Badmashi Shayari In Urdu: جب بات آتی ہے دل کی گہرائیوں اور جذبات کے اظہار کی، تو اردو شاعری ہمیشہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ آج ہم آپ کے لیے لائے ہیں ایک خاص مجموعہ، جسے ہم Badmashi Shayari In Urdu کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔
یہ اشعار صرف الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ان میں چھپا ہے اک انداز اور ایک اپنا پن۔ اس Badmashi Shayari In Urdu کے مجموعے میں آپ کو وہ تمام احساسات ملیں گے جنہیں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اپنے جذبات کو بہتر انداز میں ظاہر کرنے کے لیے اس منفرد مجموعے کا انتخاب کریں۔ یہ Badmashi Shayari In Urdu آپ کے لیے اسٹیٹس، کیپشن یا دوستوں کو بھیجنے کے لیے بہترین ہے۔
Badmashi Shayari In Urdu

جو بندوقوں سے کھیلتے ہیں، وہ اکثر ہتھیار ڈال دیتے ہیں
ہم تو الفاظوں کے شہنشاہ ہیں، جو دلوں پر راج کرتے ہیں
یہ تیری دنیا ہے، یہاں تیری اوقات بہت چھوٹی ہے
میری دنیا میں آ، تجھے بادشاہ بنا دوں گا۔
اک نظروں میں ہم نے دنیا فتح کر لی
تیری اوقات کیا، تیری اوقات تو بس کچھ بھی نہیں
ہم وہ ہیں جنہیں لوگ رستہ بدل کر سلام کرتے ہیں
تو وہی ہے جسے ہم نے کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں۔
تیری بدتمیزی تیری اوقات دکھاتی ہے
میری خاموشی بھی کمال کرتی ہے
بدلتے موسموں کا رستہ نہ پوچھ
یہ ہوائیں صرف ہمارے گیت گاتی ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو بڑا بدتمیز ہے
انہیں کیا خبر، یہ صرف سچ بولتا ہے
جو میرے راستے میں آیا، وہ خود مٹ گیا
میں وہ طوفان ہوں جو ہر شے کو لُوٹ لیتا ہے۔
یہ جو تیری نظروں میں غرور ہے نا
یہ تو کچھ دن کا کھیل ہے، بدل جائے گا
میں وہ تاریخ ہوں جو ہر بار دہرائی جاتی ہے
تو وہ لمحہ ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔
یہ دل کی باتیں ہیں، لفظوں میں کہاں
دل سے نکلا جذبہ، دنیا بدل دے
تیری اوقات کیا، میرے سامنے
میں وہ شہزادہ ہوں، جو خود تاج بناتا ہے۔
بدتمیزی کا الزام ہم پہ لگاتے ہو
یہ تو بس تمہاری سوچ کا نقص ہے
ہم تو وہ ہیں جو خاموشی میں طوفان رکھتے ہیں
اور تمہاری ہستی، بس ایک پل کی دھول ہے۔
جو تیری دوستی، وہ تو بس ایک فریب
ہماری وفاداری، خود ایک تاریخ
یہ بدتمیزی نہیں، یہ حق کا بولنا ہے
تیرا انداز، بس وقتی تماشہ ہے۔
لگائے پھرتے ہیں جو روُب، وہ کچھ دنوں کا ہے
ہماری گرج، آسمان ہلا دے گی
یہ بدتمیزی کی بات نہیں، یہ اختیار ہے
جو ہمارے سامنے آیا، وہ خود مٹ گیا۔
تیری اوقات سے باہر کی باتیں ہیں یہ
تیرے بس کی بات نہیں، یہ سمجھنا
ہم وہ ہیں جو قاعدے بدل دیتے ہیں
تو وہ ہے جو قاعدوں میں جیتے گا۔
بدتمیزی تو ترا شعار ہے
ہماری خاموشی ہی بد دعا ہے
یہ تیرا دور ہے، ابھی
کل ہمارا راج ہوگا، سن لے تو۔
یہ تیری دھونس، تیرا غرور، سب بھرم ہے
ہم وہ ہیں جن کا نام ہی کافی ہے
بدتمیزی تو اس کی جو خود بے بس ہو
ہم تو بس اقتدار کے وارث ہیں۔
یہ تیری اوقات، تیری مجبوریاں
ہم نے تو دنیا کو ہی بدل ڈالا
بدتمیزی کی بات تو تب ہو
جب ہم کسی کے سامنے جھکے ہوں۔
تجھے کیا خبر، یہ دل کا سودا ہے
یہاں لفظ نہیں، جذبات چلتے ہیں
بدتمیزی تو تیری چال ہے
ہم تو بس خود ہی بدل دیتے ہیں حالات۔
یہ تیری دنیا، تیری عیاشی
ہم نے تو swoje قوانین بنائے
بدتمیزی تو وہ جو ڈر جائے
ہم تو وہ ہیں جو خوف دلاتے ہیں۔
یہ تیرا غرور، تیری اوقات
ہم نے تو سب کچھ خود ہی بنایا
بدتمیزی کا الزام لگا کر کیا پائے گا
جب ہم خود ہی تیرا حساب کریں گے۔
بدتمیزی تو تیری پہچان ہے
ہماری خاموشی میں بھی طوفان ہے
تیرا وقت گزر جائے گا
ہمارا نام ہی سب کچھ ہے۔
یہ تیری اوقات، تیری ہستی
ہم نے تو خود ہی دنیا فتح کی
بدتمیزی کا مطلب تجھے کیا معلوم
ہم تو وہ ہیں جو وقت کو بدل دیتے ہیں۔
تیری بدتمیزی، تیرا غرور
سب خاک میں مل جائے گا
ہم وہ ہیں جن کا نام ہی کافی ہے
تیری اوقات بس اتنی ہے کہ ہم بھول جائیں۔
یہ تیری اوقات، تیرا اعتبار
ہم نے تو خود ہی سب کچھ سنوارا
بدتمیزی کا لیبل لگا کر کیا ہوگا
جب ہم خود ہی تیرا فیصلہ کریں گے۔
Badmashi Shayari In Urdu Sms

بدمعاشی کا نشہ ہے، آنکھوں میں شرارت ہے
قانون کا احترام کریں، ورنہ پھر ہماری باری ہے
ہم سے ٹکرانے کی سوچنا بھی مت
کیونکہ بدلہ لینے میں ہماری مہارت ہے
جو ہمیں جانتے ہیں، وہ ہمیں مانتے ہیں
اور جو ہمیں نہیں جانتے، وہ بس جلتے ہیں
ہماری دھاک ایسی ہے، کہ بڑے بڑے بھی ڈرتے ہیں
بدمعاشی ہمارے لہو میں ہے، ہم کب بدلتے ہیں
کہتے ہیں ہم شرارتی ہیں، ہم بگڑے ہوئے ہیں
مگر جو ہمارے ساتھ ہیں، وہ سب محفوظ ہیں
بدمعاشی کا سودا نہیں، یہ ہمارا مزاج ہے
طاقت کا نشہ نہیں، یہ تو بس ہمارا تاج ہے
لوگ کہتے ہیں ہمیں، کہ ہم بدل جاؤ
لیکن ہم اپنے رنگ میں ہی رہیں گے، تم کیا جانو
یہ دل کی بات ہے، نہ کسی سے ڈرتے ہیں
بدمعاشی کے بادشاہ ہیں، بس راج کرتے ہیں
آنکھوں میں وہ تیزی ہے، جو سب کو دکھا دے
دل میں وہ حوصلہ ہے، جو سب کو جھکا دے
بدمعاشی کا یہ کھیل ہے، ہمیں کھیلنا آتا ہے
جو سامنے آئے، اسے بس سبق سکھاتا ہے
ہمارے راستے الگ ہیں، ہمارے چلنے کا انداز
لوگ دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور ہم کرتے ہیں راج
بدمعاشی کوئی عادت نہیں، یہ تو ہمارا فن ہے
جو ہمیں چھیڑے، اسکا انجام بہت برا ہے
کبھی نرم، کبھی گرم، ہمارا انداز نرالا
دشمنوں کے لیے زہر، دوستوں کے لیے پیالہ
بدمعاشی کا یہ سفر، کبھی نہ رکے گا
جو ٹکرائے گا ہم سے، وہ پھر نہ سنبھلے گا
یہ بدمعاشی نہیں، یہ تو ہے حوصلہ
جو سامنے آئے، اسکے لیے یہ ہے وبا
ہمیں مت آزماؤ، یہ کھیل تمہارے بس کا نہیں
ہم وہ طوفان ہیں، جو سب کچھ بہا لے جائے
بدمعاشی کا یہ عالم، سب کو پیچھے چھوڑے
ہماری چلتی ہے یہاں، ہر کوئی پیچھے مڑے
یہ انداز نرالا ہے، یہ رعب ہمارا ہے
بدمعاشی کا یہ سفر، بس جاری ہمارا ہے
ہم سے دوستی کرو گے، تو فائدہ تمہارا ہے
اگر دشمنی کی، تو سمجھو نقصان تمہارا ہے
بدمعاشی ہماری پہچان ہے، یہ ہمارا حال ہے
جو ہمیں چھیڑے، اسکا برا ہی حال ہے
یہ بدمعاشی ہے، یا ہے ہمارا ارمان
سب کو ڈر لگتا ہے، جب ہم بنتے ہیں مہمان
ہماری طاقت کو سمجھو، یہ کوئی معمولی بات نہیں
بدمعاشی کے شہنشاہ ہیں، ہم کسی سے کم نہیں
ہم نے سیکھا ہے لڑنا، ہم نے جینا سیکھا ہے
بدمعاشی کی راہ پر، ہم نے چلنا سیکھا ہے
یہ ہمارا انداز ہے، یہ ہمارا مقام ہے
جو ہمیں روکے، اسکا برا انجام ہے
بدمعاشی کا یہ شور، سب کو سنائی دیتا ہے
ہمارا نام سن کر، ہر دل کانپتا ہے
یہ ہمارا طریقہ ہے، یہ ہمارا انداز ہے
ہم بدمعاش نہیں، ہم طاقت کا راز ہیں
یہ بدمعاشی کی طاقت، سب کو حیران کر دے
جو سامنے آئے، اسے یہ بے جان کر دے
ہماری ادا نرالی ہے، ہمارا رعب کچھ اور ہے
بدمعاشی کا یہ کھیل، بس ہمارا زور ہے
جو ہمیں جانتے ہیں، وہ سر جھکاتے ہیں
جو نہیں جانتے، وہ ہمیں آزماتے ہیں
بدمعاشی کا یہ نشہ، ہمیں ہر دم رہتا ہے
جو غلط کرے، اسکا برا وقت آتا ہے
یہ بدمعاشی کا جذبہ، کبھی کم نہ ہوگا
ہمارا نام سن کر، ہر کوئی دم بہ دم ہوگا
ہم وہ ہیں جو بدلتے نہیں، ہمارا حال وہی ہے
بدمعاشی کی دنیا میں، ہمارا راج وہی ہے
یہ دل کی گہرائیوں سے، نکلتی آواز ہے
بدمعاشی کا یہ انداز، ہماری پہچان ہے
ہم وہ ہیں جو ڈرتے نہیں، ہم وہ ہیں جو چلتے ہیں
دشمنوں کے لیے موت، اور دوستوں کے لیے جیتے ہیں
بدمعاشی کی یہ آگ، جو بجھتی نہیں
ہمارا نام سن کر، کوئی بھی ٹھہرتا نہیں
یہ ہمارا انداز ہے، یہ ہمارا مقام ہے
بدمعاشی کا یہ تاج، بس ہمارا نام ہے
ہمارے لہجے میں سختی، آنکھوں میں تیزی
یہ بدمعاشی ہے، نہیں کوئی مجبوری
جو ہمیں سمجھے، وہ ہمیں جانے
ورنہ بدمعاشی کے راج میں، سب کچھ بھول جائے
یہ بدمعاشی کا ہے راج، یہ ہے ہمارا انداز
جو ہمارے خلاف ہو، اسکا کوئی نہیں آواز
ہم وہ ہیں جو چلتے ہیں، اپنے دم پر
بدمعاشی کے شہزادے ہیں، دنیا کے ہر نگر
Punjabi Badmashi Shayari In Urdu | پنجابی بدمعاشی شاعری اردو میں

سنا ہے تیری محفل میں آج رونق زیادہ ہے
پر تیرے بنا یار، ہمیں کچھ یاد نہیں
بدنامی کے داغوں سے ہم ویسے ہی بھرے ہیں
تو جو ساتھ ہو تو، کوئی پرواہ نہیں
گردش میں ہیں ستارے، گردش میں ہیں راتیں
تیری یاد میں ہم، کر رہے ہیں باتیں
بدمعاشی کا دعویٰ تو بہت کرتا ہے
پر سچ پوچھو تو، کمزور ہیں تیری آنکھیں
شہر میں چرچے ہیں تیری بہادری کے
ہم نے بھی دیکھے ہیں تیرے سارے چکر
بدمعاشی تو ہے تیری فطرت میں شامل
پر دل میں ہے میرے لیے، پیار کا اک عنصر
یوں تو ہم بھی ہیں علاقے کے غنڈے
پر تیری نظروں کے ہم ہیں دیوانے
بدتمیزی میں تیرا نام سب سے اونچا
مگر محبت میں، ہم ہیں تیرے پروانے
بدمعاشی کا عالم ہے ہر طرف
رستہ نیا، منزل پرانی
تجھے دیکھ کر دل میں جو اٹھتی ہیں لہریں
وہ بدمعاشی سے بھی ہیں بڑی کہانی
تیری نظروں میں جو بدمعاشی چھپی ہے
دیکھ کر اس کو، دل میرا گھبرائے
پر اس دل نے تو تجھے ہی اپنا مانا
جو تجھے دیکھ کر، ہر غم بھول جائے
بات بدمعاشی کی تو ہم بھی کرتے ہیں
پر تیرے سامنے، سب دھیمے ہیں
تیری سادگی اور تیری اداؤں نے
ہمیں تیرے عشق میں، سب کچھ بھلا دیے ہیں
بدمعاش ہے دنیا، بدمعاش ہیں لوگ
کون ہے سچا، کون ہے جھوٹا
لیکن جب تو سامنے آتا ہے میرے
ہر بدمعاشی کا، دل سے ہوتا ہے خاتمہ
تیری آنکھوں میں جو بدمعاشی جھلکے
وہ دل کو میرے، تسکین دے جائے
لوگ تجھے کہیں بدمعاش، ہم کہیں جان
تیرے پیار میں، یہ دنیا بھلا جائے
بدمعاشی کا شور ہے، تیری آواز میں
پر تیری ہر بات، دل کو لگتی ہے
تجھ سے ملنے کی خواہش تو بہت ہے
پر تیری ادا، ہمیں اور جکڑتی ہے
کبھی بدمعاشی، کبھی معصومیت
تیری اداؤں کے سب عاشق ہیں
ہم نے تو بس تجھے ہی اپنا بنا لیا
تیرے بغیر، ہم بے بس ہیں
تیری بدمعاشی کی داستانیں
سنتے ہیں سب، کان لگا کر
پر جب تو سامنے آتا ہے میرے
بھول جاتا ہوں سب، خود کو بھلا کر
یہ بدمعاشی تو تیری پہچان ہے
پر دل میں تیری، محبت کا نشاں ہے
ہم تو بس تیری اک نظر کے طالب
تو خدا کا دیا، انمول ارمان ہے
سنا ہے بڑا بدمعاش ہے تو
پر تیری آنکھوں میں، پیار کا دریا ہے
ہم تیرے دیوانے، تو ہماری دنیا
یہی ہماری، سچی صدا ہے
بدمعاشی سے لے کر، تیری سادگی تک
ہر ادا میں تیری، اک بات ہے
ہم نے تو تجھے ہی اپنا خدا مانا
تیرے عشق میں، ہر غم مات ہے
تیری بدمعاشی کی قسم
دل میں تیری، یاد بس گئی ہے
یہ دنیا تو ہے، رنگین لیکن
تیرے بغیر، سب بے بس ہے
لوگ کہتے ہیں، تیری ادا نرالی
بدمعاشی بھی، پیاری لگتی ہے
ہم تو تجھے ہی اپنا بنا بیٹھے
ہر گھڑی، تیری یاد ستاتی ہے
تیری بدمعاشی کا ذکر
ہر محفل میں ہے
پر میرے دل میں، تیرا نام
سب سے جاندار ہے
بدمعاشی تیری، ادا تیری
سب کو بھاتی ہے
پر میرے دل میں تو
فقط پیار کی صورت بناتی ہے
گردش ایام میں، تیری بدمعاشی
مجھے راس آئی ہے
تیرے عشق میں، یہ دنیا
دھندلائی ہے
Shayari In Urdu Badmashi Attitude | اردو میں بدمعاشی ایٹیٹیوڈ کی شاعری

جو وقت آنے پہ پہچان لیں اپنے یار پرائے،
ایسے لوگ ہمارے سر کا تاج ہیں
بدمعاشی تو بس ایک انداز ہے ہمارا،
اور ہمارے انداز، ہمارے ہی فین ہیں۔
گردش وقت سے ڈرتے نہیں ہم،
حالات کے سامنے جھکتے نہیں ہم
بدمعاشی ہمارا طریقہ نہیں،
یہ تو تقدیر ہے جو بدلتے نہیں ہم۔
وہ جو کہتے ہیں کہ ہم بدل گئے،
انہیں بتا دو کہ حالات بدل گئے
اب وہ وقت نہیں رہا ہمارا،
یہ تو نیا دور ہے، نئے انداز بدل گئے۔
کچھ لوگ دل میں اتر جاتے ہیں،
کچھ وقت کے ساتھ گزر جاتے ہیں
ہم وہ ہیں جو اپنی پہچان بناتے ہیں،
بدمعاشی کا سفر، اپنی ذات پہ چلاتے ہیں۔
لوگ بدل جاتے ہیں، دنیا بدل جاتی ہے،
کبھی کبھی قسمت بھی روٹھ جاتی ہے
مگر ہمارا ایٹیٹیوڈ اور بدمعاشی،
یہ تو ایسی ہیں کہ کبھی نہ بدلی جاتی ہیں۔
میں وہ طوفان ہوں جو خود چل کر آتا ہوں،
کسی کو روکنے کی ضرورت نہیں
میری بدمعاشی میرا وقار ہے،
اسے میری کمزوری مت سمجھنا، یہ میرا اختیار ہے۔
ہم سے مت الجھو، ورنہ پچھتائو گے،
دل میں جو دشمنی ہے، وہ بڑھائو گے
یہ ایٹیٹیوڈ اور یہ بدمعاشی،
ہماری پہچان ہے، اسے خاک میں نہ ملاؤ گے۔
وہ جو سمجھتے ہیں ہمیں کمزور،
انہیں ہم اپنی اوقات دکھائیں گے
بدمعاشی کا علم ہم نے بلند رکھا ہے،
اور سب کو اپنا ہدف بنائیں گے۔
عزت ملے تو قبول ہے، ورنہ نہ ملے،
ہم کسی کے سامنے جھکتے نہیں
یہ بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ ہمارا،
ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمیں سمجھ نہ سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ میں بدل گیا ہوں،
انہیں کہاں خبر ہے کہ میں سنور گیا ہوں
اب میری بدمعاشی اور میرا ایٹیٹیوڈ،
اس طرح ہے کہ دنیا خود بدل گئی ہے۔
ہم وہ ہیں جن کی نظروں میں تیزی ہے،
دل میں جوتوں سے بھی زیادہ سختی ہے
بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ سے کام لیتے ہیں،
اور دنیا کو اپنی انگلیوں پہ نچاتے ہیں۔
جو ہمیں برا کہے، وہ ہمیں جانے،
ہم خود اپنے انداز کے دیوانے
بدمعاشی اور یہ ایٹیٹیوڈ ہمارا،
یہ وہ ہیں جو ہمیں ہر مشکل سے بچائے۔
خدا نے اگر ہمیں بدمعاش بنایا ہے،
تو ضرور کوئی بات ہوگی
ورنہ یوں ہی کسی کو ایٹیٹیوڈ،
اور یہ انداز کہاں ملتا ہے۔
ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھنا،
یہ تو طوفان سے پہلے کی تیاری ہے
بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ ہمارا،
یہی تو ہماری اصل پہچانی ہے۔
وہ جو ہم سے جلتے ہیں، جلتے رہیں،
ہم تو اپنی راہ پر چلتے رہیں
بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ کا یہ سفر،
ہمارے ساتھ ہی اب چلتا رہے گا۔
دل میں سختی ہے، مگر دل صاف ہے،
یہ بدمعاشی صرف ایک پردہ ہے
ہمارا ایٹیٹیوڈ، ہمارا کمال ہے،
اسے سمجھنے کے لیے، وقت اور ہمت چاہیے۔
ہم وہ ہیں جن کی گنتی نہیں ہوتی،
پر جن کا چرچا عام ہوتا ہے
بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ سے ہی تو،
ہر دل پر راج ہمارا ہوتا ہے۔
کبھی نفرت، کبھی پیار، کبھی عداوت،
سب ہمارے ہی رنگ ہیں
یہ بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ ہمارا،
یہی تو ہماری شناخت ہے۔
جو سمجھ جائے، وہ دوست ہمارا،
جو نہ سمجھے، وہ ہم سے دور رہے
بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ کا یہ کھیل،
بس انہیں کے لیے ہے جو قدر کرے۔
یہ جو دنیا ہے، بڑی عجیب ہے،
یہاں سب اپنے رنگ دکھاتے ہیں
پر ہم اپنی بدمعاشی اور ایٹیٹیوڈ سے،
سب کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔
Badmashi Wali Shayari In Urdu

جب ہم آنکھوں میں شرارت لائیں، تو سمجھ لو کچھ ہونے والا ہے
اپنی چال چلنے کا جب وقت آئے، تو زمانہ دیکھنے والا ہے
ڈھونڈتے پھرتے ہو ہمیں گلیوں میں، پر ہمارا انداز نرالا ہے
ہمارے نام سے ہی کانپتا ہے دل، یہ تو بس آغاز ہے، انجام آنے والا ہے!
بدمعاشی کیا ہے، ہم سکھائیں گے دنیا کو
اپنا راج چلائیں گے، خود ہی بنائیں گے دنیا کو
جو ہمارے راستے میں آئے گا، اسے مٹا دیں گے
پھر اپنی مرضی کا نقشہ، ہم سجائیں گے دنیا کو!
سنا ہے گشت کر رہے ہو، ہماری گلی کے آس پاس
سن لو، یہ علاقہ اب ہمارا ہے، نہ کرنا کوئی ہراس
ذرا سی غلطی پر، تمہاری دنیا الٹ دیں گے
ہم بدمعاش ہیں، اور ہمارا رعب ہے خاص!
نہ چاہت تھی کسی کو دلانے کی، نہ نفرت تھی کسی سے
بس جو من میں آیا، وہی کر گئے، بغیر کسی ڈر یا ڈرے
ہمارے مزاج میں بدمعاشی تھوڑی زیادہ ہے
جو ٹکرائے گا، وہ سمجھے گا، زندگی کی اصل ہے پڑھے!
جو بات زبان پر آئے، وہ پوری ہو کر رہتی ہے
گر گالی دیں تو گالی، ورنہ دعائیں بانٹتی ہے
ہمیشہ اپنے قانون پر چلتے ہیں، کسی کی نہیں سنتے
یہ بدمعاشی ہے ہماری، جو سب کو چُپ کراتی ہے!
آنکھوں میں جو ہے، وہ شرارت ہے، دل میں جو ہے، وہ طوفان
قدم جہاں پڑے، وہاں مچ جائے، دشمنوں میں ہا ہا کار اور جان
بدمعاشی کا نشہ ہے، یا بس اپنا ہی انداز ہے
جو بھی ہے، جب ہم نکلیں، تو ہر طرف بس ہمارا ہی نام ہے!
سنو، جب ہم چلتے ہیں، تو خود ہی دنیا بدلتی ہے
یہ کوئی دعویٰ نہیں، یہ حقیقت ہے، جو روز بدلتی ہے
بدمعاشی کا وہ نشہ، جو ہمارے خون میں شامل ہے
جو روکے گا ہمیں، اس کی زندگی، ہمیشہ رُکتی ہے!
توں سمجھتا ہے کہ تیرا راج ہے، ہر طرف تیری ہی بات
پر مجال ہے تیری، جو ہماری اجازت کے بغیر، کر سکے کوئی رات
یہ علاقہ، یہ شہر، یہ گلی، سب ہمارے زیرِ اثر ہے
بدمعاشوں کا قانون ہے یہ، تیری اوقات سے باہر ہے!
اگر ہم چپ ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈر گئے
بس لمحے کا انتظار ہے، جب سب کچھ بدل جائے گا، جب ہم اُٹھ کھڑے
بدمعاشی کا وہ طوفان، جو اب آنے والا ہے
تیرے سارے تکبر کے بت، پل میں گر جائیں گے، جب ہم بدل گئے!
ہمیں نہ سکھا carreteras، ہم خود ہی راستے بناتے ہیں
جو سامنے آئے، اسے سبق سکھا کر، اپنی اوقات بتاتے ہیں
یہ شرارت، یہ بدمعاشی، سب کھیل ہمارا ہے
جب دل چاہے، کسی کو بھی، کہیں کا کہیں پہنچاتے ہیں!
وہ کہتے ہیں، ان سے دور رہو، وہ بدمعاش ہیں، بڑے خطرناک
پر ہمیں تو انہی کی اداؤں پہ، آ جاتا ہے پیار، یہ بات ہے خاص
کچھ اپنے ہی اصول ہیں، کچھ اپنے ہی انداز
زندگی کو جینا ہے، تو ہم سے سیکھ لو، یہ بدمعاشی کا ہے راز!
ہر قدم پر ایک کہانی، ہر بات میں ایک نیا انداز
ہم چلیں تو رُک جائے زمانہ، یہی ہے ہمارا اعزاز
بدمعاشی کوئی سیکھ نہیں سکتا، یہ تو بس وراثت ہے
جن کے لہو میں ہے یہ، وہی بنتے ہیں، دنیا کے شہنشاہِ باز!
جو تیرا ہے، وہ میرا ہے، اور جو میرا ہے، وہ صرف میرا ہے
یہ اصول ہے ہمارا، یہ قانون ہے ہمارا، یہی ہمارا سپیرا ہے
بدمعاشی کے کھلاڑی ہیں ہم، اور جیتنا ہی ہماری فطرت
جو ٹکرائے گا، وہ سمجھے گا، کس مٹی کا ہے یہ میرا ہے!
تیرے دعووں کی حقیقت، ہم نے اچھی طرح جان لی
اب تیری مجال کہاں، کہ تو ہماری حد پھلانگ سکے، یہ بات مان لی
یہ بدمعاشی کا تاج، بس ہمارے سر پر ہی سجتا ہے
جو سامنے آیا، وہ مٹ گیا، تیری ہر امید، خاک میں مل گئی!
کچھ لوگ ہیں جنہیں ہم سے شکایت ہے
پر ان کی شکایت صرف ہماری بدمعاشی کی صورت ہے
ہم نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا
بس جو دل میں آیا، وہ کر گئے، یہی ہماری عادت ہے!
جب آنکھوں میں شرارت بھر جائے، دل میں جوش بڑھ جائے
سمجھ لینا، اب طوفان آنے والا ہے، جو سب کچھ بدل جائے
بدمعاشی کا نشہ ایسا، کہ ہوش ہی نہ رہے
جو بھی سامنے آئے، وہ خود ہی، اپنے انجام کو پہنچ جائے!
ہماری نظر میں، سب برابر ہیں، سب ایک ہی صف میں
پر جب بدمعاشی کا موڈ آئے، تو سب سر جھکاتے ہیں، اپنی جگہ میں
یہ ہمارا انداز ہے، یہ ہمارا ہی طریقہ
جو ہمیں چھیڑے گا، وہ پائے گا، زندگی کا وہ صدمہ!
دل میں جو آ جائے، وہ کر گزرتے ہیں، پرواہ نہیں کسی کی
یہ بدمعاشی ہے ہماری، یہ عادت ہے ہماری، یہ زندگی ہے جی
اگر برا لگے تو لگ جائے، ہمیں اس سے کیا فرق
جب تک سانس ہے، یوں ہی جیئیں گے، یہی ہے ہمارا عزم!
نہ ڈر، نہ جھک، بس چلتا جا، یہی ہمارا اصول ہے
جو تیرا راستہ روکے، اسے ہٹا دے، یہی ہمارا وصول ہے
بدمعاشی میں بھی ایک بھلائی ہے
کہ جو ٹکرائے، اس کی غلطی، اس کی سزائے موت ہے!
کبھی ہم بن جاتے ہیں، طوفان، کبھی بن جاتے ہیں خاموش
پر جب بدمعاشی کی بات آئے، تو سب کی زبانیں بند، ہونٹ خاموش
یہ ہمارا رعب ہے، یہ ہمارا انداز
جو ہمارے سامنے ٹھہر جائے، وہ ہی ہے، دنیا کا سب سے بڑا باز!
Badmashi Shero Shayari In Urdu

بدتمیزی کی بات جب آتی ہے، تو ہم سب سے آگے ہیں
یہ انداز ہمارا ہے، جو سب کو بھاتا ہے
دل میں کوئی خوف نہیں، بس جینے کا جذبہ
یہ بدتمیزی ہماری، زندگی کا ایک حصہ۔
چہرے پہ سادگی ہے، پر دل میں طوفان
یہ انداز اپنا ہے، جو سب سے ہے پہچان
بات کرنے کا سلیقہ، ہم سے سیکھ لو
یہ بدتمیزی ہماری، بس اک جھلک ہے۔
جو ہم سے ٹکرائے گا، وہ خود ہی پچھتائے گا
ہمارا انداز نرالا، سب کو نظر آئے گا
باتوں میں ہے تیزی، اور دل میں ہے سچائی
یہ بدتمیزی ہماری، کبھی نہ مٹ پائے گی۔
ہم ہیں وہ جنہیں دنیا، کچھ بھی نہ کہہ سکے
اپنا رنگ دکھانے کا، کوئی ہمیں نہ روک سکے
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس خود اعتمادی
زندگی کا فلسفہ ہے، یہ ہماری یادگار۔
انداز اپنا نرالا، انداز اپنا جدا
کون ہے جو سمجھ سکے، یہ کہانی جدا
بات کریں گے دل سے، اور کریں گے سچ
یہ بدتمیزی ہماری، ہے اک خاص فنچ۔
یہ خاموشی ہماری، کسی طوفان سے کم نہیں
جب بولیں گے تو سنو گے، یہ ہماری قسم نہیں
یہ بدتمیزی ہماری، بس ایک نظر کا دھوکہ
دل میں ہے وفا، اور لب پہ ہے سچ کا چمکا۔
جو راستے میں آئے، وہ خود ہی ہٹ جائے گا
ہمارا انداز ایسا، سب کو بھا جائے گا
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس حق کی بات
زندگی ہے اپنی، اور بنائیں گے اوقات۔
دل میں جو ہے، وہی لب پہ آ جاتا ہے
جھوٹے وعدے، ہم سے کہاں نبھایا جاتا ہے
یہ بدتمیزی ہماری، سچائی کا ہی نام
زندگی کا سفر ہے، اور اپنا ہے مقام۔
کبھی نرم دل، کبھی سخت لہجہ
یہ انداز اپنا ہے، جو سب سے ہے نرالا
بدتمیزی کا نام، یہ ہم نے نہیں رکھا
یہ تو بس ہماری، زندگی کا سبق ہے۔
جو نظر اٹھا کر دیکھے، اسے نظریں جھکانی پڑیں
ہمارا انداز ایسا، سب کو بات سمجھانی پڑیں
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس وقار ہے
زندگی کا سفر ہے، اور اپنا دربار ہے۔
کہتے ہیں ہمیں بدتمیز، پر ہم تو بس سادہ ہیں
اپنے اصولوں پر چلتے، اور اپنے ارادے
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس خود پسندی
زندگی کا اپنا رنگ، اور اپنی خوشی۔
بات اگر آ جائے، تو رکتے نہیں ہم
حق کے لیے لڑتے ہیں، یہ ہمارا غم
یہ بدتمیزی ہماری، نہیں ہے کوئی گناہ
یہ تو بس زندگی کا، اپنا رنگ ہے، اپنا پناہ۔
دل میں جو بھی آئے، کہہ دیتے ہیں ہم
چھپانا نہیں آتا، یہ ہمارا غم
یہ بدتمیزی ہماری، بس اک سچائی
زندگی کی حقیقت، اور اپنی کمائی۔
کہیں خاموش، کہیں شور مچاتے ہیں
اپنے انداز میں، دنیا کو بتاتے ہیں
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس جینے کا ڈھنگ
زندگی کا اپنا، خوبصورت رنگ۔
جو دل میں برا سمجھے، وہ خود ہی برا ہے
ہم تو بس اپنے ہیں، جو جیسا ہے، وہ ویسا ہے
یہ بدتمیزی ہماری، بس ایک اظہار
زندگی کا اپنا، آزاد خیال۔
کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں ہم
اپنے احساسات کو، نہیں چھپاتے ہم
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس فطرت
زندگی کا اپنا، خوبصورت سفر۔
جو ہم سے پنگا لے، وہ خود ہی پھنس جائے گا
ہمارا انداز ایسا، سب کو بھا جائے گا
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس طاقت
زندگی کا اپنا، سچا وقت۔
دل میں اگر کچھ ہو، تو کہہ دیتے ہیں صاف
جھوٹے بہانے، ہم سے نہیں ہوتے معاف
یہ بدتمیزی ہماری، بس ایک سچائی
زندگی کی حقیقت، اپنی کمائی۔
کبھی تنہا، کبھی ساتھ چلتے ہیں
اپنے رستوں پر، خود ہی پلتے ہیں
یہ بدتمیزی نہیں، یہ تو بس جینا
زندگی کا اپنا، نیا سینہ۔
جو ہمیں جانتا ہے، وہ ہمیں مانتا ہے
ہمارا انداز ایسا، سب کو بھاتا ہے
یہ بدتمیزی ہماری، بس اک پہچان
زندگی کا اپنا، خوبصورت گمان۔
Badmashi Ki Shayari In Urdu

یہ دنیا ہے بد معاشوں کی، یہاں سمجھوتہ لازم ہے
جو تھم گیا وہ لٹ گیا، یہاں ہر قدم پر موسم ہے
ہمت نہ ہارو، جوانمردی کا دم بھرتے جاؤ
جیت تمہاری ہے، یہ وہم نہیں، یہ میرا وعدہ ہے
دل میں جو بات ہے، وہ کہہ دو، چپ رہنا گناہ ہے
آج نہیں تو کل، تیرا وقت بھی ضرور آئے گا
اندھیروں سے نہ ڈر، روشنی کا انتظار کر
بدل دے گی قسمت تیری، بس اک بار ہمت کر
ہمت ہو تو پہاڑ بھی ریزہ ہو جاتے ہیں
دل میں لگن ہو تو راستے بن جاتے ہیں
یہ دنیا تو بس نام کی ہے، سب بدلتے ہیں
بدلتا ہے تو وہ جو خود کو بدلتے ہیں
یہ زندگی ہے، یہاں ہر مشکل سے لڑنا پڑتا ہے
کبھی آگے، کبھی پیچھے، مگر چلنا پڑتا ہے
جو روئے گا، وہ کھوئے گا، یہ دنیا کی رسم ہے
ہنس کر جئے جو، وہی بد معاش، وہی اصل بدمعاش ہے
سر اٹھا کر چل، کوئی ڈر نہیں، کوئی خوف نہیں
اپنا زور دکھا، دنیا کو بتا، تیرا زور و شور کیا ہے
یہ دنیا ہے، یہاں قدم جمے تو راج کرے گا
ورنہ گردish میں گم ہو جائے گا
بدتمیزی نہیں، بدماشی کا مطلب سمجھ
طاقت ہے وہ، جو حق کے لیے لڑ جائے
ظلم کے خلاف آواز اٹھائے، ناانصافی مٹائے
یہی اصل بدماشی ہے، یہی مردانگی کہلائے
عزت وہ گنوا دیتا ہے، جو غلط کام کرتا ہے
بدنامی اس کی ہوتی ہے، جو شر عام کرتا ہے
پھر گلہ کیوں کرے، جب اپنی ہی گریبان میں دیکھے
بدماشی وہ جو پاک دامن رہے، گناہوں سے منہ موڑے
آج کے دور میں، یہ لفظ بدنام ہو گیا ہے
پر اصلی بدماشی تو اب بھی وہی ہے، جو سب کا دوست بن گیا ہے
غم بانٹ لے، خوشی بانٹ لے، ہر مشکل میں ساتھ کھڑا ہو
یہی ہے بدماشی، جو دلوں میں بستا ہے
جو خود کو پہچان لے، وہ دنیا کو بدل سکتا ہے
اندھیروں سے گھبرا کر، وہ کبھی نہ ڈر سکتا ہے
اپنے ارادے بلند رکھ، منزلیں پکارتی ہیں
بدماشی یہی ہے، جو ہر قدم پر ہمت بھری
لوگوں کی باتیں، دل پر نہ لینا کبھی
اپنا رستہ بنا، خود کو منزل پر پہنچا
کامیابی ملے گی، اگر دل میں سچی لگن ہو
بدماشی یہی ہے، جو فتح کا نعرہ لگائے
کچھ لوگ سمجھتے ہیں، بدماشی صرف غنڈہ گردی ہے
پر ان کو کیا خبر، یہ خود اعتمادی کی وردی ہے
جو کسی سے نہ ڈرتا، ہر مشکل کو گلے لگاتا
یہی ہے اصل بدماشی، جو فتح کا پرچم لہراتا
یہ دنیا تو بدلتی ہے، یہ رنگ بدلتی ہے
جو سمجھ جائے اس کی چال، وہ ہمیشہ جیتتا ہے
بدماشی وہ ہے، جو حالات کا دھنی بن جائے
ہر مشکل کا سامنا کر، اپنی منزل پائے
اپنے اصولوں پر قائم رہ، جو دل میں آئے کر
دوسروں کی فکر نہ کر، اپنی دنیا بس اور رنگ بھر
ہمت اگر ہو، تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا
بدماشی یہی ہے، جو خود کو سب سے اونچا دکھا سکے
یہ لفظ تو ہے مشہور، پر اس کا مطلب عام نہیں
بدماشی وہ جو سب کا مان رکھے، یہ کوئی عام کام نہیں
جو دکھ میں شریک ہو، سکھ میں برابر کا شریک بنے
یہی ہے بدماشی، جو دلوں میں ہمیشہ جیت سکے
ڈھٹائی سے بات کر، دل کی بات کہہ دے
اگر کوئی غلط ہو، تو اس کو صاف کہہ دے
خوف دل میں نہ رکھ، ہر دم آگے بڑھ
بدماشی یہی ہے، جو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہو
زندگی کے سفر میں، کچھ رکاوٹیں آئیں گی
جو سمجھ جائے ان کو، وہی آگے بڑھ پائے گی
بدماشی ہے وہ، جو راستے خود بناتا ہے
ہر مشکل سے ٹکرا کر، منزل کو پاتا ہے
یہ دنیا ہے، یہاں بہت سے رنگ ہیں
جو ان رنگوں کو سمجھ جائے، اس کے پاس ڈھنگ ہیں
بدماشی وہ، جو حالات سے نہ گھبرائے
ہر قدم پر ثابت قدم رہے، منزل خود پائے
جو دل میں ہے، وہ کہہ دو، یہ دنیا بدل جائے گی
کبھی تمہاری، کبھی میری، مگر یہ بدل ہی جائے گی
بدماشی کا مطلب یہ نہیں کہ بدتمیز بنو
بلکہ یہ کہ اپنے اصولوں پر قائم رہو، دلیر بنو
یہ دل ہے، جو سب کچھ سہہ جاتا ہے
کبھی خوشی، کبھی غم، پر گنگناتا جاتا ہے
بدماشی وہ، جو سب کے دلوں میں جگہ بنائے
ہر صورت میں، ہر لمحے، سب کا دل چرائے
عزت سے جی، عزت سے مر
یہی ہے اصول، دل میں سدا بھر
بدماشی وہ، جو سب کا حق ادا کرے
کسی پر ظلم نہ کرے، کسی کی جان نہ لے
Also Check: 350+ Best Shayari On Mother In Urdu | ماں پر شاعری
Conclusion
یہاں ہم نے Badmashi Shayari In Urdu کے مختلف رنگ اور انداز بیان کیے ہیں، جو اکثر لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ ان اشعار میں چھپی حقیقت اور جذباتی گہرائی یقیناً قارئین کو متاثر کرے گی اور انہیں ایک نیا زاویہ عطا کرے گی۔
Badmashi Shayari In Urdu کا مطالعہ کرتے ہوئے، ہم ان جذبات سے جڑتے ہیں جو عام طور پر زندگی کے نشیب و فراز میں محسوس ہوتے ہیں۔ یہ اشعار دل کی گہرائیوں سے نکلے الفاظ کا مجموعہ ہیں جو روح کو چھو لیتے ہیں۔
آخر میں، Badmashi Shayari In Urdu کی خوبصورتی کو محسوس کرتے ہوئے، ان اشعار کو اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹیں۔ یہ مختصر مگر معنی خیز الفاظ آپ کے تعلقات میں نئی چاشنی اور گہرائی پیدا کر سکتے ہیں۔
