
یہ غم کب جائے گا
خدا کے پیارے ہو گئے
ہم سب یہ غم سہہ رہے
تیری یادوں کے ساتھ
زندگی گزار رہے
یہ غم کا احساس، بڑا تکلیف دہ ہے
تیری جدائی نے، سب کچھ بے رنگ کر دیا ہے
دل میں بس تیرا غم
اور تیری یادیں ہیں
بچھڑنے کا یہ درد، سہنا مشکل ہے
یوں چلے جانا، دل کو توڑ گیا ہے
ہر پل تیری یاد
غم میں ڈوبا
غمگین ہے دل، بے قرار ہے روح
تیری جدائی کا صدمہ، بہت گہرا ہے
دعائیں ہیں بس
اللہ رحم کرے
زندگی کا یہ سفر، اختتام پذیر ہوا
دل پر غم کی گہری چھاپ چھوڑ گیا
تیری یاد ہمیشہ
دل میں رہے گی
Bhai Ki Death Shayari In Urdu | بھائی کی موت پر شاعری

جب بھائی کا سایہ سر سے اٹھ گیا، دل کی دنیا اجڑ گئی
آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، زندگی ادھوری سی رہ گئی
یادوں کے سہارے جینا ہوگا اب، یہ کیسی تقدیر لکھی گئی
بھائی کی موت کا غم ایسا، رو رو کر ہر سانس کڑھی گئی
بھائی کی یاد ستاتی ہے بہت، دل کی ویرانی بڑھ جاتی ہے
وہ ہنستا ہوا چہرہ، اب کہاں، یہ سوچ کر جان جاتی ہے
ہر منظر میں تیری صورت، آنکھوں کے سامنے آتی ہے
بھائی، تیرے جانے سے زندگی، تاریکی میں بدل جاتی ہے
یہ کیسی جدائی ہے بھائی، دل سے دل کا رشتہ ٹوٹ گیا
دنیا کی رونقیں ماند پڑ گئیں، ہر خوشی کا موسم چھوٹ گیا
کیسے کریں اب ہم صبر، جب غم کا پہاڑ آن پڑا
بھائی، تیری یادوں میں گم، دل ہر دم روتا رہتا
آج بھی لگتا ہے جیسے، بھائی تو وہیں پاس کھڑا ہے
لیکن حقیقت کی دنیا میں، تیرا وجود کہاں رہا ہے
ہر پل تیری کمی محسوس ہوتی، دل بس یہ ہی کہتا
اے کاش! یہ وقت پھر لوٹ آئے، اور بھائی مجھ سے مل جائے
وہ بچپن کی شرارتیں، وہ تیرا پیار بھرا ہاتھ
اب صرف یادوں میں ہیں، وہ دلکش اور حسین رات
بھائی، تیری رحلت نے، ہمیں غمگین کر دیا
خدا کرے تجھے جنت نصیب، یہ دعا ہم کرتے ہیں
بھائی، تو دور بہت دور چلا گیا، ہمیں تنہا چھوڑ گیا
دنیا کی ہر خوشی چھین لی، غموں کا انبار چھوڑ گیا
تیرے بغیر زندگی، بہت مشکل لگتی ہے
آہ! وہ لمحہ جب تو بچھڑا، یادوں میں اب بھی گھومتی ہے
تیری باتوں میں وہ اپنائیت، تیری ہنسی میں وہ سکون
اب کہاں ملے گا بھائی، یہ دل ہے بس اسی غم میں محزوں
تیرا سایہ سر پر سے اٹھا، جیسے سب کچھ لٹ گیا
بھائی، تیری جدائی کا صدمہ، دل کبھی نہ بھلا سکا
ہر شب مجھے تیرا خواب آئے، آنکھوں میں آنسو بھر آئے
جاگوں تو پھر تیری یاد آئے، دل روئے اور جگر جل جائے
کیسے بھلاؤں تجھے بھائی، یہ دل اب کس کو لبھائے
تیری جگہ کوئی نہ لے سکے، یہ غم مجھے کیوں گھیرا ہے
بھائی، تو تھا میرا سب کچھ، میری زندگی کا سہارا
تیرے جانے سے اجڑ گئی دنیا، رو رہا ہوں میں بیچارہ
ہر پل تیری کمی محسوس، دل بس یہ ہی پکارے
اے کاش! ایک بار تو آئے، اور مجھے گلے سے لگائے
تیری خاموشی نے سنا دی، بہت گہری بات
بھائی، تو جا چکا ہے، ختم ہوئی یہ ملاقات
غموں کے سمندر میں ڈوبے، آنسو ہیں بس جاری
اللہ بخشے تجھے بھائی، کر دے دنیا ساری
یادوں کے وہ گلشن، جہاں ہم ساتھ کھیلتے تھے
آج ہر ایک گلاب، تیری جدائی سے روتے ہیں
بھائی، تیری موت کا زخم، اتنا گہرا ہے
کہ جیتے جی مر گیا ہوں، یہ احساس ہر دم رہتا ہے
وہ دن تھے بڑے حسین، جب بھائی کا ساتھ تھا
ہر مشکل میں ڈھال بن کر، تیرا مضبوط ہاتھ تھا
اجالے چھن گئے سارے، جب تو چلا گیا
اندھیروں نے گھیر لیا، دل بس یہی کہتا
آج بھی گھر کی راہ تکوں، وہ دروازہ دیکھوں
سوچوں شاید بھائی آئے، بس یہی غم میں جیوں
کیسے کروں صبر، جب تو ہی نہیں رہا
بھائی، تیری یادوں میں، دل بس روتا ہی رہا
وہ تیرا مسکراتا چہرہ، وہ تیرا پیار کا انداز
سب کچھ یاد آتا ہے بھائی، دل کرتا ہے فریاد
کاش! وہ وقت پھر آ جائے، اور تو لوٹ آئے
یہ تنہائی، یہ اداسی، سب کچھ ختم ہو جائے
بھائی، تیری موت کی خبر سن کر، دل لرز گیا
جیسے دنیا کی ساری خوشیاں، یکدم ہی بدل گئیں
آنکھوں میں نمی، دل میں اندھیرا
بھائی، تیری یادوں کا سفر، کبھی نہ رکے گا
آسمان نے چاند گنوا دیا، جیسے سب کچھ لٹا دیا
بہت یاد آئے گی تیری بھائی، خدا نے تجھے اٹھا لیا
غموں کا بوجھ اٹھائے، جیوں گا تیرے بنا
کاش! تیری روح کو سکون ملے، یہ دعا ہے صدا
بھائی، تو وہ ستارہ تھا، جو اب کہیں کھو گیا
تیری روشنی کے بغیر، ہر منظر ادھورا ہو گیا
یادوں کے دیے جلا کر، ہم رو رہے ہیں
بھائی، تجھے کہاں پائیں، بس یہی سوچ رہے ہیں
وہ تیرا پیار، وہ تیری شفقت، سب کچھ یاد آتا ہے
بھائی، تیرے جانے کے بعد، دل بہت گھبراتا ہے
یہ زندگی جو ملی ہے، اب تیرے نام کروں گا
بھائی، تجھے ہمیشہ یاد کر کے، جیوں گا
مٹی کا یہ بدن، مٹی میں مل جائے گا
لیکن بھائی، تیرا پیار، دل میں ہمیشہ رہے گا
تیری جدائی کا غم، خدا کرے کہ کم ہو
بھائی، تو جہاں بھی ہو، تیرا سایہ وہیں رہے
Father Death Shayari In Urdu | باپ کی وفات پر شاعری

بابا تیری جدائی کا غم، کیسے بیان کروں
دل میں بس تیرا ہی خیال، کیسے بھول پاؤں
یادوں کے سہارے جی رہا ہوں، تیری طرح
اے کاش! تیری دعائیں، مجھے پھر سے مل پائیں۔
یوں تو پل پل یاد ستائے، تیری بات
بھر آئے آنکھیں، جب بھی آئے، رات
بابا تیری کمی کو، کیسے پورا کروں
دعا ہے تیری بخشش، رب سے، ہر رات۔
دنیا کی رونقیں، اب بے رنگ لگیں
تیری آواز کی، اب گونج نہ سنائے
بابا تیری یاد میں، دل روتا ہے
خدا تجھے جنت میں، اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
کتنی باتیں رہ گئیں، جو کہہ نہ سکا
کتنے خواب تھے، جو تیرے ساتھ دیکھ چکا
تیری شفقتوں کا سایہ، اب کہاں پاؤں
اے میرے پیارے بابا، تجھے دل سے یاد کروں۔
آنکھوں میں نمی ہے، دل اداس
تیری جدائی کا، یہ کیسا احساس
بابا تیری یادیں، ہیں قیمتی
انہی کے سائے میں، گزریں گی سانس۔
بچھڑ گئے ہو مجھ سے، مگر دل سے دور نہیں
تیری مہربانیوں کا، کوئی اور ثانی نہیں
اے میرے بابا، تیری بہت یاد آتی ہے
خدا سے بس یہی، دعا ہے، مغفرت کی۔
تیری دنیا سے چلے جانے پر، کیا بتاؤں
دل کا حال، میرا، کیسے سمجھ پاؤں
تیرے بغیر زندگی، ادھوری لگتی ہے
اے میرے والد، تجھے، بہت یاد کروں۔
تیری دعائیں، میری ڈھال بنیں
تیری نصیحتیں، میری مثال بنیں
بابا تیری یاد میں، دل تڑپتا ہے
اللہ تجھے، جنت الفردوس میں، جگہ دے۔
ہر سانس میں تیرا نام، ہر دم تیرا خیال
تیری یادوں کے بغیر، گزرنا ہے محال
بابا تیری کمی، کبھی پوری نہ ہوگی
دعا ہے تیری بخشش، رب کرے، ہر حال۔
یادوں کے درمیاں، تیرا چہرہ نظر آئے
آنکھوں سے اشک، بے اختیار بہہ جائے
بابا تیری دنیا سے، چلے جانے کا غم
کیسے بھلاؤں، دل اب، بس تجھے پکارے جائے۔
تیری انگلی پکڑ کر، چلنا سیکھا تھا
تیری محبت میں، ہر دکھ بھول جاتا تھا
بابا تیری جدائی، کر گئی ہے بے قرار
تیری یادوں کے ساتھ، گزرے گی زندگی، ہر بار۔
تیرے بغیر گھر سونا، لگتا ہے
تیری آواز، اب سنائی نہ دیتا ہے
بابا تیری یادوں کا، خزانہ ہے میرے پاس
انہی کے سہارے، جینا ہے، اب، ہر سانس۔
دن گزر رہے ہیں، راتیں بیت رہی ہیں
تیری یادیں، مگر، دل میں، رہ رہی ہیں
بابا تیری دعائیں، ہیں میری طاقت
تجھ سے بچھڑ کر، ادھوری ہے، میری قسمت۔
آج بھی تیری دعائیں، سنتا ہوں
تیرے ہونے کا، احساس، کرتا ہوں
بابا تیری کمی، کبھی پوری نہ ہوگی
تیری یاد میں، ہمیشہ، روتا رہتا ہوں۔
تیرے بنا یہ زندگی، اک ادھوری کہانی
تیری یادوں میں، گم ہے، میری نشانی
بابا، تیرا سایہ، اب، کہاں سے لاؤں
تیرے بغیر، ہر دم، روتا، اور، بس، تڑپتا جاؤں۔
ہر لمحہ تیری یاد، دل کو ستائے
تیرے بغیر، دنیا، مجھے، بے چین بنائے
بابا، تیرا پیار، تھا سب سے بڑھ کر
تجھ سے بچھڑ کر، زندگی، بے رنگ، ہے، ہر پل۔
تیرے قدموں میں، جنت تھی، میری
تیری دعاؤں میں، تھی، ہر خوشی میری
بابا، تیری جدائی، نے، جان لیا
اللہ، تجھے، اپنی، رحمت میں، رکھنا۔
تیری صورت، آنکھوں میں، ٹھہر گئی
تیری باتیں، کانوں میں، گونج گئیں
بابا، تیری یاد، اب، چین نہیں
تجھ سے بچھڑ کر، دل، بس، روتا، ہی، رہا۔
یہ دل اب بھی، تیری، صدا سنتا ہے
تیری یادوں کا، دیپ، جلتا ہے
بابا، تیری کمی، کبھی، نہ، بھلائی جائے گی
تجھ سے بچھڑ کر، زندگی، کیسے، گزاری جائے گی۔
تیرا سایہ، سر پر، نہیں
دل میں، مگر، تیرا، پیار، ہے، ابھی
بابا، تیری یاد، دل، کو، چھو جائے
اللہ، تجھے، بخش دے، اور، جنت، عطا، فرمائے۔
Papa Ki Death Shayari In Urdu

اب وہ سایہ سر پر نہیں، آنکھوں میں نمی ہے
دل تو رو رہا ہے، پر ہونٹوں پہ ہنسی ہے
یہ کیسا کرم ہے، یہ کیسی کمی ہے
آپ کے بنا زندگی، ادھوری سی لگی ہے
اے خدا، یہ کیا ظلم کیا، میرے پاپا کو چھین لیا
میری دنیا کو اجاڑ دیا، میرے سپنوں کو توڑ دیا
ان کے بنا جینا اب، کیسے ہوگا، یہ غم مجھے گھول گیا
دل کا درد بس یہی ہے، کہ اب وہ لوٹ کر نہیں آئے گا
آپ کی یاد ستاتی ہے، ہر پل، ہر گھڑی
آواز گونجتی ہے کانوں میں، وہ میٹھی سی بڑی
غم کی راتیں لمبی ہیں، اور دن ہیں تھوڑی
آپ کے بغیر زندگی، ہے بہت روکھھی سوکھی
وہ ہنستے چہرے کی، اک تصویر یاد آتی ہے
دل میں اک خلش سی، بس جاتی ہے
کبھی آپ کے پاس، تو کبھی یادوں میں، رات گزر جاتی ہے
پاپا، آپ کی یاد، سدا دل میں رہ جاتی ہے
زندگی کے سفر میں، جب بھی مشکل آئی
آپ کی دعائیں، میرے ساتھ ہیں، یہ تسلی دلائی
ہر قدم پر آپ کا ساتھ، میں نے پایا
آج آپ نہیں، پر آپ کی یاد، ہے میری پرچھائیں
یوں اچانک چلے جانا، یہ کیسی ادا ہے
دل کو توڑ گئے، یہ کیسی سزا ہے
آنسو بہہ رہے ہیں، جب جب یاد آیا
پاپا، آپ کی محبت، بس اک یاد بن کر رہ گیا
کوئی پوچھتا ہے حال میرا، تو کیا کہوں میں
دل کا درد سمجھ نہ پائے، کوئی جب جانوں میں
پاپا، آپ کی کمی، ہے بہت شدید
آپ کی یاد میں، گزر رہی ہیں، یہ اداس ندید
راتیں جاگ کر گزرتیں، جب بھی آپ کی یاد آئی
آج بھی اسی درد میں، رات میری، جاگ کر گزری
آپ کا سایہ اب، سر پر نہیں، مگر آپ کی دعائیں
ہر مشکل میں ساتھ ہیں، جیسے پہلے تھیں، یہ گہرائیاں
یہ دل تو رو رہا ہے، مگر لب خاموش ہیں
دل کے حال سے، بس رب ہی واقف ہیں
آپ کی یاد میں، غم کے بادل چھائے ہیں
پاپا، آپ کی دنیا، ہم سے روٹھی، یہ سمجھ نہ پائے ہیں
کاش! وہ دن لوٹ آئے، اور آپ ہمیں مل جاؤ
اس دل کے درد کو، بس آپ ہی، مٹا جاؤ
آپ کی ایک جھلک، بس وہ دیکھ پاؤں
پاپا، آپ کی دنیا، اب ہم کیسے، سجا پائیں
میری ہر خوشی میں، آپ کا سایہ نظر آئے
میرا حوصلہ، آپ کی باتوں سے، ابھر آئے
آپ کی یادوں کے سہارے، جی رہا ہوں میں
پاپا، آپ کے بغیر، کیسے جیوں، اب میں
دنیا کے رنگ پھیکے ہیں، اور راتیں اندھیری
آپ کی جدائی کا صدمہ، ہے بہت گہری
ہر پل آپ کی یاد، ستا رہی ہے
پاپا، آپ کی محبت، بس اک نشانی بن کر رہ گئی ہے
جب بھی کوئی بات، دل میں اٹھتی ہے
آپ کو پکارتی ہے، اور آنکھیں، نم ہو جاتی ہیں
آپ کے پاس، دنیا کی ہر خوشی تھی
اب آپ کے بغیر، زندگی، بس اک اداسی ہے
وہ پیار، وہ شفقت، وہ مضبوط ہاتھ
اب کہاں، کس سے مانگوں، میں اپنا ساتھ
آپ کی دعائیں، میرا سہارا ہیں
پاپا، آپ کی یاد، ہر پل، ساتھ ہے
دل کے زخم، گہرے ہیں، اور آسماں گنگنائے
آپ کی یاد میں، ہر پل، دل روتا جائے
یہ جدائی کا دکھ، کوئی سمجھ نہ پائے
پاپا، آپ کی محبت، دل میں، ابدی ہو جائے
یہ دل اب بھی، آپ کا منتظر ہے
آپ کے آنے کی، آس لیے پھرتا ہے
کاش! یہ آس، حقیقت بن جائے
پاپا، آپ کی یاد، دل سے، مٹ نہ پائے
سب کچھ ہے میرے پاس، مگر آپ نہیں
یہ زندگی، ادھوری ہے، آپ کے بغیر، ہم نہیں
ہر پل، آپ کی آواز، سننا چاہتا ہوں
پاپا، آپ کی یاد میں، بس روتا رہتا ہوں
یہ اداس لمحے، یہ غمگین راتیں
آپ کی یاد دلائیں، یہ درد بھری باتیں
کیسے بھول جاؤں، وہ پیار، وہ شفقت
پاپا، آپ کی جدائی، ہے بہت سخت
آپ کی عظمت، آپ کا پیار، یاد آتا ہے
اس دل کو، ہر پل، تڑپاتا ہے
زندگی کا یہ سفر، اب تنہا ہے
پاپا، آپ کی یاد، بس اک percaya ہے
میری ہر دعا میں، بس آپ کا نام
خدا سے یہی، ہے میرا کام
آپ جہاں بھی ہوں، خوش رہیں، سلامت
پاپا، آپ کی یاد، دل میں، ابدی، یہ رفاقت
Sister Ki Death Shayari In Urdu

یادوں کا ایک سلسلہ چلتا رہے گا
دل میں تیرا غم پلتا رہے گا
تو چلی گئی ہے دنیا سے دور
مگر میرا دل تجھے سنورتا رہے گا
کبھی تیری ہنسی یاد آتی ہے
کبھی تیری باتیں یاد آتی ہیں
بہن تیری جدائی نے
ہر پل مجھے رلاتی ہے
آنسو بہتے ہیں تیرے نام پر
دل روتا ہے تیرے غم پر
بہن تو چلی گئی بہت دور
یادوں میں رہتی ہے ہر دم
یہ کیسا وقت تھا، کیسا غم ہے
میری پیاری بہن، کہاں تیرا دم ہے
ہر پل ستاتی ہے تیری یاد
دل پوچھتا ہے، کہاں تیرا قدم ہے
تیرے جانے سے زندگی ادھوری
رہ گئی ہے، بہن میری، مجبوری
ہر لمحہ تیری کمی محسوس
ہوتی ہے، یہ کیسی ہے دوری
کاش کہ وقت لوٹ آئے
اور تجھے پھر سے پاس لائے
بہن تیری جدائی کا صدمہ
دل کو ہر پل جلا ئے
تیری مسکراہٹ اب نہیں
دیکھ سکتا، دل یہ روتا ہے
بہن تیری یاد میں
ہر دن تڑپتا ہے
آنکھوں میں نمی ہے، دل اداس
ہے، بہن تیری جدائی کا احساس
اس غم کو کیسے بھولوں میں
جب تو ہی نہیں میرے پاس
جنت میں رہتی ہوگی
میری پیاری بہن
میری دعائیں پہنچتی ہوں گی
تجھ تک، میرے سجن
تیرے بغیر ہر دن ہے سنسان
کیسے جیووں میں، میری جان
دل روتا ہے، آنکھیں نم
ہیں، بہن تیری یادوں کا ہے طوفان
تیرے حصے کی خوشیاں
میں اب جیوں گا
تیری یادوں کے سائے میں
زندگی گزاروں گا
بہت یاد آتی ہے تیری
مسکراہٹ، تیری باتیں
کیسے بتائیں تجھے
غم کی یہ راتیں
اجاڑ دیا تو نے دل
میرا، بہن
بکھر گئے ہیں سپنے
میرے، اے سجن
یادوں کا دیا جلتا رہے
تیرے نام کا
دل میرا روتا رہے
تیرے غم میں
زندگی کا ہر لمحہ
ہے اب تیری یاد
سمیٹے
کیسے بھلاؤں تجھے اے بہن
آسمانوں سے جھانکتی ہو گی
میری بہن
میری دعائیں پہنچتی ہوں گی
اس تک، میرے سجن
تیرے بغیر یہ دنیا
ہے بے رنگ
دل میں تیری یاد
ہے، ہر دم
یہ کیسی ویرانی ہے
زندگی میں
جب تو نہیں
میرے ساتھ، بہن
دل کے زخم بھرتے
نہیں
تیرے جانے کا غم
کبھی کم ہوتا نہیں
یاد تیری
آتی ہے
تڑپاتا ہے
یہ غم
Dost Ki Death Shayari In Urdu | دوست کی موت پر شاعری اردو میں

یہ زندگی کا سفر ہے، سب کو ایک دن جانا ہے
کسی کا بچھڑ جانا، دل کو بہت ستاتا ہے
اے خدا، اسے اپنی رحمت میں رکھنا
اس کی یاد ہمیشہ ہمیں جلاتا ہے۔
بھائی تیرے جانے کا صدمہ، دل سے نہیں جاتا
تیری ہنسی، تیری باتیں، سب یاد ستاتا ہے
کاش تیرے غم میں ہم بھی ساتھ چل دیتے
یہ تنہائی کا احساس، بہت اذیت دیتا ہے۔
دوستو، یہ دنیا فانی ہے، سب نے بچھڑ جانا ہے
اپنے پیاروں کی یادوں میں، دل کو سلگانا ہے
جو چلا گیا، وہ واپس نہ آئے گا
بس دعائیں ہیں، کہ رب صبر کا دامن تھامے رکھنا۔
تیری جدائی کا غم، کسی درد سے کم نہیں
اپنے دوست کے کھو جانے کا، کسی کو پتہ نہیں
دل روتا ہے، آنکھیں تر رہتی ہیں
تیری کمی، اے یار، کبھی پوری نہیں ہوتی۔
اجڑے ہوئے گلشن کا، یہ گلہ اب کس سے کریں
جو پھول چمن کا تھا، وہ اب نہ رہا، کس سے کہیں
زندگی کا وہ سہارا، جو کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا
وہ شخص اب نہیں، دل میں بس یہ غم لئے پھریں۔
تیری یادوں کا سایہ، اب مجھ پر چھایا ہے
غم نے میرے دل کو، یوں ہی لُٹایا ہے
اے دوست، تو کہاں ہے، مجھے جواب دے
تیری جدائی نے، مجھے تنہا کر دکھایا ہے۔
کبھی سوچا نہ تھا، یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا
تیرا نام لبوں پر، آنکھوں میں پانی پڑے گا
یہ کیسی دنیا ہے، یہاں سب کو جانا ہے
مگر تیرا جانا، دل کو بہت دکھا گیا۔
جہاں بھی ہو، سکون سے رہنا میرے دوست
تیری دعائیں، تیری یادیں، ساتھ ہیں میرے دوست
یہ وقت گزار جائے گا، غم کم ہو جائے گا
مگر تیری جگہ، کوئی اور نہ لے پائے گا دوست۔
آج وہ دن ہے، جب تو ہم سے بچھڑ گیا
دل کا درد، میری جان، مجھ سے نہ پوچھ
یہ زندگی کا کھیل، سب کو ہی کھیلنا ہے
پر تیرے بغیر، دنیا مجھے خالی لگتی ہے۔
وہ ہنستا تھا، وہ بولتا تھا، سب کچھ یاد آتا ہے
اجلے دنوں کی طرح، وہ خواب بن کر آتا ہے
یہ قسمت کا کھیل ہے، یا رب کا فیصلہ
میرے دوست، تیرا بچھڑنا، دل کو توڑ جاتا ہے۔
تیری وفائیں، تیرا پیار، کبھی بھولا نہ پائیں گے
تیری یادوں کے سائے میں، ہم جی نہ پائیں گے
اے دوست، تیری موت کا صدمہ، کب ختم ہوگا
یہ غم کا اندھیرا، کب دور ہوگا، ہم نہ جان پائیں گے۔
یہ خاک کی مٹی ہے، آخر سب کو مل جانا
مگر تیرا بچھڑ جانا، دل کو بہت ستانا
اے رب، اس کی مغفرت فرما، اسے جنت عطا فرما
اس کی روح کو سکون، اور ہمیں صبر عطا فرما۔
دوستی کے رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں
جب ٹوٹتے ہیں، تو دل بہت روتے ہیں
میرا وہ دوست، جو اب دنیا میں نہیں
اس کی یاد میں، میری آنکھیں نم رہتی ہیں۔
آج پھر دل اداس ہے، تیری یاد ستاتی ہے
وہ ہنسی، وہ گفتگو، سب آنکھوں میں آ جاتی ہے
اے دوست، کہاں ہے تو، ذرا لوٹ کے آ جا
تیری جدائی کا یہ غم، مجھے مار ڈالے گا۔
دل کہتا ہے، کہ یہ سب ایک خواب ہو
تیری موت کی خبر، بالکل غلط بات ہو
مگر حقیقت کڑوی ہے، تو اب ساتھ نہیں
اس غم کو سہنا، بہت مشکل کام ہے۔
کیسے بھلائیں وہ دن، جب ساتھ ہم ہنستے تھے
ہر مشکل کا سامنا، مل کر ہم کرتے تھے
تیری موت کا خبر سن کر، دل لرز سا گیا
اے دوست، تیرا بچھڑنا، سب کچھ اجاڑ گیا۔
جتنی بھی دعائیں دوں، کم ہیں تیرے لیے
اللہ تجھے جنت میں جگہ دے، میرے لیے
تیری یادیں ہی اب سہارا ہیں میری
یہ غم کا سفینہ، جب تک جیوں گا، ساتھ رہے گا۔
اے دوست، تیری یادیں، میرے دل میں بسی ہیں
تیری ہنسی، تیری باتوں کا، نقش ابھی باقی ہے
کاش میں بھی تیرے ساتھ چلا جاتا
تیری جدائی کا یہ زخم، دل سے نہ جاتا۔
یہ زندگی ہے، یہاں سب کو، ایک دن جانا ہے
اپنے پیاروں کی یادوں میں، دل کو سلگانا ہے
جو چلا گیا، وہ واپس نہ آئے گا
بس دعائیں ہیں، کہ رب صبر کا دامن تھامے رکھنا۔
یہ وقت بھی گزر جائے گا، مگر تیری کمی رہے گی
دل میں تیری یادوں کی، اک روشنی رہے گی
اے دوست، تو اب نہیں، مگر دعاؤں میں شامل ہے
اللہ تجھے اجر دے، اور مجھے صبر عطا کرے۔
Mother Death Shayari In Urdu | ماں的逝世的诗歌

کہاں ڈھونڈوں وہ سایہ، وہ شفقت کا پیار
ماں کا بچھڑنا دل میں رہ گیا ہے داغ
یاد آتی ہے وہ گود، وہ پیار بھری وار
آج بھی روتا ہے دل، جب آتا ہے تیرا خیال
ہر درد سہ لیتے تھے، ہمیں رلاتی نہ تھیں
کتنی دعائیں مانگتی تھیں، ہمیں ستاتی نہ تھیں
آج جب ہم روتے ہیں، تو پاس نہیں ہوتی
ماں کی کمی کوئی دعا پوری کر پاتی نہیں
تیری یادوں کا دیا، دل میں جلتا ہے
غم جدائی کا اب، بس مجھ کو چُبتا ہے
کاش لوٹ آئے وہ دن، وہ شامیں
ماں، تیری آغوش میں، زندگی ڈھلتی ہے
دنیا کا سب سے قیمتی، وہ رشتہ تھا
ماں، تیرا پیار، وہ سب سے بڑا تحفہ تھا
چھوڑ کر گئی مجھے، تنہا اس جہاں میں
اب میرے دکھ کا، کوئی مداوا نہ تھا
آنکھوں میں آنسو، ہونٹوں پہ خاموشی
جاتی نہیں دل سے، تیری یاد کی خوشبو
کہاں ہیں میرے سوالوں کا جواب
ماں، تیری دعائیں، بن گئیں ہیں میری آرزو
دن گزر گئے، مہینے بیت گئے
تیری یاد میں، ہم ہر پل روئے
کبھی سوچا نہ تھا، تو یوں بچھڑ جائے گی
ماں، تو نے تو، سب کچھ چھین لیا مجھ سے
تیری آواز کی گونج، اب بھی سنائی دیتی ہے
یادوں کی اک موج، جو دل میں اٹھتی ہے
چلا گیا تو وہ دن، جب تو ساتھ تھی
اب بس تیری دعائیں، میری رہنمائی کرتی ہے
دنیا کی رونقیں، اب بے معنی لگتی ہیں
ماں، تیری دعائیں، اب بھی ساتھ چلتی ہیں
تیری یاد میں، دل اب بھی روتا ہے
کاش کہ آج تم، پھر سے لوٹ آتی
اے کاش! تیری دعا، پھر سے سن پاتا
اے کاش! تیرا پیار، پھر سے پا جاتا
جدائی کا یہ غم، کبھی کم نہ ہوا
ماں، تیرے بنا، جی نہ ہم پاتا
ماں، وہ لفظ ہی، سکون کا ذریعہ تھا
تیرا وجود، میری دنیا کا سہارا تھا
چھوڑ کر چلی گئی، اس دشتِ تنہائی میں
اب اس دل کا، کوئی دعائی نہ تھا
جو راتیں ہم نے، تیرے غم میں گزاری
کاش! وہ راتیں، بدل دیتیں ساری
تیرا سایہ، اگر آج ہوتا سر پر
تو یہ زندگی، ہوتی بہت پیاری
تیری یاد جب بھی آتی ہے، دل بھر آتا ہے
ہر پل یہ جدائی کا، غم ستاتا ہے
کاش! تجھے پھر دیکھ پاتا
ماں، تیری دعا، پھر سے پا لیتا
آسماں نے دیکھا، زمین نے رویا
جب تیرا سایہ، اٹھا یہ دنیا سے
تیری یادیں، اب بھی ساتھ ہیں میرے
ماں، تو چلی گئی، پر تیری دعائیں ہیں ساتھ
دل میں تیری یاد، بس گئی ہے ماں
ہر پل تیرا غم، ہے میرے ساتھ، ماں
کاش! لوٹ آئے وہ وقت
جب تو تھی میرے پاس، ماں
تیری میٹھی باتیں، وہ پیارا سا لہجہ
آج بھی گونجتا ہے، میرے دل میں، اے ماں
جدائی کا یہ صدمہ، کیسے بھلاؤں
ہر پل تیری یاد، مجھے رلائے، ماں
وہ دعائیں تیری، جو رہبر بن گئیں
وہ شفقت بھری نظریں، جو راحت بن گئیں
چھوڑ گئی سب کچھ، جب تو چلی گئی
ماں، تیری یادیں، میری ہمدم بن گئیں
تیری دنیا میں، تو سب سے بڑی تھی
میری زندگی کا، تو اجالا تھی
کہاں جاؤں، کس سے کہوں
ماں، تو میری سب کچھ تھی
یادوں کے جھروکوں سے، جب تیرا چہرہ آ جائے
آنکھوں میں نمی، اور دل میں درد بھر جائے
کبھی نہ بھلا پائیں گے، وہ پیار تیرا
ماں، تیری کمی، اب کیسے جائے
کتنا عظیم تھا، تیرا یہ سایہ
جس سے میں نے، ہر دم پایا
یہ غم کی راتیں، کب ڈھلیں گی
ماں، تیری یاد میں، دل روتا ہے
تیرا پیار، نہ تھا کسی خزانے سے کم
تیری دعا، جو مجھے سنوارتی تھی ہر دم
آج تو ہے دور، مگر یادیں پاس ہیں
ماں، تیری کمی، ہے ہر پل، ہر دم
Maa Death Shayari Urdu

تیری یادوں کا بسیرا ہے دل کے گوشے میں،
تیرا سایہ اب بھی محسوس ہوتا ہے،
اے ماں، تیری جدائی نے زندگی بے رنگ کر دی،
تیرے بنا ہر لمحہ عذاب سا لگتا ہے۔
کبھی tidur میں تیرا چہرہ نظر آتا ہے،
ہاتھ بڑھاؤں تو تجھے چھو نہ پاؤں،
اٹھتے ہی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں،
ماں، تیری بہت یاد آتی ہے، کہاں جاؤں۔
دنیا کی رنگینیوں میں سکون نہ ملا،
تیرے دامن کی طرح کوئی آسرا نہ ملا،
زندگی کے ہر موڑ پر تیری ضرورت تھی،
ماں، تیرے بعد کوئی اپنا نہ ملا۔
وہ تیرا پیار، وہ شفقت، وہ دعائیں،
آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں،
اے ماں، تیری یاد میں دل یہ روتا ہے،
کاش! تو واپس آ جائے، میری تنہائی مٹ جائے۔
دنیا کی چمک دمک سب فانی ہے،
تیری ممتا ہی تو اصل کہانی ہے،
تیرے جانے سے سب کچھ بدل گیا،
ماں، تیری یاد اب دل کی نشانی ہے۔
تیرے قدموں میں جنت کا نظارہ تھا،
تیری دعاؤں کا سہارا تھا،
آج تو ساتھ نہیں، زندگی بے معنی ہے،
ماں، تو ہی میرا کل، تو ہی میرا یارا تھا۔
وہ تیرا لمس، وہ تیرا پیار بھرا ہاتھ،
اب کہاں ملے گا، اے ماں، کوئی بات؟
زندگی کا سفر تنہائی کا ساتھی ہے،
تیرے بغیر ہر پل ہے ایک دن رات۔
دل میں تیرا درد، آنکھوں میں نمی ہے،
تیری یادوں کی دنیا ہی میری زندگی ہے،
اے ماں، کاش! یہ خواب ہوتا،
تو یہاں ہوتی، یہ غم کی گھڑی نہ تھی۔
تیرے بغیر دنیا ویران لگتی ہے،
ہر خوشی ادھوری سی لگتی ہے،
اے میری پیاری ماں، تیری بہت یاد آتی ہے،
یہ دل روتا ہے، تیری طلب لگتی ہے۔
جو ماں کا سایہ سر سے اٹھ جائے،
زندگی کا ہر رنگ ادھورا رہ جائے،
میری ماں، تیری یادوں میں جیتا ہوں،
کاش! وقت وہیں ٹھہر جائے، جہاں تو تھی۔
تیری آواز سننا اب ممکن نہیں،
تیری گود میں سر رکھنا اب نصیب نہیں،
اے ماں، تیری کمی محسوس ہوتی ہے،
تیرے بغیر جینا تو اک عذاب ہی ہے۔
وہ تیرا دعائیہ آنچل، وہ پیار کی چھاؤں،
اب کہاں ملے گی، اے ماں، یہ پوچھوں کس سے جاؤں؟
تیری یادیں ہی سہارا ہیں میری زندگی کا،
تیرے بنا دل ہے اداس، دنیا ہے بے پناہ۔
میری دنیا، میری جنت، میری ماں،
تیرے بنا جینا اب ہے اک گراں،
تیری یادوں میں ڈوبا دل یہ میرا،
کہتا ہے، کاش! مل جائے تیرا نشاں۔
تیرے بغیر ہر دن اک غم کا سمندر ہے،
تیری یادوں کا سایہ میرے دل کے اندر ہے،
اے ماں، تیری کمی کبھی پوری نہ ہوگی،
یہ دل روتا ہے، تجھے پکارتا ہے ہر پل سر۔
مجھ پر تیرا احسان ہے، اے ماں،
کیسے بھلاؤں میں یہ تیرا گراں،
تیرے جانے سے زندگی سنوار نہ سکی،
ہر سانس میں ہے تیرا غم، تیری داستاں۔
آنکھوں سے آنسو، دل میں غم کا سایہ،
ماں، تیری یادوں سے اب دل نہیں گھبرایا،
یہ زندگی ہے ادھوری، تیرے بنا،
تیرے بغیر ہر پل ہے اک پچھتایا۔
تیرے بنا ہر شام اداس لگتی ہے،
زندگی اک بے معنی سی باس لگتی ہے،
اے ماں، تیری ممتا کے بغیر،
ہر پل اک تنہائی کی آس لگتی ہے۔
کبھی تیری خوشبو ہوا میں محسوس ہو،
دل بے چین ہو، دل بے قابو ہو،
اے ماں، تیری یاد ستاتی ہے بہت،
کاش! تیرا دیدار ہو، دل شاداب ہو۔
تیری دعائیں ہی تو میرا سرمایہ تھیں،
تیرے قدموں میں ہی تو جنت کی راہیں تھیں،
اے ماں، تیرے جانے سے سب کچھ بدل گیا،
اب بس تیری یادیں ہی میرے ساتھ تھیں۔
تجھ سے بچھڑ کر جینا مشکل ہے،
ہر لمحہ دل بے چین، دل بے بس ہے،
اے میری پیاری ماں، تیری یاد میں،
یہ دل روتا ہے، یہ جینا عذاب ہے۔
Death Sad Shayari In Urdu | موت پر غمگین شاعری

یہ دل کے درد کیسی داستان ہے
بچھڑ جانے کی کیسی پہچان ہے
زندگی کی شام جب ڈھل جائے
موت ہی بس آخری مہمان ہے
آنکھوں میں نمی، دل میں اک گہرا کرب
بچھڑ جانے والے تیری یادوں کا ہے سب
زندگی کی راہوں میں تنہا ہیں اب
کاش تو ہوتا یہاں، اے دل کے طلب
جو چلے گئے، وہ لوٹ کر کب آئیں گے
یادوں کے سہارے کیسے جی پائیں گے
یہ بچھڑ جانے کا غم، دل کو چیر جائے
جیتے جی ہم اداس، موت ہی شاید سکون لائے
ہر سانس میں تیری کمی محسوس ہوتی ہے
زندگی تو ہے، پر جینے کی امنگ سوتی ہے
یہ غم کی راتیں، کب صبح میں بدلیں گی
بچھڑ کر تیری یادیں، ہمیں کہاں لے جائیں گی
کیسی یہ دنیا، کیسی یہ ریت ہے
ہر کوئی یہاں، تنہا سفر کا میت ہے
اجاڑ کر سب کچھ، موت جب آتی ہے
پھر پیچھے صرف درد کی، ایک لکیر چھوڑ جاتی ہے
دل سے نکلے آہیں، آواز بن کر
یہ غم کا سمندر، طوفان بن کر
جو چھوڑ گئے، وہ پلٹ کر نہ آئے
دل ٹوٹ گیا، ہر خواب بکھر کر
زندگی کے رنگ، سب پھیکے لگتے ہیں
جب اپنے پیارے، بچھڑ کر ہمیں کہتے ہیں
یہ آنسوؤں کا سلسلہ، کب تھمے گا
دل کا درد، کس کو کہیں، جو بس دل میں ہی دمے گا
یہ کیسا سفر ہے، جہاں سب اکیلے
بچھڑ جانے والے، کیوں بن گئے ایسے
یادوں کے نشے میں، ہم تو جی رہے ہیں
موت کا ہی انتظار، بس کر رہے ہیں
آنکھوں سے گرتے آنسو، تراشتے ہیں دل پر
بچھڑ جانے کی یادیں، رہتی ہیں ہر پل
یہ زندگی کی بازی، موت ہی جیت جاتی ہے
پھر پیچھے صرف حسرتیں، اور اداسی رہ جاتی ہے
روح پر چھایا ہے، اداسی کا گہرا سایہ
بچھڑ جانے والے، کیوں تونے یہ راہ اپنایا
دل کا حال، کوئی کس طرح سمجھے گا
یہ غم کا بوجھ، اب کوئی کہاں رکھے گا
زندگی کا ہر لمحہ، اب اجاڑ لگتا ہے
تیرے بنا ہر خواب، ادھورا لگتا ہے
یہ بچھڑ جانے کا درد، دل سے نہیں جاتا
موت کا ہی سایا، اب ساتھ رہ جاتا ہے
یادوں کے سائے میں، ہم راتیں گزاریں
بچھڑ جانے والے، تیری حسرت میں پکاریں
یہ دل کی تڑپ، اب کس کو سنائیں
مر کر ہی شاید، ہم سکون پائیں
ہر سانس لیتی ہے، ایک نئی اداسی
بچھڑ جانے والے، تو نے دی ہے یہ کیسی
زندگی کا مفہوم، اب کھو گیا ہے
یہ غم کا اندھیرا، ہر سو چھا گیا ہے
آنکھوں کی نمی، دل کا الم
بچھڑ جانے کا احساس، بن گیا ہے وہم
کب تک یہ درد، ہم سہ پائیں گے
مرنے کے بعد ہی، شاید چین پائیں گے
یہ وقت کی گردش، کیا رنگ دکھائے
اپنوں سے بچھڑ کر، جی کیسے پائے
دل کے دکھ، گہرے، ناقابلِ بیان
موت ہی اب تو، بس ہے ہمارا مہمان
سناٹے میں گم، یہ دل کی صدا
بچھڑ جانے والے، کہاں ہو خدا
زندگی کی راہیں، اب تو ویران ہیں
بس موت کا ہی، ہمیں انتظار ہے جان
تیرے جانے سے، ہر خوشی ہے ادھوری
یہ بچھڑنے کی داستان، ہے بہت ہی مجبوری
غم کا بوجھ، اب دل میں نہیں سماتا
موت ہی آ کر، اسے اب تو سلا دیتا
یادوں کی چادر، اوڑھے بیٹھے ہیں
بچھڑ جانے والے، تیری راہ تکے بیٹھے ہیں
یہ اداسی کی راتیں، کب ختم ہوں گی
مر کر ہی شاید، ہم سکون پائیں گی
دل کے زخم، بہت گہرے ہو گئے
بچھڑ جانے کے غم میں، ہم بہہ گئے
زندگی اب بوجھل، یہ جینا عذاب
موت ہی ہو اب تو، ہمارا جواب
ہر پل تیری یاد، ستاتی ہے ہمیں
بچھڑ جانے والے، کب آئے گا وہ دم
جب یہ روح، جسم سے آزاد ہوگی
تب ہی شاید، کوئی بات شاد ہوگی
Death Par Shayari In Urdu | موت پر شاعری اردو میں

زندگی کا سفر ہے یہ، کچھ دن کا ہے کھیل
موت ہے وہ سچائی، جس سے نہ کوئی بچ سکے۔
ہر نفس ہے امانت، وقت کا ہے یہ میل
آخر سب کو لوٹنا ہے، رب کے پاس، یہ ہے اصل
جب سانسیں تھم جائیں گی، اور دنیا سے چلے جاؤ گے
یہاں کی دولت، شہرت، سب کچھ یہیں رہ جائے گی
کچھ نہیں ساتھ جائے گا، بس اعمالوں کی مالا
اسی دنیا میں تمہیں، اپنے اعمال کا صلہ ملے گی
موت وہ منزل ہے، جہاں سب کو پہنچنا ہے
یہ زندگی بس اک سفر ہے، اختتام تو ہونا ہے
جو یہاں کیا ہے ہم نے، وہی ساتھ جائے گا
بناؤ اپنے اعمال اچھے، کہ وہاں سکون پانا ہے
کوئی غمگین نہ ہونا، جب بچھڑ جائیں ہم
یہ تو خدا کا فیصلہ ہے، اس میں رضا رکھنا
ہم تو بس پردیسی ہیں، اک دن ہیں مہماں
پھر لوٹنا ہے اپنے گھر، یہی ہے اصل مدعا
کتنے آتے ہیں، کتنے جاتے ہیں، یہ دنیا کا دستور
خدا کی مرضی کے آگے، کسی کا زور نہیں
بس یادیں رہ جاتی ہیں، اور دعائیں ضرور
اچھے اعمالوں کی ہی، دنیا میں ہے قدر
ہر جاندار کو موت ہے، یہ بات ہے لازوال
جو آیا ہے اس جہان میں، اس کو جانا ہے
بنا لو رشتہ خدا سے، یہی ہے سب سے کمال
آخر اسی کی طرف، ہم سب نے لوٹ جانا ہے
کیا بھروسہ ہے زندگی پر، پل میں گزر جائے گی
پل میں ہنستا ہے کوئی، پل میں روتا ہے
یہی ہے دنیا کا حال، یہ فانی ہے
موت کا وقت تو مقرر ہے، سب کو آنا ہے
جب موت کا فرشتہ آئے، دل میں نہ کوئی ڈر ہو
عمل ایسے کیے ہوں، کہ چہرہ نور سے چمکے
یہاں کی محبت، ہنسی، سب فانی
آخرت کی تیاری، اسی میں سکون ملے
کچھ درد ہیں جو گہرے، کچھ یادیں ہیں جو لازوال
موت سب کو گلے لگائے گی، چاہے ہو کتنا ہی بدنصیب
یہ زندگی ہے اک خواب، جو آنکھ کھلنے پر ہوگا ختم
بس سچائی یہی ہے، سب کو ملنا ہے، موت کا نصیب
ہر شخص کا ہے مقدر، اک دن یہ دنیا چھوٹ جائے گی
یہاں کا ہر رشتہ، ہر ناتا، سب کچھ چھوٹ جائے گا
جو ساتھ جائے گا، وہ صرف نیک عمل ہی ہوگا
اسی لیے کہتے ہیں، اچھے کام کر جاؤ، سب کچھ کام آئے گا
یہ موت کا سفر ہے، جہاں سب کو تنہا جانا ہے
نہ کوئی دوست، نہ کوئی دشمن، بس رب کا ساتھ
کر لو توبہ گناہوں سے، جو ہے دل میں پانا ہے
یہی ہے زندگی کا اصل مقصد، یہی ہے اصل بات
جب سانس لینے میں دشواری ہو، اور جسم ہو بے جان
یاد آئے وہ سب پل، جو یہاں گزارے تھے
یہ دنیا امتحان ہے، اور موت ہے اس کا انجام
کیسے تھے یہاں کے رنگ، سب سامنے آئے تھے
ہر پھول کو مرجھانا ہے، ہر ستارے کو ڈوبنا ہے
یہ قدرت کا قانون ہے، کوئی اسے بدل نہیں سکتا
موت وہ حقیقت ہے، جس کا سب کو سامنا ہے
اس سے فرار ممکن نہیں، کوئی اس سے بچ نہیں سکتا
اگر جی رہے ہو دنیا میں، تو اچھے کام کر جاؤ
یہی تمہارے ساتھ جائیں گے، جب یہاں سے چلے جاؤ
یہاں کی لذتیں، خوشیاں، سب فانی ہیں
آخرت کی تیاری میں، ہی سکون پاؤ
کبھی ہنستے ہو، کبھی روتے ہو، یہ دنیا کا میلہ
کسے معلوم کب رخصتی ہو، کب آئے موت کا بلاوا
اپنے اعمال سنوارو، یہی ہے اصل پہلا
اسی میں ملے گی راحت، اسی میں ملے گا شفا
زندگی کا سفر ہے یہ، کبھی تیز، کبھی دھیرے
موت وہ منزل ہے، جہاں سب کا اختتام ہے
اپنے رب کو یاد رکھو، اسی میں ہے بھلائی
یہی ہے سچائی، یہی اصل پیغام ہے
یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے، سب نے گزر جانا ہے
جو یہاں رہ جائے گا، وہ نام ہوگا، یا پھر اک یاد
اپنے اعمالوں کی گٹھڑی، سنبھال کر لے جانا ہے
اسی میں پوشیدہ ہے، سب سے بڑی فریاد
کب وقت آئے گا، کسے خبر ہے، یہ راز ہے پنہاں
بس تیاری کر لو، اسی میں عافیت ہے
موت کا وقت متعین ہے، جب آئے گا مہماں
پھر نہ کوئی مہلت، نہ کوئی فرصت ہے
دل میں خوف نہ رکھو، بس رب پر یقین رکھو
اس کی مرضی کے آگے، سب بے بس ہیں
جو اس کی راہ پر چلے، اسی کا ساتھ دو
یہی ہے زندگی کا راز، یہی اس کا درس ہیں
پل میں یہ زندگی، پل میں وہ زندگی
موت کا جب بلاوا آئے، کوئی نہ رک سکے گا
یہاں کے غم، یہاں کی خوشیاں، سب فانی
بس رب کی رضا، تب ہی سکون ملے گا
Also Check: 150+ Best Badmashi Shayari In Urdu | بدمعاشی شاعری اردو میں
Conclusion
اس موضوع میں ہم نے موت کے گہرے فلسفے اور انسانی جذبات کو شاعری کی صورت میں پیش کیا ہے۔ Death Shayari In Urdu کے ذریعے ہم زندگی کی حقیقت اور اس کے اختتام پر روشنی ڈالتے ہیں، جو پڑھنے والوں کو ایک گہرا احساس فراہم کرتی ہے۔
یہ کلام ان گہرے جذبات اور سوچوں کو بیان کرتا ہے جو موت کے تصور کے ساتھ وابستہ ہیں۔ Death Shayari In Urdu دل کی گہرائیوں سے نکل کر انسان کو زندگی کے مقصد اور اس کی عارضی حیثیت پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ Death Shayari In Urdu کا یہ مجموعہ آپ کو پسند آیا ہوگا۔ یہ شاعری غم، جدائی اور زندگی کی ناپائیداری جیسے موضوعات پر مبنی ہے، جو قارئین کے دلوں کو چھو جائے گی۔

