Politics Shayari In Urdu: سیاست کی دنیا میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ ہم آپ کے لیے لے کر آئے ہیں Politics Shayari In Urdu کا خوبصورت مجموعہ۔ یہ اشعار سیاست کے گہرے حقائق بیان کرتے ہیں۔
سیاست کی پیچیدگیاں اور انسان کے جذبات کا اظہار Politics Shayari In Urdu میں ہوتا ہے۔ یہ اشعار دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں اور سچائی بیان کرتے ہیں۔
ان خوبصورت اشعار کو آپ اپنے اسٹیٹس پر لگا سکتے ہیں۔ Politics Shayari In Urdu آپ کی محبتوں اور جذبات کا بہترین اظہار ہیں۔
Politics Shayari In Urdu

سیاست کی دنیا ہے نرالی، ہر چہرہ یہاں ہے بدلا
وعدے سب ہیں جھوٹے، ہر لب پر ہے گلہ
کون ہے اپنا، کون ہے پرایا، سمجھنا ہے مشکل
الیکشن کا موسم ہے، ہر جانب ہے ہنگامہ۔
ووٹ کی خاطر لوگ بدلے، دغا بازی عام ہے
جمہوریت کے نام پر، ہوتا یہاں غلام ہے
دلوں میں نفرت بھرے، زبان پر مٹھاس رکھیں
سیاست کا کھیل ہے نرالا، ہر کوئی یہاں بدنام ہے۔
کرسی کی خاطر جھگڑے، اقتدار کی ہوس
عوام کی خاطر کوئی نہ بولے، بس اپنی ہی دھن
بدلتے ہیں چہرے، بدلتے ہیں نعرے
سیاست کی رات اندھیری، روشن کوئی شمع نہیں۔
شعر کہتے ہیں وہ، جو دل سے بولتے ہیں
سیاستدان تو صرف، اپنی جیبیں بھرتے ہیں
لوگوں کو بھٹکاتے ہیں، جھوٹے خواب دکھاتے ہیں
یہ کیسی حکومت ہے، جو عوام کو ہی ستاتی ہے۔
الیکشن آئے، الیکشن جائیں، کچھ بھی نہیں بدلے گا
وہی پرانے چہرے، وہی پرانی چالیں، سب یہی کریں گے
کبھی اس کے، کبھی اس کے، وفادار بدلتے رہیں گے
سیاستدانوں کا کیا ہے، وہ تو بس کھیل کھیلتے رہیں گے۔
بات کریں جب عوام کی، سب کی زبان بند
خود کے مفاد کی خاطر، ہر وقت ہیں سب مست
آواز اٹھانے والا، ہر دم رہتا ہے خوف زدہ
سیاست کی دنیا میں، کون ہے سچا، کون ہے بدکار۔
دھاندلی کا الزام، یہ شور مچاتے ہیں
خود جب جیتیں، تو سب درست بتاتے ہیں
قانون کی کتابیں، ان کے اشاروں پر چلتی ہیں
یہ کیسی عدالت ہے، جو ظالم کو ہی بچاتی ہے۔
ہاتھوں میں قلم نہیں، بندوقیں ہیں چمکتیں
سیاست کے میدان میں، جانیں ہیں قربان ہوتیں
لوگوں کی خدمت کا دعویٰ، دل میں تو کچھ اور ہے
سیاست کی گلیوں میں، ہر شے ہے بدنام۔
طاقت کا نشہ، جب سر پہ چڑھ جائے
انسان تو انسان، خدا کو بھی بھول جائے
عوام کا دکھ، عوام کا درد، کب سمجھیں گے یہ لوگ
سیاست کا یہ کھیل، کب تک چلے گا، کب تک سہیں۔
قسمیں اور وعدے، ہوا میں اڑ جاتے ہیں
جب کرسی کا لالچ، دل میں گھر کر جاتا ہے
یہ کیسی پارلیمنٹ ہے، جہاں صرف شور مچتا ہے
عوام کا حق مار کر، یہ اپنا وقت کاٹتے ہیں۔
سچ بولنے کی ہمت، آج کہاں ملتی ہے
ہر زبان پر جھوٹ، ہر بات بگڑتی ہے
اندھیرے میں ڈوب کر، خود کو روشن دکھاتے ہیں
سیاست کے رنگ ہیں گہرے، کون ان کو سمجھائے۔
بڑے بڑے جلسے، بڑی بڑی باتیں
سب رنگین ہیں، سب دلکش، سب ہیں سچی باتیں
پر جب وقت آتا ہے، سب بدل جاتے ہیں
سیاستدانوں کی فطرت، ہم کہاں سمجھ پائے۔
کبھی ملک کی خاطر، کبھی قوم کے نام پر
یہ بھیک مانگتے ہیں، ہر در پر، ہر بام پر
پر جب حق مل جائے، تو سب کچھ بھول جاتے ہیں
سیاست کا یہ سودا، کبھی نفع، کبھی نقصان۔
عوام تو غریب ہے، بس حق مانگتا ہے
مگر سیاستدان تو، بس اقتدار چاہتا ہے
یہ کیسی آزادی ہے، جہاں سب ہیں مجبور
سیاست کی یہ زنجیر، کب ٹوٹے گی، کب چھڑائیں۔
حکمران تو بن جاتے ہیں، بڑے ناز و نخرے سے
پر عوام کی حالت، دیکھتے ہیں شرم سے
بدلتے ہیں نام، بدلتے ہیں کام، مگر سوچ و فکر وہی
سیاست کا یہ روگ، کب جائے گا، کب ختم ہو۔
دلوں میں چنگاریاں، زبان پر تالے
کب تک یہ ظلم سہیں، کب تک یہ حالات بھالے
آواز اٹھانا جرم ہے، سچ بولنا گناہ
سیاست کی اندھیری رات میں، کب آئے گی صبح۔
ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، یہی ان کا کام
ملک کی ترقی سے، ہے ان کو کیا کام
اپنا اپنا ہی سوچیں، عوام کا کوئی نہیں
سیاستدانوں کی دنیا، نرالی ہے، سب ہی یہی کہیں گے۔
جھوٹے وعدے، دلفریب تقریریں
عوام کو بہکانے کی، یہ ہیں سب تدبیریں
پر اب وقت بدل گیا ہے، لوگ سمجھنے لگے ہیں
سیاستدانوں کی اصل اوقات، اب سب کو معلوم ہے۔
کبھی دائیں، کبھی بائیں، پلٹ جاتے ہیں
وفاداری کا مطلب، شاید بھول جاتے ہیں
ایسے لوگوں کے ہاتھ میں، ملک کی ہے تقدیر
خدا جانے کیا ہوگا، یہ سوچ کر دل ڈرتا ہے۔
سیاست کا یہ کھیل، کب تک یوں چلے گا
کب تک عوام کا خون، یوں ہی سارا جلے گا
جب تک یہ ظالم حاکم، تخت پر براجمان
تب تک اس ملک میں، کوئی سکون نہ پائے گا۔
Siyasat Shayari In Urdu

کچھ لوگ ہیں جو بدل جاتے ہیں وقت کے ساتھ
کچھ ہیں جو بدلتے ہیں اپنے مطلب کے ساتھ
سیاست کی دنیا میں سب ہیں بڑے کھلاڑی
ہر کوئی یہاں جیتا ہے اپنے ہنر کے ساتھ۔
کبھی ہار تسلیم نہیں کرتے، جیت کی خاطر
قلم اور تقریر چلاتے ہیں، ہر منظر کے خاطر
سیاست کے میدان میں، قدم جمائے رکھنا
عوام کا اعتماد ہی ہے، سب سے بڑا زیور۔
وعدے تو ہزاروں ہیں، حقیقت میں گم
کون ہے یہاں جو سمجھے، عوام کا غم
سیاستدانوں کی رنگینیاں، اپنی جگہ
ان کی چالوں سے بچنا، یہی ہے اصل کرم۔
یہ جو اقتدار کے بھوکے ہیں، یہ کیا جانیں
عوام کی مشکلات، وہ کہاں مانیں
اقتدار کی خاطر، سب کچھ کر گزریں
مگر یاد رکھیں، وقت بدلتا ہے، یہ نہ بھولیں۔
کچھ لوگ سیاست کے، پردہ نشیں ہوں
کچھ ہیں جو کھل کر، میدان میں کھڑے ہوں
ہر ایک کی اپنی کہانی، اپنا انداز
ہر ایک کے پیچھے، کچھ گہرے راز ہوں۔
یہ رنگینیاں جو سیاست میں نظر آئیں
کبھی سچ، کبھی جھوٹ، ہر رنگ میں بھائیں
ان کی دنیا ہی نرالی، ان کے کھیل الگ
عوام بیچاری، بس تماشائی بن جائے
چہرے پر مسکراہٹ، دل میں فریب
ایسے ہی لوگوں سے، خدا ہم کو بچائے
سیاست کا یہ کھیل، کب تک چلے گا
کب سچائی کا سورج، یہاں اب طلوع ہوگا۔
کبھی دوستی، کبھی دشمنی، سب کھیل ہے
یہاں بس ہر لمحہ، ایک نیا میل ہے
سیاستدانوں کا دامن، اقتدار سے بھرا
عوام کا حال، کبھی بدلتا نہیں
یہ جو قسمیں کھاتے ہیں، آسمان کی
خود کو بچاتے ہیں، اپنی زبان کی
مگر جب وقت آتا ہے، اصل امتحان کا
یہیں مکر جاتے ہیں، سب کچھ انسان کی
سیاست کی سرابوں میں، الجھ کر رہ گئے
سچ بولنے والے، سب کچل کر رہ گئے
یہ نیا دور، نیا تماشا، نیا منظر
یہاں بس اپنے لیے، سب پل کر رہ گئے۔
عوام کی آواز، کب سنو گے تم
ہر بار بس جھوٹ کے، پل باندھو گے تم
سیاست کے یہ وعدے، کب پورے ہوں گے
کب آس کا دیا، یہاں روشن ہوگا۔
کبھی ہاتھ ملا کر، دل میں خنجر
یہی ہے سیاست کا، سارا منظر
ان کی باتوں میں، مت آنا کبھی
یہ وقت کے ساتھ، بدل دیتے ہیں سب کچھ
یہ جو چہروں پر، چہروں کی نقاب
کب ہوگی ختم، یہ سب عذاب
سیاست کا یہ جال، بہت گہرا ہے
عوام بیچاری، اس میں الجھ کر رہ گئی
ووٹ کی خاطر، یہ گلے ملتے ہیں
پھر بعد میں، یہ سب بدلتے ہیں
یہاں کوئی نہیں، کسی کا سچا
بس اپنا مفاد، سب پالتے ہیں۔
کبھی اتحاد، کبھی پھوٹ، بس کھیل ہے
یہاں ہر قدم پر، نیا میل ہے
سیاستدانوں کی چالیں، سمجھنا مشکل
یہاں بس swoje مفاد، سب دیکھتے ہیں۔
یہ جو تخت کے بھوکے ہیں، یہ کیا جانیں
عوام کی تکلیف، یہ کہاں مانیں
یہاں بس اقتدار کی، جنگ جاری
عوام کے مسائل، سب بھولے پھریں۔
کبھی ہاتھ میں لوٹا، کبھی ہاتھ میں قلم
سب چلتا ہے یہاں، بدلتا ہے موسم
سیاست کی دنیا، بہت عجیب
کب کون ہے اپنا، کب کون ہے غم۔
یہ جو اقتدار کی، اونچی اڑان
کب ہوگی پوری، عوام کی پہچان
یہاں بس swoje راگ، swoje باتیں
عوام بیچاری، بس منتظر
کبھی دوستی کا لبادہ، کبھی دشمنی
یہاں سب کچھ ہوتا ہے، حسب منشا اپنی
سیاست کے یہ پیچ و خم
کب سمجھ میں آئیں، کب ختم ہوں۔
یہ جو تقریریں کرتے ہیں، بڑے جوش سے
حقیقت میں، سب کام کرتے ہیں ہوش سے
سیاست کا یہ کھیل، عجب
کب کون ہے سچا، کب کون ہے جھوٹ
Urdu Shayari For Leaders

ہر قائد کو یہ پیامِ خاص پہنچے
آپ کی سوچوں میں وہ راز پنہاں رہے
ہر قدم پر صداقت کا ساتھ رہے
رہنمائی کی مشعل روشن عیاں رہے۔
قوم کے لیے آپ کی ہر سوچ سنہری
رہزنوں سے پاک ہو آپ کی راہگزر
وفا شعاری کا درس ہو ہر دم
اور ملت کا ہو آپ پر ناز و اثر۔
وہ جذبہءِ ایثار جو دلوں میں جاگے
عزمِ بالجزم سے ہر مشکل آسان ہو
آپ کی تدبیر سے روشن ہو ہر سو
ہر فتنہ و شر سے ملک محفوظ رہے۔
طاقتِ ارادہ کو مضبوط کیجیے
حق کا پرچم بلند رکھنا ہے آپ کو
دیانت داری کا دامن نہ چھوڑیے
خدمتِ خلق کا حق ادا کرنا ہے۔
قیادت کا نشہ ہو تو ایسا دلنشین
جو سب کو ساتھ لے کر چلے، نہ ہو کوئی اداس
آپ کے افکار کی وسعت ہو ہر سو
منصفانہ فیصلے ہوں، دور ہو ہر پیاس۔
آپ کی بصیرت میں وہ نور ہو
جو تاریکیوں کو لمحوں میں مٹا دے
آپ کے فیصلوں میں وہ حق ہو
جو ہر مظلوم کو اس کا حق دلا دے۔
بڑھے چلو mengajak سے، منزل تمہاری
رہنمائی کا فن ہو، اسلوب تمہارا
پڑے جو مشکل، حوصلہ نہ ہارے
یہی ہے قائد کا اصل سہارا۔
قوم کا اتحاد ہے آپ کی میراث
اس کی پاسداری ہو، ہر آن، ہر دم
آپ کی قیادت میں پروان چڑھے
خوشحالی کا سورج، ہر شام، ہر دم۔
عزمِ نو کا منشور لیے آگے بڑھو
حکمت و دانائی کا پہلا قدم
آپ کی زیرکی سے روشن ہوں راہیں
ہر مشکل میں ثابت قدم، ہر دم۔
وہ قوم جو اپنے قائد پر کرے مان
اس کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو
آپ کے قول و فعل میں ہو سچائی
ہر دل میں امید کا دیا روشن ہو
ملک و ملت کی آپ ہیں پہچان
آپ کی سوچوں سے ہو آسماں روشن
ہر قدم پر حق کا ساتھ ہو
رہبرِ قوم، آپ ہیں سب کا چمن۔
وہ قائد جو دل سے کرے کام
اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئے
آپ کے دستِ شفقت میں ہو وہ سحر
جو ہر درد کو لمحوں میں مٹا جائے۔
بڑھے جاؤ، قیادت کا تاج سر پر
ہر قدم پر صداقت کا سائبان ہو
آپ کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں
آپ کی دعاؤں میں شامل ہمارا جہان ہو۔
وہ سوچ جو ملت کا بھلا سمجھے
وہ تدبیر جو تقدیر بدل دے
آپ کی قیادت ہو ایسی لازوال
جو ہر مشکل کو دو پل میں حل کر دے۔
آپ کی حکمت عملی ہو ایسی اٹل
کہ ہر ظلم و بربریت کا خاتمہ ہو
آپ کے حوصلے بلند ہوں ہر دم
ہر دل میں امید کا احساس ہو۔
وہ رہنما جو خود سے پہلے قوم کو دیکھے
اس کی عظمت کو ہر کوئی سلام کرے
آپ کی قیادت میں ہو وہ نورِ فطرت
جو زمانے کو امن کا درس دے۔
عزیمت کے پیکر، امید کا سہارا
آپ کی رہنمائی ہو ایسی دلکش
کہ ہر راہ پر پھول کھلیں
اور ہر دل میں پیدا ہو خوشی کا رس۔
قوم کی تقدیر سنوارو، اے قائد
آپ کی سوچوں کا ہو ہر سو اجالا
حق و انصاف کا راج ہو
اور ہر چہرہ ہو خوشیوں سے نہال
وہ قیادت جو خود مثال بنے
ہر قدم پر صداقت کی طرح رواں
آپ کی نیک نیتی ہو ایسی عیاں
کہ زمانے میں آپ کا نام ہو سدا جواں۔
سلام اس قائد پر جو خود قربان ہو
اپنی قوم کے لیے جو ہر پل جیئے
آپ کی قربانیوں کی لازوال داستان
آنے والی نسلیں ہر دم یاد کرے۔
Hukumat Shayari In Urdu | حکومت شایری اردو

وہ تاج جو سر پہ سجا ہے، وہ دربار عجب ہے
کبھی تخت پہ بیٹھے، کبھی ہو گئے دربدر
بدلتے ہیں رنگ یہاں، تخت کے وہ وارث
زمانے کی گردش میں، بنتے ہیں سب فقیر
جو خود کو سمجھے، زمانے کا حاکم
وہ لمحوں میں دیکھتا ہے، اپنی ہی شکست
حکومت ہے اک کھیل، فانی یہ سب شان
یقیناً بقا ہے بس، خدا کے ہی نام
کبھی تھی بلند پرواز، وہ شان و شوکت
اب خاک اڑتی ہے، جہاں تھا تاج و تخت
مگر وہ جو اللہ ہے، مالک ہر جہاں کا
اسی کے ہاتھ میں ہے، اصل تخت و تاج
کبھی وہ اٹھاتا ہے، ذلت کے گڑھوں سے
کبھی وہ گراتا ہے، عظمت کی اونچائیوں سے
نہ بھولے کبھی یہ بات، اے بندہ ناچیز
کہ تخت اور تاج ہے، سب دھوکہ و فریب
حقیقت میں وہی ہے، جو رب العالمین ہے
اسی کی ذات ہے، لاریب و بے مثل
یہ دنیا ہے اک مٹّی، کھیل فقط کچھ دن کا
یہاں کے سب نظارے، ہیں سب فریبِ چشم
جو بدلا تو بدل جائے، وہ قسمت تیری
اگر سمجھ گیا تو، پالے گا سچی جلا
حکومت سے نہ ڈر، اس جھوٹے فریب سے
ڈر اس سے جو ہے مالک، ہر وقت و ہر دم
یہ بادشاہی، یہ سلطنت، سب ناپائیدار
باقی رہے گا بس، اس کا کرم، اس کا فیض
وہ وعدہ جو رب نے کیا، وہ ہے سب سچا
بشارت دی ہے اس نے، عدل و ثواب کی
نہ سمجھ خود کو حاکم، خدا ہی ہے اعلا
یہی ہے اصل شایری، یہی ہے سچا قول
حکومت کا غرور، ہے لمحوں کا نشہ
پھر اتر جاتا ہے، جب آتی ہے موت
یہ تخت، یہ تاج، یہ مال و دولت سب
رہ جائیں گے یہیں، نہ کام آئیں گے
مگر جو نام اللہ کا، لیا ہے زبان پر
وہی ہے اصل دولت، وہی ہے بڑا کام
حکومت کرنے والے، ہیں سب بے بس
آگے جا کر سب نے، اسی کے سامنے جھکنا
تو کر وہ کام اچھے، جو خدا کو پسند ہوں
کہ تیرے ساتھ جائے، بس تیرا نیک نام
حکومت ہے اک سایہ، جو بدلتا ہے لمحہ بہ لمحہ
اور تیری ذات جو ہے، وہ ہے خدا کی دین
سب عیش و عشرت، ہیں لمحوں کی فریب
سب سے بہتر ہے وہ، جو کرتا ہے صبر
خدا کا خوف رکھ، اور نیکیاں کر
یہی ہے اصل حکومت، اور حقیقی کمال
جو کرتا ہے وہ دغا، وہ پائے گا سزا
جو کرتا ہے وفادار، وہ جائے گا بھلا
حکومت وقت کی، ہے اک عارضی پردہ
جو اٹھتا ہے تو سب، حقیقت کھل جاتی ہے
یہ سچ مانے اے انسان، کہ تو ہے عاجز
اور تیرا رب ہی ہے، اس سارے جہاں کا خادم
حکومت کی ہوس میں، گم نہ ہو جا
اس سے کہ تیرا مالک، تجھے دیکھے گا
یہ تخت و تاج، سب خاک میں مل جائیں
اور تیرا عمل، وہ ساتھ رہے گا
حکمران بدلتے ہیں، رنگ بدلتی دنیا
مگر اللہ کا حکم، ہے سب سے بڑا
یہاں کے سب مزے، ہیں سب ناپائیدار
آخرت ہی میں ہے، سچا سارا آرام
وہ جو اقتدار میں ہیں، وہ سمجھ لیں یہ بات
کہ آج ہے تو کل نہیں، یہی ہے دستور
اور جب آئے گی موت، تو کوئی مددگار نہیں
بس رب کا کرم، وہ دکھائے گا راستہ
حکومت کی ہوس، سے خود کو بچا
اور دل میں بسائے، محبت خدا کی
یہی ہے وہ شایری، جو سچ بتاتی ہے
کہ اس فانی جہاں میں، سب کچھ ہے فانی
وہ جو دعوے کرے، تخت کا، شہنشاہی کا
بھول جاتا ہے کہ سب، ہے اسی کے ہاتھ میں
حکمران وقت کا، بدل جائے گا اگر
نہ سمجھے وہ حقیقت، تیری ذات کی
یہ قدرت کا قانون، ہے سب پر لاگو
کوئی شاہ ہو، یا کوئی فقیر
مگر وہ جو رب کا ہے، وہ ہمیشہ رہے گا
اس کی رحمت، اس کا کرم، سب پر
حکومتیں بنتی ہیں، حکومتیں بگڑتی ہیں
مگر رب کی رضا، وہ ہے ابدی
تو دل میں اس کی محبت، بھر لے
یہی ہے اصل حکومت، تیری ذات کی
یہ تخت و تاج، ہیں سب فریبِ دنیا
جو سمجھ جائے، وہ پائے گا سکون
اور جو الجھا رہا، ان عیش و عشرت میں
وہ پھر ہاتھ ملے گا، وقت کے گزرنے پر
حکومت ہے اک لمحہ، جو گزر جائے گا
اور تیرا عمل، وہ باقی رہے گا
تو نیکیاں کما، اور رب کو منا
حکومت کا نشہ، سر پر نہ چڑھائے
یہ سب عارضی ہے، بس یہ یاد رہے
اور جب وقت آئے گا، سب کے جانے کا
تب اپنے رب کو، تو یاد کرے
یہ دنیا دارالعمل، ہے سب کے لیے
نہ حکومت، نہ تاج، کام آئے گا
مگر وہ جو رب کا حکم، مانے
وہی ہے سچا، اور کامیاب
حکومت کی گدی، ہے اک کھیل
جو بدلتا ہے، ہر پل
مگر رب کا تخت، وہ ہے ابدی
اور اس کا حکم، وہ ہے لازوال
تو اس کی پناہ مانگ، ہر دم
وہی تجھے رکھے گا، سب مصیبتوں سے
یہ دنیا ہے اک دھوکہ، سب سمجھ لو
اور بس اس کے ہو جاؤ، جو ہے سب کا مالک
حکومت کی رعایا، وہ سب برابر ہیں
تو کیوں غرور کرے، اے بندہ ناچیز
جب سب کو ہی ہے، اسی کے در پر آنا
یہ قدرت کا نظام، ہے اٹل
حکمران بدلتے رہتے ہیں، مگر خدا باقی
تو اس کے نام پر، جو کچھ کرے
وہی ہے اصل، اور باقی
حکومت ہے اک پردہ، جو اٹھ جائے گا
جب وقت آ جائے گا، تیرا جانے کا
تب تیرا عمل، وہ کام آئے گا
اور رب کا کرم، وہ ساتھ رہے گا
یہاں کے تخت و تاج، ہیں سب فریب
جو سمجھ گیا، وہ پائے گا منزل
اور جو بھٹک گیا، اس راہ سے
وہ پھر ہاتھ ملے گا، بہت دیر سے
حکومت کی دنیا، ہے مکھی پر مکھی
کوئی بادشاہ، کوئی گدا
سب نے آخر کو، مٹی میں ملنا
مگر وہ رب کا نام، وہ ہے سچا
تو اسی کو دل میں، بسائے
اور وہی تجھے، منزل دکھائے
یہ عارضی حکومت، ہے سب کے لیے
جو سمجھ گیا، وہ بدل جائے
اور جب آئے گا، حساب کا دن
تب وہی کام آئے گا، جو ہے نیک
حکومت کا یہ کھیل، ہے سب فریب
جو سمجھ جائے، وہ پائے گا چین
اور جو الجھا رہا، ان رنگوں میں
وہ پھر ہاتھ ملے گا، وقت گزرنے پر
یہ دنیا ہے اک امتحان
اور رب کا حکم، ہے لازوال
تو اس کے دامن میں، آ جا
وہی تجھے، سب غموں سے بچائے
حکومت کی ہوس، سے خود کو دور رکھ
وہی تیرے لیے، بہت بہتر ہے
اور جب آئے گا، تیرا وقت
تب تجھے سکون، ملے گا
یہ عارضی اقتدار، ہے سب کا
جو سمجھ گیا، وہ بنا انسان
اور جو خود کو، سمجھے خدائی
وہ پھر عبرت بنے گا، سب کے لیے
حکومت کی دنیا، ہے سب فانی
اور رب کی ذات، ہے باقی
تو اس کی رضا میں، راضی رہ
وہی تجھے، سب کچھ دے گا
یہ تخت و تاج، ہیں سب جھوٹ
جو سمجھ گیا، وہ پائے گا سچ
اور جو بھٹک گیا، ان فریبوں میں
حکومت ہے اک سایہ
جو بدلتا ہے ہر پل
مگر رب کا سایہ، وہ ہے ابدی
جو تجھے، سب سے بچائے
تو اس کی رضا مانگ، ہر دم
وہی ہے تیرا، اصل حاکم
یہ دنیا کی حکومت، ہے سب ناپائیدار
اور رب کی سلطنت، وہ ہے لازوال
تو اس کے در پر، جھک جا
وہی تجھے، عزت دے گا
حکومت کا غرور، ہے لمحوں کی بات
پھر اتر جاتا ہے، جب وقت گزر جاتا
مگر رب کا کرم، وہ کبھی نہ جائے
جو اس کی رضا میں، راضی رہے
یہ تخت و تاج، ہیں سب دھوکے
جو سمجھ گیا، وہ پائے گا سکون
حکومت ہے اک کھیل
مگر رب کا کھیل، وہ سب سے نرالا
جس میں تیری، بھلائی ہے
تو اس کی رضا میں، شامل ہو جا
وہی تجھے، سب خوشیاں دے گا
یہ دنیا کی حکومت، ہے سب فانی
تو اس کا نام، دل میں بسائے
وہی تجھے، سب سے بچائے
اور جب آئے گا، وقت جانے کا
Funny Political Poetry In Urdu

چلو جی سنیں اک بات نرالی
سیاست کی دنیا ہے یہ نرالی
ہر کوئی یہاں کرتا ہے دعوے
پر کام سب کے ہیں اب نرالے
وٹیاں پاؤ، واعدے ہزار
عوام کی سننا، بس ایک بہار
پھر الیکشن کا چکر، اور وہی شور
ہر بار یہی قصہ، دل ہے بیزار
کرسی کی خاطر، کیا کیا نہ ہوتا
لوگ بدل جاتے، رنگ نہ ہوتا
کل جو تھے یار، آج ہیں دشمن
یہ سیاست کا رنگ، کیسا یہ گہرا ہوتا
مہنگائی کا رونا، ہر لب پر ہے
حکمران کی بات، بس اک ڈھب پر ہے
وعدوں کے پل، کب بنیں گے
ہر روز نیا سوال، دل کے ڈھب پر ہے
حلقے میں جا کر، کرتے ہیں سیر
تب دکھاتے ہیں، سب کا غم اور میر
الیکشن کے بعد، بھول جاتے ہیں سب
عوام کا مسلہ، ہو جاتا ہے دب
عوام کی قسمت، تاروں میں لکھی
سیاستدان کی جیب، اب کچھ پھلی
کاموں کے بدلے، نوٹوں کی گنتی
یہ کیسی ریت، یہ کیسی سختی
نعروں کی گونج، فلک پر جاتی
بات کوئی سمجھے، یہ کب ہے آتی
عوام کی خاطر، بس اک نعرہ
دلوں کی بات، کب کوئی سناتی
حکمران کا عیش، عوام کی بدحالی
کب بدلیں گی یہ، تقدیریں خالی
کرسی کی خاطر، کرتے ہیں جھگڑے
یہ سیاست کی رسم، بڑی ہے نرالی
بات کریں جب، صرف اپنے فائدے کی
عوام کی بات، تو ہو جائے بجھتے
دھاندلی کا الزام، ہر بار لگتا
یہ چکر ہے کیسا، کب یہ رکے
قانون سب کے لیے، بس کہنے کی بات
طاقتور کی ہے، سب سے اونچی ذات
غریب کی فریاد، سنتا نہیں کوئی
یہ کیسی دنیا، کیسی یہ رات
باہر کے اشارے، اندر کی حکومت
کس کی چلے گی، کس کی ہے صورت
عوام بیچارہ، تماشائی بنا
یہ کیسی سیاست، کیسی یہ نوبت
ہر روز ایک نیا، قانون بنتا
غریب کی جیب، اور بھی تنگ ہوتا
سیاستدان کی جیب، اور ہی بھرتی
یہ کیسا حساب، یہ کیسا گھنا ہوتا
بزرگوں کا مشورہ، اور جوانوں کی طاقت
مل کر کر سکتے ہیں، حالات کی فتح
مگر یہاں تو صرف، انا کی جنگ
کب بدلیں گے یہ، بدل کے نیت
ہمارے لیڈر، سب ہیں لاجواب
پر کاموں کی بات، تو آ جائے عذاب
کرتے ہیں بڑے بڑے، وعدے ہمیشہ
پر پورے نہ ہوں، یہ ہے ان کا جواب
بات کریں جب، ملکی حالات کی
تو خود پردہ ڈالیں، اپنی اوقات کی
خود تو عیاشی میں، مست رہتے ہیں
اور عوام کو دیں، جھوٹی بات کی
یہ مائک پکڑ کر، بس بولتے جائیں
عوام کی مشکلات، کیسے سمجھائیں
خود کا ووٹر، خود کی پارٹی
اور باقی سب، کون ہیں، کون جائیں
خواب دکھاتے ہیں، سنہری کل کے
پر حقیقت میں، تاریک ہیں پل
عوام کا حق، دبا کے رکھتے
یہ کیسی لوٹ مار، یہ کیسی دل
کبھی کہتے ہیں، ہم ہیں غریبوں کے
کبھی کہتے ہیں، ہم ہیں سب کے
پر جب آتی ہے، ضرورت کی گھڑی
تو نظر نہیں آتے، وہ غریب کے
سیاست کا میدان، بڑا ہی خطرناک
پھلتا پھولتا ہے، جھوٹ کا یہ خاک
سچائی کی آواز، کب آتی ہے
بس جھوٹ کا راج، جھوٹ کا یہ تاک
اگر سوچیں، تو حیران ہوں
یہ نظام کیسا، سب پریشان ہوں
کب بدلیں گے حالات، کب آئے گی روشنی
بس دعائیں کریں، اور بے زبان ہوں
Also Check: 350+ Best Sahir Ludhianvi Shayari In Urdu | ساحر لدھیانوی کی شاعری اردو میں
Conclusion
سیاست کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کے تلخ و شیریں پہلوؤں کو محسوس کرنے کا ایک منفرد طریقہ Politics Shayari In Urdu پیش کرتا ہے۔ یہ کلام صرف الفاظ نہیں، بلکہ عوام کے دلوں کی آواز اور ان کی حقیقی ترجمانی ہے۔
جب ہم Politics Shayari In Urdu کے اشعار پڑھتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے کی عکاسی نظر آتی ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ فن عوام کے جذبات اور سیاسی صورتحال پر گہری نظر ڈالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
امید ہے کہ Politics Shayari In Urdu کے یہ اشعار آپ کے دل کو چھو لیں گے اور آپ انہیں اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹ کر اس فن کی خوبصورتی کو محسوس کریں گے۔ سیاست کی دنیا کو سمجھنے کا یہ انداز دلکش ہے۔

