Hazrat Ali Shayari In Urdu: جب بات دل کی گہرائیوں اور اسلامی تاریخ کے روشن ستاروں کی ہو، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ذکر لازمی ہے۔ یہاں ہم پیش کر رہے ہیں دل کو چھو جانے والی Hazrat Ali Shayari In Urdu کا خوبصورت مجموعہ جو آپ کے جذبات کو بیان کرے گا۔
یہ اشعار علم و حکمت اور گہرے عشق کی ترجمانی کرتے ہیں۔ حضرت علی کی شان میں کہی گئی یہ Hazrat Ali Shayari In Urdu آپ کے ایمان کو اور مضبوط بنائے گی اور آپ کو ان کی زبردست شخصیت کی یاد دلائے گی۔
آپ ان خوبصورت اشعار کو آسانی سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ یہ Hazrat Ali Shayari In Urdu آپ کے سوشل میڈیا کے لیے بہترین حیثیت (status) یا پیغام کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔
Hazrat Ali Ki Shan Mein Shayari In Urdu

خدا کی رحمت ہر پل رہے، علی کا نام دل میں بسا
علم کا نور، صدا رہے، ان کی عظمت پر فدا
حق و صداقت کے داعی، ہر دل میں جگا
کرم سے ان کے، ہم سب کی زندگی سنوارا
جوشِ ولایت میں، یہ دل دیوانہ ہے
منبعِ علم و حکمت، وہ ہیں، یہ فسانہ ہے
ان کی باتیں، جیسے شبنم کا ترانہ ہے
ہر مشکل میں، ان کا نام مددگار بنانا ہے
کونین کے سردار، ولیِ ربِ جلیل
علم کا سمندر، عدل کا پیکر، سبحان اللہ، کتنا جمیل
ہر بندے کے لیے، ان کا در ہے کفیل
کہتے ہیں سب، حیدری، حیدری، dźwię dźwię
وہ شیرِ خدا، جس کا نام ہے ذو الفقار
علم کا دروازہ، جس کے قدموں میں ہر بار
مصیبت کے وقت، وہ ہیں ہمار
ان کی شان میں کیا کہہ سکے، یہ بے بس اظہار
ان کی بات میں، سچائی کا نور ہے
ہر غم کا مداوا، ان کی نظر کا دستور ہے
دنیا و آخرت کا، ان کی ذات میں ظہور ہے
کہتے ہیں سب، یا علی، یہ دل کا شعور ہے
جب درِ خیبر گرا، ان کی قوت سے
دشمن تھر تھر کانپے، ان کی ہیبت سے
آج بھی ہم ہیں، ان کی محبت سے
دلوں میں زندہ ہیں، وہ اپنی نسبت سے
عقل تو دنگ رہ جائے، جب سنیں ان کی بات
کائنات جن کے نام سے، روشن ہر رات
ان کی دعا، قبولیت کا ہے سات
کریں ہم بھی عرض، یا رب، انہی کی ذات
فصاحت و بلاغت کا، وہ ہیں تاج
حکمت کے موتی، جن کی ہر آرزو اور کاج
دنیا و عقبیٰ میں، وہ ہیں سراج
نام ان کا، دلوں کا امان، ہر لمحہ، ہر راج
اگر ہو علم، تو وہ ہیں اس کا asal
اگر ہو عدل، تو وہ ہیں اس کا کمال
ہر مشکل کا حل، ان کی ذات میں شامل
کہتے ہیں لوگ، یا مولا، یہ ہے تیرا جمال
دنیا کی ہر شے، ہے ان کی عطا
ان کے دم سے ہے، زندگی کا ہر نشاط
کرتے ہیں دعا، ہر بندہ، خدا سے
ان کے قدموں میں، ملے ہمیں نجات
حق کا پرچم، وہ ہیں، صدا بلند
صداقت کا پیکر، ہر دل میں پسند
ان کی عظمت، ہے جیسے آسماں بلند
ہر مشکل گھڑی میں، وہ ہیں ہمدم، ہر سمند
وہ ہیں بابِ مدینہ، علم کے، سب جانتے ہیں
ان کے در پر، حاجتیں، سب مانگتے ہیں
دلوں کی گہرائیوں میں، وہ بستے ہیں
سب کہتے ہیں، یا علی، یہی صدا دیتے ہیں
ان کی شان نرالی، کیسا ہے وہ کمال
ان کے قول و فعل میں، سچائی کا جمال
ہر غم کا مداوا، ان کی ذات ہے، یہ ہے حال
کرتے ہیں سب، دعا، یا رب، انہیں کے بال
داتا ہیں، ولی ہیں، سب کے رکھوال
ان کی دعا سے، بدل جائے ہر حال
وہ ہیں علم کا دریا، وہ ہیں عدل کا جال
کہتے ہیں سب، یا مولا، ان کے ہوں ہم لال
صدیق و فاروق، عثمان و حیدر
ان کے نام سے، روشن ہر منظر
ان کی فضیلت، ہے جیسے آبِ کوثر
دل سے نکلتی ہے، ان کی مدح، اے دلبر
علم کا خزانہ، حکمت کا نشیمن
وہ ہیں وہ ہستی، جس کا ہے یہ دامن
ہر مشکل میں، ان کا نام ہے، مومن
کرتے ہیں سب، دعا، یا رب، ان کا ہو کرم
ان کی باتوں میں، سچائی کا ہے زور
ہر بندہ ان کی وجہ سے، ہے مامور
عشقِ مولا میں، دل ہے ان کا سرور
کرتے ہیں سب، نذرانہ، ان کے لیے، نور
وہ ہیں وہ ہستی، جن کا ثانی نہیں
ان کے دم سے ہے، ہر کام، ہر رجائی نہیں
ان کی نگاہ، ہے شفا، اس میں کوئی دوائی نہیں
کرتے ہیں سب، صدا، یا علی، کوئی برائی نہیں
جب بھی پکارو، وہ سنتے ہیں صدا
ان کے کرم سے، ملتی ہے ہر دوا
ان کی محبت، ہے سب سے بڑا خدا
کہتے ہیں سب، یا مولا، یہ ہے تیری ادا
علم و فن کے ہیں، وہ سردار
ہر دل کا ہے، وہ رازدار
ان کی دعا سے، ملتا ہے قرار
کرتے ہیں سب، نذر، ان کے لیے، یہ پیار
Hazrat Ali Par Shayari In Urdu

علیؑ کی شان نرالی، ہر دل میں بستے ہیں
کائنات میں ان کا چرچا، سب دل سے کہتے ہیں
غم ہو یا خوشی، نام ان کا لیتے ہیں
یہی تو مولائے کائنات کے سچے وارث ہیں، یہ سب جانتے ہیں۔
علم کا در ہیں علیؑ، حکمت کے تاجدار
ظلم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار
حق و انصاف کے وہ تھے علمبردار
ان کی عظمت کو سلام، وہ ہیں سب کے سردار۔
شیر خدا ہیں علیؑ، بہادر بے مثال
خیبر شکن ہیں وہ، جن کا کوئی نہ بدل
حق کی خاطر جیے، حق ہی پہ ہوئے پامال
ان کی سیرت سے سیکھیں، زندگی کا ہر کمال۔
مولیٰ علیؑ کی بات، دل کو لگتی ہے
ان کی باتوں میں سچائی، ہر دم جھلکتی ہے
اندھیرے میں روشنی، وہ ہی تو دکھتی ہے
ان کی تعلیم سے دنیا، خوب سنورتی ہے۔
ہے کوئی ایسا جو علیؑ کا ثانی ہو
جس کے علم کا ہمسر، کوئی دوسرا ہو
حق و صداقت کا جس کا، اک نشانی ہو
وہی تو ہیں مولائے کائنات، ان کا کوئی کیا ہو؟
دروازہ علم کے ہیں، وہ باب علم کا
ہر مشکل کا حل، کرتے وہ دم کا
کوئی نہ بھٹکے راہ سے، دیتے ہیں وہ ہمکَا
ولی ولی ہیں وہ، خدا کے حکم کا۔
ذکر ہے جب مولا علیؑ کا، دل خوش ہو جائے
ان کی سیرت کے صدقے، ہر غم مٹ جائے
ان کی چاہت میں، ہر مشکل سہہ جائے
یہی تو ہے عقیدت، جو دل میں بس جائے
غمگین دلوں کے سہارے، وہ ہیں علیؑ
بے کسوں کے آس پاس، وہ ہیں علیؑ
راہ حق کے پاسبان، وہ ہیں علیؑ
آقا کے دل کا قرار، وہ ہیں علیؑ۔
علم کی گہرائیوں میں، جو ڈھونڈتے ہیں
حضرت علیؑ کے در پر، وہ آ ملتے ہیں
حکمت کے موتی، وہیں سے بنتے ہیں
جو انہیں پکارتے ہیں، وہ سب سنتے ہیں۔
عدل و انصاف کے پیکر، مولا علیؑ
ظلم کے آگے سیسہ پلائی دیوار، مولا علیؑ
ہر مشکل کے حل، وہ ہیں مولا علیؑ
انسانیت کے روشن مینار، وہ ہیں مولا علیؑ۔
شانِ علیؑ کو کیا بیان کریں، لفظ کم پڑ جائیں
ان کی عظمت کا تذکرہ، فرشتے بھی گائیں
دنیا والے ان کے نام پر، نچھاور ہو جائیں
یہی تو ہیں مولا، جو سب کے دل چرائیں
ہر مسلماں کی زبان پر، نام ہے علیؑ کا
عشق و محبت میں ڈوبا، پیغام ہے علیؑ کا
خدا کی رضا کا، وہ کام ہے علیؑ کا
دین کی سربلندی کا، وہ نام ہے علیؑ کا۔
علم کا سمندر، سخاوت کا دریا
شجاعت میں بے مثل، حق کا ہی سایہ
فصاحت و بلاغت میں، کوئی نہ پایا
مولائے کائنات، علیؑ ہیں سب کا خدا
مصیبت میں گر پڑے، یا آ جائے کوئی دکھ
نامِ علیؑ لیتے ہی، دور ہو جائے سب شک
ان کی دعا سے ملے، ہر مشکل کا حل تک
ولیِ وقت ہیں وہ، جن کا ہے یہ سب حق
فخرِ کائنات ہیں، حضرت علیؑ
علم کے راز ہیں، حضرت علیؑ
دین کے نگہبان، حضرت علیؑ
سب کے غمگسار، حضرت علیؑ۔
یہ کس کی صدا ہے، جو دلوں کو چیرتی ہے
یہ کس کی بات ہے، جو نور سے بھرتی ہے
یہ کس کی شان ہے، جو خود کو سنوارتی ہے
یہی تو ہیں وہ مولا، جو حق پہ چلتی ہے۔
ہے کوئی ایسا جو بات کرے
مولا علیؑ کی شان میں، کچھ تو لکھے
ان کی عظمت کا، ہر دم ذکر کرے
یہی تو ہے مومن، جو علیؑ کو دیکھے۔
حکمِ خدا کا، وہ ہیں ترجمان
ہر دل میں ہیں بسے، وہ فرمان
ان کی محبت میں، زندگی ہے آسان
ولیِ وقت ہیں وہ، سب کا ہیں ارمان
جہاں حق کا بول بالا، وہاں نامِ علیؑ
جہاں ظلم کی رات، وہاں شامِ علیؑ
غم ہو یا خوشی، جو پکارے، وہ نامِ علیؑ
یہی تو ہیں وہ مولا، جن کی ہے ہر گامِ علیؑ۔
دلوں کے ارمان، وہ ہیں علیؑ
غموں کے مہمان، وہ ہیں علیؑ
صبر کے نشان، وہ ہیں علیؑ
حکمت کے جہان، وہ ہیں علیؑ۔
Hazrat Ali Ke Liye Shayari In Urdu

کراماتِ حیدر، عقلیں حیران
بخشا ہے جن کا، خدا نے ہے ایمان
جہاں میں مشہور، ہے نامِ علی
کرے جو ان کی، مدح و ثنا، وہ ہے جنّت کا مہمان۔
بدر و حنین کے، شہسوار ہیں
بت شکن و شیرِ خدا، وہ یار ہیں
کلمہ پڑھا جنھوں نے، حق کا سچ
وہ ہیں مولائے کل، سب پر وارث۔
علم کا دریا، صبر کا پہاڑ
انصاف کے معنی، شیرِ کردگار
نامِ علی، دلوں میں بس گیا
کوئی نہیں ان سا، دنیا میں غمگسار۔
لکھو الفاظ، جو دل کو چھو جائیں
حوالے ان کے، جو حق پہ قائم رہیں
وہ ہیں بابِ مدینہ، علم کے
ان کے قدموں میں، ہم سب سر جھکائیں۔
فصاحت و بلاغت، کی کیا بات
ان کی ہر بات، جیسے نورِ حیات
حق کا پرچم، لہرایا جنھوں نے
وہ ہیں مولا علی، جن کی شان ہے لاتعداد۔
بخشا ہے جن کو، رب نے ہے یہ مقام
کہ ان کا قول، ہی ہے دین کا سلام
وہ ہیں علی، ولیِ خدا
ان کا دامن، تھامے رہو، اے تمام۔
کوئی پکارے، یا علی مدد
آتی ہے ان کی، جوش سے ندا
غم کے ماروں کے، دکھ بانٹتے ہیں
وہ ہیں شیرِ خدا، جن کی ہے عظمت جدا۔
ہر مصیبت میں، ان کا نام لیں
ہر مشکل میں، ان کی جانب جھکیں
وہ ہیں سردارِ اولیاء
ان کے صدقے، رب سے دعا مانگیں۔
ان کی قربانی، کی کیا مثال
دینِ اسلام، کو دی ہے انہوں نے بال
وہ ہیں نورِ ازل، رمزِ خدا
ان کے جلو میں، ملے گا ہر سوال کا حال۔
دامنِ فیض، ان کا وسیع ہے
ہر حاجت روا، ہر دکھ کا علاج ہے
وہ ہیں بابِ علم، وارثِ انبیاء
ان کی الفت، ہی دین کا سراج ہے۔
کیا خوب لکھا ہے، کسی نے حال
مولا علی کا، ہے کیسا کمال
جو ان سے عقیدت، رکھے گا دل سے
بخش دے گا رب، اس کے سارے اعمال۔
سبحانی، ان کا لقب ہے
فیضانِ حق، ان کا سبب ہے
کیا کہیں ان کی، شانِ عظمت
وہ ہیں مولا علی، جن کا رب نے رب ہے۔
عدل و انصاف، ان کا منشور
ظلم و باطل سے، ہمیشہ ہیں دور
وہ ہیں حق کا، بولتا ہے ثبوت
ان کی عظمت، ہے ہر بندے پر نور۔
جو ان کی بات، پہ چلے گا
کبھی راستے سے، نہ بھٹکے گا
وہ ہیں امامِ حق، مولائے کل
ان کی محبت، ہی سب سے بڑا ہے رتبہ۔
کہا ہے رب نے، ان کے حق میں
کہ ان کا غم، میرا غم ہے، یہ سن
وہ ہیں نفسِ نبی، جانِ پیمبر
ان کی ولایت، سے ملتا ہے ہر فن۔
شیرِ خدا، کا ہے یہ فرمان
جو ہے حق پہ، وہی ہے مہمان
وہ ہیں رازِ الہٰی، عقل سے بالاتر
ان کی دعائیں، ہیں ہر دکھ کا درمان۔
ہر دل میں جلتا، ان کا چراغ ہے
ہر مشکل کا، ان کا ہی سراغ ہے
وہ ہیں آقا، مولا، سردارِ کرم
ان کی محبت، ہی سب کا بلاگ ہے۔
بخشا ہے ان کو، خالق نے یہ رتبہ
کہ ان کی زبان، ہی ہے حق کا لقبہ
وہ ہیں نورِ خدا، جو جگمگائے
ان کی مدح، ہی ہے دین کی طلبہ۔
وہ ہیں بحرِ معرفت، جس کا نہ کنارہ
ان کی صداقت، کا ہر دم ہے سہارا
وہ ہیں نامِ حق، سب سے بڑا
ان کے ذکر سے، ہوتا ہے غم دور سارا۔
جو سمجھ گیا، ان کی حقیقت
اس کی بگڑی، بنا دی رب نے صورت
وہ ہیں حیدرِ کرار، ولیِ مطلق
ان کی راہ پہ چل کر، ملے گی ہر خوشی، ہر راحت۔
Hazrat Ali Birthday Shayari In Urdu | حضرت علی کا یوم پیدائش شایری اردو میں

سرورِ کائنات کے نائبِ برحق،
آپ کی شان میں کیا کہیں ہم
یومِ ولادت کی یہ خوشی مبارک،
ولیِ کامل، آپ ہیں سب سے افضل۔
علم کا دریا، حکمت کا خزانہ،
آپ کا نام ہی ہے سب سے سہانا
حق و صداقت کے علم بردار،
آپ کا یومِ ولادت ہے عید کا دن پیارا۔
یا علی مدد، پکارتے ہیں سب
آپ کی ذات ہے سب سے بلند
آپ کی ولادت کا دن ہے یہ
ہم سب کو آپ کی ذات پہ ناز ہے۔
حق کے ترجمان، صداقت کے پیکر،
آپ کی ذات ہے سب سے افضل
یومِ ولادت مبارک ہو آپ کو
ہم سب کے لئے ہیں آپ ہی رہبر۔
شیرِ خدا، آپ کا نام ہے
ہر مشکل میں آسرا آپ کا نام ہے
آپ کی ولادت کی خوشی میں
آج ساری دنیا جھوم رہی ہے۔
عدل و انصاف کے آپ ہیں تاجدار،
آپ کا فیض ہے ہم سب پر
آج ہے یومِ ولادت آپ کا
کریں سلام ہم آپ کے در پر۔
علم و فن کے آپ ہیں امام،
آپ کی ذات پہ ہم سب کو ہے ناز
یومِ ولادت کی مبارکباد
آپ ہیں ہمارے سب کے امام۔
مدد کا نعرہ، یا علی مدد،
ہر مشکل کا حل ہے آپ کے دم سے
آج ہے آپ کی سالگرہ کے دن
دعا ہے ہر دم آپ کے کرم سے۔
فخرِ انسانیت، آپ کا لقب ہے
آپ کی عظمت کا کیا بیان ہو
یومِ ولادت کی خوشی میں
ہر دل محبت سے لبریز ہو۔
آپ کا قول، آپ کا فرمان
ہم سب کے لئے ہے رہنمائی
آپ کی ولادت کی خوشی میں
ہر سو ہے آج روشنی۔
شمعِ ہدایت، آپ ہیں وہ
جس سے روشن ہے ہر دل
آج آپ کے یومِ ولادت پر
کریں ہم سب آپ کا ذکر۔
حکمت و دانش کے امین
آپ کی ذات ہے سب سے عظیم
یومِ ولادت آپ کا مبارک
ہم سب کے دلوں کے ہیں آپ حبیب۔
حق کی آواز، حق کی صدا
آپ کا منشور ہے دنیا
آج آپ کی سالگرہ ہے
چھائی ہے خوشیوں کی ہوا۔
میدانِ جنگ کے شیر،
اور دل کے نرم، یا علی
آپ کی ولادت کی تقریب پر
کریں نچھاور جان و دل۔
آپ کے در کا ہم ہیں سوالی
آپ کی شفقت ہو ہم پر
یومِ ولادت ہے آج آپ کا
خدا کرے خوشیاں ہوں سدا۔
سب سے پہلے آپ نے حق کو مانا،
آپ کی عظمت کا نہ کوئی ثانی
آج ہے یومِ ولادت آپ کا
ہے یہ ہم سب پر احسانی۔
علم کا باب، آپ ہیں وہ
جس کے دَر پر علم ملے
آپ کی ولادت کے اس دن
ہر دل میں خوشیاں پلیں۔
صبر و استقامت کی آپ ہیں مثال،
ہر مشکل میں رہے آپ کا ساتھ
یومِ ولادت مبارک ہو آپ کو
بخشیں ہم سب کو اپنی نگاہ۔
آپ کی محبت دلوں میں ہے
آپ کا فیض ہے سب کے لیے
آج ہے یومِ ولادت آپ کا
دعا ہے ہر دم آپ کے لیے۔
یا علی، یا حیدر، یا مرتضیٰ،
آپ کی شان سب سے بلند
آپ کی ولادت کی خوشی میں
ہم سب ہیں خوش، ہیں مسرور۔
Hazrat Ali Akbar Shayari In Urdu

محرم میں جب یاد آئیں وہ کربل کی وہ شام
ظلم و ستم کی داستان، دلوں میں جلتے داغ
شہیدوں کے سر کٹے، روئے فلک کی آنکھ
علی اکبر کی قربانی، امر ہو گئی وہ آگ۔
کربلا کی مٹی، صدا دیتی ہے دلوں کو
حسین کے لال کی یاد، لرزاتی ہے رگوں کو
علی اکبر کی شجاعت، فخر ہے ہر جوان کا
دین کی خاطر قربان، نام ہے وہ امام کا۔
تیر جب جسم پہ لگے، خون کے فوارے چھوٹیں
والد کی آنکھوں کے سامنے، دنیا وہ روٹھے
علی اکبر کی للکار، قیامت تک گونجے گی
حق کی خاطر جان دینا، یہ سنت ہمیشہ رہے گی۔
لب پر ذکرِ خدا، آنکھوں میں وفا کا نور
لشکرِ ظلم پہ حملہ، بن کر شیرِ بہادر
علی اکبر کی جرأت، آج بھی دلوں میں بسے
نواسہِ رسول کے صدقے، ہر مصیبت سے بچے!
تیغِ حیدری چمکتی، جب وہ میدان میں آئے
دشمنوں کے دل دہلتے، موت کی نیند سوئے
علی اکبر کی عظمت، نسلوں کو سبق سکھائے
ظلم سے ٹکراؤ، حق کا پرچم لہرائے۔
شہیدِ کربلا کے گلشن، کے تم اک پھول ہو
خدا کی راہ میں قربان، تیرا جذبہ مقبول ہو
علی اکبر کا نام، لازوال داستان ہے
دینِ اسلام کا سرمایہ، تیری جان کا نذرانہ ہے۔
جب وہ گھوڑے پر سوار، حق کا نعرہ لگائے
روحِ اسلام کو زندہ، اپنی جاں سے بنائے
علی اکبر کی شجاعت، دنیا دیکھے حیران
حق کی خاطر قربان، یہ ہے تیرا احسان۔
تیرے جسم پہ لگے زخم، دلوں کو چیر جاتے ہیں
تیرے خون کے قطرے، عظمت کے گیت گاتے ہیں
علی اکبر کی یاد، کربل کی ہر اک صدا ہے
سچ کی خاطر جینا، تیرا فرضِ وفا ہے۔
وہ وقت بھی تھا کتنا غمگین، جب وہ میدان میں گئے
اپنے نانا کے دین پر، سب کچھ قربان کر گئے
علی اکبر کی قربانی، مثال ہے ہر زمانے کی
فکرِ کربلا سے روشن، دنیا ہر افسانے کی۔
تیری ہستی میں جھلکے، تیری ماں کی آنکھ کا نور
تیری چال میں موجزن، جیسے سلطانِ مغفور
علی اکبر کا دم، جوانوں کے لیے مشعلِ راہ
حق کے رستے پر چلنا، یہی ہے تیرا پرچمِ چاہ۔
تیری قربانی کا درس، آج بھی زندہ ہے
ہر دل میں تیری محبت، کی اک بندہ ہے
علی اکبر کا نام، روشنی ہے زمانے کی
شہادت کی منزل، تیری انتہا تھی جینے کی۔
تیرے عزم کو سلام، تیرے حوصلے کو داد
ظلمتوں سے لڑ گئے، بن کر حق کے سردار
علی اکبر کی یاد، دلوں میں ابھرتی ہے
کربلا کی داستان، ہر دم سناتی ہے۔
تیرے خون سے رنگا، کربلا کا وہ میدان
حق کا پرچم لہرایا، قائم کی تو نے شان
علی اکبر کا نام، امر ہے، لازوال ہے
دینِ حق کی خاطر، تیری جان کی مثال ہے۔
وہ شیرِ خدا کا بیٹا، جوانِ خوش بیاں
ہاتھ میں شمشیر لیے، حق کا وہ پاسباں
علی اکبر کی قربانی، دلوں میں بس گئی
کربلا کی ہر اک یاد، ہمیں روتے رہی۔
جب وہ اٹھے میدان میں، موت کو للکارا
دینِ اسلام کی خاطر، خود کو وار دیا سارا
علی اکبر کی داستان، ہر دل میں گونجتی ہے
حق کے راستے پر چلنا، وہ ہمیں سکھاتی ہے۔
تیرا جسم جب تیغوں سے، چھلنی چھلنی ہوا
غم سے والد کا دل، بوجھل ہو گیا
علی اکبر کی قربانی، روحِ وفا کی علامت
حق کی خاطر جینا، ہے تیری عظمت۔
وہ نوجوان جو حق پہ، قربان ہو گیا
اپنے لہو سے دین کو، سیراب کر گیا
علی اکبر کی یاد، دلوں کو تسکین دے
کربلا کی حقیقت، ہمیں سمجھائے۔
تیری شجاعت کی کہانیاں، آج بھی سنائی دیتی ہیں
تیری قربانی کی عظمت، ہر دل میں بسائی دیتی ہے
علی اکبر کا نام، ہے اک لازوال نشان
حق کے راستے پر چلنا، ہے تیرا احسان۔
یوں لگا جیسے آسمان، رو رہا تھا کربلا میں
جب حق کا شیر، گر پڑا تھا خاکِ صحرا میں
علی اکبر کی یاد، دلوں میں پائندہ رہے
غمِ کربلا کی صورت، ہر دم زندہ رہے۔
تیری قربانی نے سمجھایا، جینا کیا ہے
حق کے آگے جھکنا، سب سے بڑا صلہ ہے
علی اکبر کی یاد، ہمیں راہِ حق دکھائے
غمِ کربلا میں، دل کو ٹھہرائے۔
Also Check:350+ Best Dua Shayari In Urdu | دعا شاعری اردو میں
Conclusion
Hazrat Ali Shayari In Urdu کی گہرائی میں اترنا ایک روحانی تجربہ ہے جو انسان کو حق و صداقت کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ کلام ہمیں صبر، حکمت اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتا ہے۔
یہ اشعار دلوں کو سکون اور اطمینان بخشتے ہیں، اور حالات کی سختیوں میں بھی امید کی کرن روشن کرتے ہیں۔ Hazrat Ali Shayari In Urdu کو پڑھ کر مومن کی وابستگی اور عقیدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ Hazrat Ali Shayari In Urdu کا یہ مجموعہ آپ کے لیے معرفت اور نور کا ذریعہ بنے گا اور آپ اسے اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور بانٹیں گے۔

