Karbala Shayari In Urdu: کربلا کا ذکر ہمیشہ دلوں کو چھو لیتا ہے۔ یہاں ہم آپ کے لیے ایک دلکش مجموعہ لے کر آئے ہیں، جس میں Karbala Shayari In Urdu کے بہترین اشعار شامل ہیں۔ یہ کلام آپ کو اس عظیم واقعے کی یاد دلائیں گے۔
ہر شعر اپنے اندر ایک گہرا درد اور عقیدت سمیٹے ہوئے ہے۔ ان خوبصورت الفاظ میں آپ کو کربلا کی لازوال داستان ملے گی۔ اس مجموعے میں Karbala Shayari In Urdu کی وہ شکل ہے جو روح کو سکون دیتی ہے۔
یہ اشعار آپ کی حیثیت (status) کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔ آپ انہیں اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ Karbala Shayari In Urdu کا یہ خزانہ آپ کے جذبات کا عکاس ہے۔
Karbala Shayari In Urdu | کربلا شایری اردو میں

جدا ہوا ہے آج سرورِ کونین سے
کیا ظلم ہوا ہے فاطمہ کے نورِ عین سے
اُٹھا ہے شعلہ غم دلِ مومنین سے
آہ و بکا ہے ساری دنیا حسین سے۔
سجدوں میں جس کا سر تھا، وہ خود امامِ حق
کربلا کی دشت میں، بپا ہوا وہ حشر
کیا بیان ہو صبر، کیا کہیں وہ عزم
بڑھ گیا تھا ظلم کا ہر اک پہ ظلم۔
اک طرف خیمے، دوسری طرف لشکر
عباسِ دلیر، جو تھا ایسا سکندر
پیاس کی شدت، اور یہ کیسا منظر
تڑپ رہا تھا ہر رضاکار، ہر شبر۔
رنگِ شہادت، جس سے مہکی وہ دھرتی
فکرِ بقائے دین، جس کی تھی ہر سرتی
یہ داستانِ غم، جو دلوں کو ہے بھاتی
کربلا کی یاد، جو ہر پل ہے آتی۔
خونِ جگر سے جب وہ میدان سج گیا
ہاتھوں میں تیغِ نور، دشمن کو ڈر گیا
یوں حق و باطل کا فسانہ پلٹ گیا
ہر دل، عزادارِ شہِ کربلا بن گیا۔
خیموں میں جل رہے تھے، بچوں کے یہ سوال
پانی کہاں ہے بابا، ہم سب ہیں بے حال
کیوں بھوکے ہیں ہم، کیوں سہتے ہیں یہ حال
یہ دردِ دل، جس نے کیا ہے ہر دل لال۔
چادر چھینی، سر سے، اور غم کا یہ عالم
آگ لگی خیموں میں، اور غم کا یہ عالم
رہی بچیوں کی چیخیں، اور غم کا یہ عالم
سب کچھ لٹا دیا، یہ کیسا ماتم۔
شبیر نے اٹھائی جو یہ بارِ غم
ہر قطرہ خون نے دی، حق کی قسم
ظلم کو مٹائیں گے، بڑھیں گے ہر دم
یہ درسِ کربلا، جس نے دلوں کو چُوم۔
آج بھی گونجتی ہیں، وہ صدا کربلا سے
حق کی راہ پر چلنے کی، وہ دعا کربلا سے
نہ جھکنا کبھی باطل کے سامنے، یہ صدا
آتی ہے ہر وقت، وہ صدا کربلا سے۔
کچھ نہ ملا مگر، دین کی بقا ملی
فکرِ حق سے، دنیا کو اک راہ ملی
یوں ظلم کا خاتمہ، اک نئی ابتدا ملی
سبقِ عزّت، ہر دل کو جو ابتدا ملی۔
سر کٹ گیا مگر، سر نہ جھکایا کبھی
حق کے لیے اٹھا، اور نہ ٹھہرا کبھی
یہ عظمتِ حسینی، جس نے جگ کو دکھایا
کہیں سر خم نہ ہوگا، کسی صورت کبھی۔
غمِ کربلا سے دل، آج بھی یہ روتا ہے
یادِ شہِ کونین، ہر دم یہ ہوتا ہے
یہ عشقِ حسینی، جس سے دل جوڑا ہے
بھلا کون ہے ایسا، جو نہ غم میں ڈُوبا ہے۔
کیسا وہ منظر تھا، جب وہ تنہا کھڑا تھا
دشمن ہزاروں تھے، مگر حوصلہ بڑا تھا
حق کی شمع جلانے، وہ تنہا کھڑا تھا
دنیا کو حق سکھانے، وہ تنہا کھڑا تھا۔
چھ ماہ کا اصغر، پیاس سے تڑپ رہا تھا
اک تیر غلط، جو سینے میں اُتر رہا تھا
یہ درددل، جو روح کو چیر رہا تھا
کہاں جائیں، یہ پوچھتا، ہر دم سسک رہا تھا۔
زینب کی آہ، جو کربلا سے آئی
غم کی انتہا، اور یہ کیسی بربادی
بھائی کے غم میں، روتی رہی ساری خدائی
یہ داستانِ غم، دلوں میں ہے سمائی۔
پلٹ کے کوئی لشکر، نہ پھر یہ آیا
کربلا کی مٹی میں، سب کچھ ہی لٹایا
مگر نامِ حق، جو ہمیشہ جگمگایا
یہ دردِ دل، جو آج تک ہے پایا۔
قاسم کی وہ جوانی، جو قربان ہوئی
بستے گھر کی آنکھیں، جو سنسان ہوئیں
یوں حق کی خاطر، جانیں قربان ہوئیں
یہ دل کے درد، جو آج بھی جان ہوئیں۔
عباس کی وفاداری، جو تاریخ پہ لکھی
علم اٹھائے، جو قربان کی ہر خوشی
یہ غم کی کہانی، جو دل میں ہے سچی
ہر آنکھ آج بھی، آنسو سے ہے بھیگی۔
یہ درسِ وفا، یہ درسِ حُبِ خدا
جو کربلا سے سیکھا، ہم نے بارہا
نہ ڈرنا کبھی، نہ جھکنا، یہ ہر دم صدا
ہے کربلا کا پیغام، یہی ہے ہر دعا۔
یا رب، یہ غم، جو دلوں میں بس گیا
یہ عشقِ حسینی، جس سے دل نور ہوا
ہمیں بھی راہِ حق پہ، تو چلنا سکھا
کہ تیری رضا ہو، اور غم دور ہوا۔
Imam Hussain Karbala Shayari In Urdu

کربلا کی مٹی میں وہ لہو ہے ایسا
جس سے آج بھی زندہ ہے حق کا سایہ
حسین ابن علی کا جذبہ لازوال
ظلم کے خلاف اٹھایا جنہوں نے سوال۔
غم حسین میں آنکھیں آج بھی نم ہیں
یہ عشق و وفا کی وہ عظیم رقم ہیں
جنہوں نے سر کٹا کر بھی نہ مانی ہار
یہی تو ہیں ہمارے قائد، سردار۔
شبیر کا علم جو کربلا میں لہرایا
یزیدیت کا ہر اک لشکر سر جھکایا
حق کی صدا بلند ہوئی ہر سو
یہ ہے درسِ حسین، یہ ہے پاک درو۔
آج بھی گونجتی ہے کربلا کی خاموشی
سناتی ہے ہمیں وہ لازوال بے خودی
تشنہ لب رہ کر بھی حق سے نہ مڑے
غمِ شبیر سے دل آج بھی بھرے۔
یہ داستانِ کربلا، درسِ ایثار ہے
یہی تو عشقِ حقیقی کا اظہار ہے
جب حق و باطل کی جنگ تھی برپا
حسین نے دی قربانی، دل میں وفا۔
کربلا کی ریت پر جب لہو بہا
ہزاروں درد اور غم دل میں رہا
مگر حسینیوں نے نہ مانی کوئی بات
رہے حق کے لیے قائم، دن اور رات۔
اے دل، غمِ حسین میں اب رو
حق کی خاطر جو قربانی ہے ہوئی
وہ درسِ زندگی ہے، وہ ہے انقلاب
یہی ہے کربلا کا اصل ثواب۔
یادِ حسین میں جب دل بھر آئے
کرگزرنا سب ظلموں کو، یہی سکھائے
حق کی خاطر اٹھنا، لڑنا، جینا
یہ ہے حسینی راستہ، یہی ہے سینا۔
کربلا کی یاد جب بھی دل میں آئے
وفا اور حق کا پرچم سر پہ سجائے
یہ قربانی ہے ایسی، جس کی مثال نہیں
حق کے سپاہی تھے، ان کے بدل کوئی نہیں۔
شبیر کا رستہ، یہی ہے اپنا
غمِ حسینی میں دل بس ہے اپنا
حق کی خاطر جیون وار دیا
دنیا کو یہ درس سکھا دیا۔
آج بھی سنتے ہیں کربلا کی صدا
ظلم کے آگے جھکنا ہے خطا
حسینیت زندہ ہے، رہے گی ہمیشہ
یہ عشقِ حقیقی ہے، خدا خدا۔
کربلا کا قصہ، دل کو چھو جائے
حق پر چلنے کی ہمت دے جائے
یہی ہے درسِ حسینی، یہی ہے پیار
ہر مومن کے دل میں ہے یہی پکار۔
آج بھی دل میں جلتا ہے وہ شعلہ
کربلا کا وہ غم، وہ منظر کھلا
حسین نے دی جان، حق کو بچانے
یہ ہے درسِ وفا، سب کو بتانے۔
غمِ شبیر میں ہے ایک خاص تاثیر
جو دل کو بخشے ہے صبر و تسخیر
یہ عشقِ حقیقی ہے، نہ کوئی دکھاوا
حسینی ہیں وہ، جن کا ہے سب سے اونچا نوا۔
کربلا کی دھرتی، آج بھی گواہ ہے
حسین کے صبر کی، حق کی راہ ہے
یہ قربانی ہے ایسی، جو بتاتی ہے
وفا کی انتہا کیا، یہ سکھاتی ہے۔
اے دل، غمِ حسین میں غمگین ہو جا
حق کی خاطر، ہر اک غم سے آشنا ہو جا
حسینی قافلہ ہے یہ، جو چلتا رہے گا
حق کا پرچم بلند، یوں ہی لہراتا رہے گا۔
کربلا کی ریت پر جب لہو کا رنگ پھیلا
یقین و صبر کا وہ عزم نہ ڈگمگا
حسین کے قدموں پر، یہ دنیا وار دوں
اسی محبت میں، میں جیووں، اسی میں مروں۔
یہ غمِ حسینی ہے، دل کی پکار
حق کی خاطر، قربان سارا جہان
آج بھی ہم سنتے ہیں وہ صدا
کہ باطل کے آگے، سر نہ جھکانا کبھی خدا۔
کربلا کی کہانی، دلوں میں بستی ہے
حق و انصاف کی جو ہم کو پستی ہے
حسین کا درس، زندگی کا سہارا
یہی ہے عشقِ حقیقی، یہی ہے پیارا۔
شبیر کا غم، اک موجِ رواں ہے
جس میں لپٹا ہوا، دل و جان ہے
یہ قربانی ہے ایسی، جو سکھاتی ہے
وفا کی قدر کیا، یہ بتاتی ہے۔
Waqia Karbala Shayari In Urdu

کربلا کا وہ منظر، دل کو چیر جائے
غم حسینی کا ہر لمحہ، آنکھیں بھر لائے
حرمتِ دین پر قربان، وہ سب جوان
یاد ان کی آج بھی، دل کو تڑپا جائے
تشنہ لب پیاسوں کی، وہ داستان
نواسہ رسول کا، اٹھایا تھا جو بار گراں
ظلم کے سامنے، نہ جھکایا سر
تاریخ میں زندہ ہے، وہ امتحان
اشکبار آنکھوں سے، یاد آتے ہیں
حسینؓ اور ان کے ساتھی، سب یاد آتے ہیں
صبر کی انتہا، وفا کا پیکر
ان کے ذکر سے، دلوں کو سکوں آتے ہیں
فتحِ مکہ کے بعد، وہ یومِ عاشور
رنگین نہ رہا، ہر منظر، ہر دستور
خونِ حق نے، رنگ دیا صحرا
باقی رہے گا، یہ غم، یہ شعور
کربلا کی سر زمین، آج بھی پکارے
حق کے لیے، کیسے سب وار دیے
بچوں، بڑبروں، سب کو
ان کی عظمت کو، سلام ہو، دل سے
شبیر کا درس، قربانی کا پیغام
آج بھی ہے، دنیا کے لیے، ایک الہام
ظلم کو مٹانا ہے، حق کو قائم رکھنا ہے
یہی ہے کربلا کا، اصل پیغام
علمدارِ وفا، عباسِ نامدار
جس کی ہمت تھی، کوہِ گراں پر بھاری
بھائی کی خاطر، وہ سب کچھ لٹا بیٹھا
اس کی بہادری، کی کیا بات، کیا ന്یاری
بچوں کی پیاس، دل کو رلائے
چھوٹے علی اصغرؓ، کسے یاد نہ آئے
تین دن کی پیاس، اور وہ معصوم
یہ منظر، آج بھی، روح کو جلائے
سجدوں میں کٹی، جو راتیں
عبادت میں گزریں، جو لمحات
شھادت کی منزل، وہ پا گئے
یہ ہے ان کی، عظمت کی، وہ بات
یزیدیت کا دور، ظلم کی رات
حق کی آواز، تھی، شمعِ حیات
حسینؓ نے جلائی، وہ شمع
جس سے روشن ہوئی، انسانیت کی بات
کربلا کی مٹی، گواہ ہے آج بھی
وفاداری کی، سچائی کی، لازوال
یہ داستان، امر رہے گی
حسینی جذبے کی، صدا، ہر حال
چودہ سو سال گزرے، مگر
غمِ کربلا، ہے آج بھی تازہ
دلوں میں بسے ہیں، وہ شہدا
ان کی یاد، ہے، سب سے پیاری
جنگ نہیں، تھی یہ، تخت و تاج کی
تھی، یہ، حق و باطل، کے امتیاز کی
حسینؓ نے دی، جان
اور بقا، دی، اسلام کو، ہمیشہ کے لیے
کوئی لشکر، کوئی فوج، نہ تھی ساتھ
پھر بھی، ڈٹے رہے، وہ، نورِ حیات
فرد واحد، کے سامنے
تھا، وہ، اتحاد، اور حق کا ساتھ
صبر کا دامن، انہوں نے، نہ چھوڑا
ہر ظلم، ہر ستم، کو، دل سے سہہ لیا
خدا پر بھروسہ، انہیں، تھا
اور اسی پر، وہ، چلتے رہے، سیدھا
ہر قدم پر، تھی، شہادت
پر، نہ، تھی، کوئی، ہراس، کوئی گھبراہٹ
یہی تو ہے، اسلام
اور یہی ہے، حسینی، بغاوت
آج بھی، سنتے ہیں، وہ صدا
“ھل من ناصر ینصرنی” کی، درد بھری ادا
دل دہل جاتا ہے، سن کر
یہ، پکار، ہے، زمانے کے لیے، ایک سبق بڑا
شہدا کا لہو، ہے، آج بھی، سرفراز
ان کی قربانی، ہے، امر، لازوال
ہمیں بھی سیکھنا ہے، ان سے
حق کی خاطر، لڑنا، ہر حال
کربلا کا ذکر، جب بھی آ جائے
دل، غم سے، بھر جائے
یہ، غم، ہے، وہ، عظیم
جس سے، روح، کو، سکوں مل جائے
شہادت کی عظمت، سلام ہے
حسینی جذبے کو، سلام ہے
یہ، سلسلہ، جاری رہے گا
حق کی خاطر، لڑنے والوں کو، سلام ہے
Karbala Par Shayari In Urdu

کربلا کے واقعات ہیں دل گداز
غم حسین کی ہے اپنی آواز
یزیدیت کے خلاف تھی یہ جنگ
حق کی خاطر اٹھی تھی یہ آواز۔
مشکِ سقا کی پیاس ہے زندہ
علمدار کا جذبہ ہے زندہ
رستہ حق کا دکھایا ہے کربل
سب کی آنکھوں کا تارا ہے کربل۔
خدا کی رضا پر جو قربان ہو
وہ ولی ہے، وہ مومن، وہ انسان ہو
حسین ابنِ علی کا یہ درس ہے
پرچمِ حق بلند کر، یہی فرض ہے۔
کربلا میں جو قربانیاں ہوئیں
وہ صدا کے لیے زندہ رہیں
شاہِ کربلا نے درس دیا
ظلم کے آگے سر نہ جھکانا۔
جب نامِ حسین آ جائے
دل بے چین ہو جائے
غمِ کربلا میں آنکھیں
اشکبار ہو جائیں۔
عباس کا علم، وہ وفاداری
بھائی کے لیے قربان، وہ جان نثاری
کربلا کی مٹی سے آتی ہے صدا
وفا کا یہ درس، ہے سب سے جدا۔
حسینیت وہ راہ ہے
جس میں سچائی کی چاہ ہے
کربلا نے سکھایا ہمیں
کہ حق کے لیے جینا، یہی راہ ہے۔
غمِ کربلا دلوں کو چھو جائے
ہر شخص میں احساس جگائے
انسانیت کی یہ وہ درس گاہ ہے
جو وقت کی دھار سے نہ مٹ پائے۔
کربلا کے میدان میں
لڑائی تھی حق و باطل کی
امامِ وقت نے دی قربانی
تاکہ زندہ رہے ملتِ اسلام کی روشنیاں۔
جب حق کی آواز دبی
کربلا میں وہ معرکہ ہوا
امامِ اعظم نے سمجھایا
ظلم کو کب تک سہنا، یہ کب تک روا؟
شبیر کا قربان، وہ بے مثال
جس نے بدل دیا حالات کا حال
کربلا کی داستان ہے لازوال
بشریت کا ہے یہ روشن جمال۔
محرم کا چاند جب نظر آئے
دل کربلا کی یاد میں رو جائے
علمدار کی عظمت کو سلام
جو بھائی کے لیے قربان ہو جائے۔
صبر کی انتہا ہے کربلا
شہادت کی معراج ہے کربلا
حق پر قائم رہنے کا درس
یہیں سے ملا، ہے یہ سچ، یہ بلا۔
یزیدیت نے جب ظلم کیا
حسین نے حق کا پرچم اٹھایا
کربلا کا وہ میدان ہے گواہ
کہ حق ہی جیتا، باطل کو مٹایا۔
چاند ہے محرم کا، آنسو ہیں
دل میں غمِ شبیر کے گیت ہیں
یادِ کربلا میں ڈوبے ہیں ہم
ہر سمت صدا، یا حسین، یا حسین کی ہے۔
کربلا سے جو سیکھا ہے سبق
وہ ہے حق پر قائم رہنا
ظلم سے نہ ڈرنا، سر نہ جھکانا
یہ ہی ہے زندگی کا اصل سبق۔
جب حق پر پڑا ظلم کا سایہ
کربلا نے وہ منظر دکھایا
بچوں کی پیاس، ماں کی ممتا
سب کچھ قربان، راہِ خدا۔
کربلا کا دشت، وہ داستان
جس نے بدلی تقدیرِ جہان
امامِ حق کی وہ قربانی
بنا گئی انسانیت کی پہچان۔
غمِ کربلا میں آنکھیں نم ہیں
یادِ حسینی، دل میں کم نہیں
حق کی خاطر سب کچھ وار دیا
یہ درس ہے، جو کبھی نہ پھل ہو۔
کربلا کی مٹی ہے پاک
جس میں دفن ہیں شہداء کے لاش
حسینیت کا ہے یہ پیغام
حق کے لیے لڑو، لحد تک، آج۔
Karbala Hussain Shayari In Urdu

یا حسین ابن علی، تیرا غم ہے لازوال
محبت تیری سچی، تیرا ذکر ہے ہر حال
کربلا کی سرزمیں، سجدوں سے مہکی
تیری قربانی ہے زندہ، تیری شان ہے کمال۔
دشتِ کربلا میں جو لہو بہا
وہ اسلام کی خاطر تھا، حق کا صدا
حسین نے دی قربانی، باطل سے لڑ کر
آج بھی دلوں میں تیرا پیارا ہے نقشِ وفا۔
شبیر تیرا لقب، نورِ خدا تیرا نام
غمِ کربلا سے لرزتا ہے یہ تمام جہان
صبر کا پیکر، ایثار کا دریا
اے سید الشہداء، تجھ پر لاکھوں سلام۔
چودہ سو سال گزرے، پر غم نہیں کم
آج بھی سنتے ہیں کربلا کے یہ کرم
چھوٹی سی عمر میں دی ایسی قربانی
حسین تیری عظمت کا کیا ہو بیان، اے سب سے عظیم۔
جب باطل نے سر اٹھایا، حق کی آواز دبی
تب اٹھے حسین، لیے剑 حق کی سچی
ظلم کے خلاف، عدل کے واسطے
جان دی، پر سر نہ جھکایا، یہ ہے ان کی سچی فتح۔
آنکھوں میں نمی ہے، دل اداس ہے
کربلا کا قصہ، سب کو پیاس ہے
پیاسِ حق کی، پیاسِ وفا کی
حسین تیری یاد میں، ہر آنکھ نم خاص ہے۔
زمین و آسماں روئے، جب لہو بہا
کربلا کی ریت پر، خدا کا نور چھا
شہیدوں کا سردار، امامِ برحق
یا حسین، تیری قربانی نے راہِ حق سکھا۔
کون ہے وہ جو باطل کے آگے جھکے
جب حق کا علمبردار خود سر نہ جھکے
حسین کی راہ پر چل کر ہی
ہم بھی سچائی کا راستہ پا سکیں۔
تیری راہ میں سر کٹانا سعادت ہے
تیری چاہت میں سب کچھ لٹانا چاہت ہے
اے نواسہِ رسول، یا امام حسین
تیرے غم میں شریک ہونا، جنت کی بشارت ہے۔
سجدے میں سر تھا، پر آنکھیں کھلی تھیں
حق کی خاطر، سب قربان کر دی تھیں
آج بھی تیری آواز گونجتی ہے
ظلم سے نہ ڈرو، حق کی آواز بولو سبھی۔
کربلا کی مٹی، آج بھی مہکتی ہے
حق و صداقت کی کہانی کہتی ہے
حسین کی قربانی، رہتی دنیا تک
ہر مظلوم کے دل میں امید جگاتی ہے۔
یوں تو لاکھوں ہیں دنیا میں فداکار
پر حسین جیسا کوئی نہیں، یہ ہے رازِ رازدار
خدا نے خود منتخب کیا
اپنے دین کی خاطر، سب سے بہترین شہسوار۔
غمِ حسین میں، آنسو بہانا
یہ عاشقی ہے، یہ عشق کا ہے ترانہ
حق کی خاطر سب کچھ لٹا دیا
یہی تو ہے حقیقی، اسلام کا خزانہ۔
یا رب، ہمیں بھی توفیق دے
حق پر چلنے کی، سچائی کی راہ میں جینے کی
حسین کی راہ سے بھٹکنے نہ دے
اور تیری رضا میں راضی رہنے کی دعاکو قبول کر۔
دنیا نے دیکھا، جب حق کا بول بالا ہوا
حق کے لیے، جب سب کچھ قربان ہوا
حسین نے فتح کی، اپنے صبر سے
یہی تو ہے تاریخ کا، سب سے بڑا کارنامہ ہوا۔
سجدے کا رنگ، کربلا میں دکھایا
خود کو قربان کر کے، دین بچایا
اے وارثِ انبیاء، یا امام حسین
تیری قربانی سے، آج بھی ہم نے سبق پایا۔
لبوں پر پیاس تھی، مگر دل میں وفائیں
ظلم کے آگے، جھکے نہ تیری جبینیں
یا سید الشہداء، یا امام حسین
تیری یاد میں، ہر آنکھ آج بھی نمگین۔
حق کی پکار، ظلم کا خاتمہ
کربلا میں ہوا، سچ کا مظاہرہ
حسین نے سکھایا، جینا سچ کے لیے
اور مرنا بھی، حق کی خاطر، یہ ہے ان کا عزم۔
کبھی دل تو روئے، کبھی آنکھیں بھر آئیں
کربلا کی داستان، جب کانوں میں سنائیں
حسین تیری عظمت، تیرا ایثار
یہ سب کچھ ہمیں، راہِ حق دکھلائیں۔
اے ربِ کائنات، ہمیں سمجھ عطا کر
حسین کے غم کو، دل سے ادا کر
تیری رضا کا طالب، تیرا بندہ
کربلا کا یہ درس، کبھی نہ بھولا کر۔
Karbala Sad Shayari In Urdu

کربلا کا درد دل میں بس گیا، ہر آنکھ اشکبار ہو
حسینؑ کا غم ہے یہ، عقل جو ہے حیران ہو
تاریخ نے لکھا یہ سبق، کبھی نہ بھولیں ہم
حق کے لیے جو جان دی، وہ عظمت کا نشان ہو
لشکرِ یزید تھا وہ، ظلم کی انتہا تھی
پیاس سے تڑپ رہے تھے، وہ نواسہِ مصطفٰےؐ
خیام جل گئے، بچے بھوکے پیاسے تھے
لیکن جھکے نہیں وہ، حق کی خاطر، یہ ادا تھی
زینبؑ کا صبرو استقامت، درسِ وفا ہے یہ
بھائی کا ساتھ دیا، ہر مشکل میں
کربلا کی لحد پہ، اشک جو بہتے ہیں
یاد دلاتے ہیں یہ، قربانی کی صدا ہے یہ
خیموں سے آتی تھی صدائیں، بچوں کے رونا کی
پیاس کی شدت سے، تڑپ رہے تھے سب
اے کربلا، تیری مٹی، آج بھی گواہ ہے
اس ظلم کی، اس بے دردی کی، اس ظلم و جفا کی
وہ رات کربلا کی، غمگین اور اداس تھی
خدا کی رحمت سے دور، پر عزم و پاس تھی
شہید ہوئے سب، لیکن جھکے نہیں
حق و صداقت کی، وہ تاریخ کی پہلی باس تھی
کتنا سادہ تھا وہ صحرا، کتنا پُر امن تھا
آنکھوں نے دیکھا جو، دل و دماغ سے محن تھا
حق کی خاطر قربان ہوئے، وہ خاندانِ رسولؐ
خدا کی رضا کے لیے، ہر غم انہوں نے سَحن تھا
علمدارِ کربلا، عباسؑ تیرا کیا کہنا
وفا کی اک مثال، تیرا دمِ آخر
مشکِ آب جو لائے، پر خود تیر کھا گئے
تیری بہادری کا، کوئی ثانی نہیں، تیرا رتبہ ہے برتر
چھوٹی چھوٹی بچیاں، بھوکی پیاسی تھیں
خیام سے باہر، سب کچھ اجڑا ہوا تھا
یہ منظر دیکھ کر، دل روتا ہے آج بھی
ظلم کی داستان کا، ہر صفحہ ادھورا تھا
کربلا کا ذکر جب بھی، زبان پر آئے گا
دل غم سے بھر جائے گا، آنکھوں میں پانی آئے گا
وہ امتحانِ وفا، وہ صبر کا سمندر
نبیؐ کی امت کو، یہ سبق سکھائے گا
حسینؑ تیرا غم، دلوں میں بسیرا کرے
ہر غم زدہ کے آنسو، تیری یاد میں بہا کرے
یہ دنیا امتحان ہے، ہر کوئی جانتا ہے
پر تیری قربانی، ہمیں جینے کا سلیقہ سکھائے
آج بھی سنائی دیتی ہیں، وہ کربلا کی آہیں
مظلوموں کی چیخیں، وہ زخمی نگاہیں
تاریخ کا یہ داغ، کبھی نہ مٹ سکے گا
انسانیت کا سبق، ہے یہ، نہ بھولیں کبھی یہ راہیں
وہ میدانِ کربلا، آج بھی پکارتا ہے
حق کی خاطر جینا، یہ درس دیتا ہے
ظلم کے سامنے جو، سر نہ جھکائے
وہی انسان، خدا کی نگاہ میں اٹھتا ہے
علی اصغرؑ کا ننھا، گلا پیاس سے سوکھا تھا
تیر نے وہ کام کیا، جو سمجھ سے باہر تھا
یہ منظر دیکھ کر، دل جل اٹھا
کس ظلم کے پیچھے، یہ سب کچھ رواں تھا
زین العابدینؑ کا صبر، وہ قیدی حال
خدا سے دعا مانگتے، ہر وقت، ہر حال
کربلا کی یہ گواہی، سناتا رہے گی
کہ حق کی خاطر، کس قدر تھی یہ جان بھال
وہ صحرا، وہ مقتل، وہ خون کے دھارے
آج بھی سناتے ہیں، اپنے قصے سارے
کربلا کی قربانی، درسِ زندگی ہے
یہ نہ بھولیں، ورنہ ہوں گے ہم پچھتارے
اے کربلا، تیری خاک میں، وہ راز پنہاں ہے
حق و صداقت کا، یہ اک انمول جہاں ہے
یزیدی لشکر نے، ظلم کیا تھا
پر حق کا بول بالا، آج بھی، عیاں ہے
یہ ماتمی پرچم، جو آج بھی لہرائے
کربلا کی یاد دلائے، دل غم سے بھر جائے
یہ غم کا اظہار ہے، وفا کا سفر ہے
کہ ہم نہ بھولیں، یہ فرض، ہر دم نبھائے
وہ شامِ غریباں، وہ بے کسی کا عالم
خیام جل چکے تھے، ہر طرف تھا ماتم
بچیاں رو رہی تھیں، پیاس سے بے حال
یہ دردِ کربلا، ہے، جس کا نہیں کوئی مرہم
سجدے میں حسینؑ، جب جان دیتے ہیں
آسمان بھی روتا ہے، فرشتے غم کرتے ہیں
حق کی خاطر یہ قربانی، نرالی ہے
جو صدیوں تک، سناتی ہے، وہ کہانیاں
اے خدا، کربلا کا غم، دلوں میں باقی رہے
ہدایت کا راستہ، ہمیں دکھاتا رہے
تیرے بندے ہیں ہم، تیری رحمت کے طالب
یہ قربانی ہمیں، سچائی پر چلانا سکھائے
Karbala Shayari English In Urdu | کربلا شایری انگلش میں اردو

اُٹھا جب شمعِ غم، دشتِ کربلا گونجا
ہر اک منظر عزا میں، ہر اک دل رویا
یہ سجدوں کا تھا منظر، یہ ایثار کا رستہ
حسینیت کی لازوال داستان کا قصہ۔
وہ ظلمت کا موسم، وہ حق کا پکارنا
یزیدیت کے آگے، سرِ خم نہ کرنا
بچھڑا جب بھائی سے، دلِ زار تڑپا
عباسِ علمدار کا، قربان بننا۔
لُٹا جب سب کچھ، خیمے جل گئے
اصغر کا گلا، تیر سے چھل گئے
سکینہ کی آہیں، وہ در کا پٹخنا
رُلا گئی وہ منظر، عجب یہ دکھ تھا۔
چلے جب لشکرِ حق، شجاعت سے بھرپور
حسین ابنِ علی کا، وہ لب پہ نور
بتایا دنیا کو، یہ رسمِ وفا ہے
کہ حق کے لیے لڑنا، یہی تو بقا ہے۔
اُٹھی جب کربلا میں، حق کی صدا
فضا میں بکھری، وہ درد بھری ادا
وہ پیاس، وہ قربانی، وہ عشقِ الٰہی
بنائی تاریخ کو، اک نئی رَوِش۔
وہ صبر کا پیکر، وہ ضبط کا حال
کہ جب چھُٹا بچے کا، ننھا سا بال
مگر آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر شکوہ
یہ رتبہ ہے والوں کا، جو غم سے نہ روکا۔
کہا جب مولا نے، قرباں سب کچھ
خدا کی رضا کے لیے، مٹا سب کچھ
یہ قربانیِ اعظم، یہ بدر کا نور
بنا کربلہ، ایک درسِ شعور۔
وہ نیزے پہ سر، وہ قرآں کی تلاوت
کہ دشمن بھی حیران، عجب سی صورت
حسینیت کا پرچم، بلندی پہ لہرایا
اُجالے کی خاطر، اندھیروں کو مٹایا۔
بچھڑے جب لشکر سے، وہ جانِ وفا
عباسِ دلیر، وہ سب کے لیے دعا
تڑپتا رہا پانی، مگر پیاسا رہا
وفاداری کی اک، عظیم داستان کہہ گیا۔
جب آخری لمحہ، وہ نزدیک آیا
شہیدوں کا لشکر، خوشی سے گنگنایا
ملا جب رب کا وعدہ، سب غم مٹ گئے
یہ منظر تھا کربل کا، سب عشق میں جل گئے۔
بکھر گیا وہ گھر، وہ نورِ خدا
مگر چھوڑ گیا، دین کی رَوِش جدا
کہ باطل کے آگے، کبھی سر نہ جھکے
یہ کربل کی قربانی، ہمیں سکھا گئی کچھ۔
حسین ابنِ علی کی، وہ عظمتِ خاص
کہ جس نے خدا کے لیے، سب کچھ کیا ناس
یہ فلسفہ قربانی کا، ہمیں دے گیا درس
کہ حق کے لیے جینا، اور حق پر ہی مرنا۔
بکھر گئے وہ خیمے، وہ اشکِ رواں
سکینہ کی تنہائی، وہ دل کی اذاں
یہ منظر تھا کربل کا، رُلاتا رہا
کہ ظلم کے آگے، حق یونہی کھڑا رہا۔
وہ علمِ وفا، وہ حق کا سایہ
حسینیت کا جذبہ، جو دل میں سمایا
یہ کربل کی یادیں، ہمیں یہ بتاتی ہیں
کہ سچ کی خاطر، سب قربان کر دیجئے۔
چھِنا جب حق، وہ بزمِ طواف
ستمگروں نے دیکھا، وہ فتح کا خواب
مگر کربل نے بدل دی، تقدیر سب کی
یہ قربانیِ اول، تھی سب سے انوکھی۔
وہ اشکِ حسرت، وہ دل کی صدا
کہ حق کی خاطر، کیا کچھ نہ ہوا
یہ کربل کی منظر کشی، ہمیں سمجھاتی ہے
کہ سچ کی راہ پر، کبھی نہ گھبرائیے۔
تڑپ اٹھی جب دنیا، وہ غم کا اثر
حسین ابنِ علی نے، دکھایا وہ ہنر
کہ ظلم کے اندھیروں کو، حق نے کر دیا دور
یہ کربل کی قربانی، تھی اک نور کا نور۔
بکھر گئی جب وہ گلشن، وہ گلِ رضا
مگر چھوڑ گیا، اک سچ کا نشہ
یہ کربل کا سبق، ہے دل میں سمایا
کہ حق کے لیے جینا، یہی رمزِ بقا ہے۔
وہ علمِ حسینی، وہ حق کا چراغ
کہ جس نے کیا ظلمت کو، ہمیشہ سے داغ
یہ کربل کی داستان، وہ جذبِ وفا
کہ حق کے لیے لڑنا، ہے رب کی رضا۔
یہ کربل کا میدان، وہ درد کا سماں
کہ جب لُٹا سب کچھ، بچا نہ کوئی یہاں
مگر حق کا پرچم، بلند ہی رہا
یہ قربانیِ اعظم، ہمیں سکھاتی رہی۔
Karbala Ki Shayari In Urdu

لرزتا ہے زمیں و آسماں، منظر وہ کربناک
حسینؑ کی قربانی، دلوں پر نقش ہے ہر دم
یہ ذکرِ کربلا، ہے رہِ حق پہ چلنے کی دلیل
غمِ کربلا کو ہم، رکھیں گے دل کے پاس ہر دم۔
آنسو بہہ رہے ہیں، یادِ شہدا پہ
یوں روتا ہے دل، غمِ کربلا میں
یہ قصہ حیات، ہے درسِ وفا کا
جگاتا ہے جذبہ، وفا کربلا میں۔
تیغِ ظلم کو، سر نہ جھکایا
باطل کے آگے، حق کا پرچم لہرایا
حسینؑ کا یہ درس، ہے سب کے لیے
قربانی سے ہی، اسلام جگمگایا۔
یہ خونِ شہیداں، ہے رنگِ حرمت کا
یاد دلاتا ہے، ہر ظلم کے موسم کا
سر کٹ گیا، مگر سر جھکا نہیں
یہ درسِ وفا ہے، امت کی قسمت کا۔
محرم کا چاند، جب بھی نظر آئے
دل غمگین ہو، آنکھوں میں پانی آئے
یہ یادِ حسینیؑ، ہے چراغِ ہدایت
ہر دل میں یہ شمع، ہمیشہ جلائے۔
کربلا کی مٹی، گواہ ہے وفا کی
ہر قطرہ خون کی، کہانی سنائے گی
ظلمت میں جو، نورِ حق جلائے
وہ ذاتِ حسینیؑ، دنیا کو بتائے گی۔
یہ مجالسِ عزا، ہیں درسِ ایثار کے
دلاں وچ جاگدے، جذبے وفادار کے
یوں آنسو بہا کے، ہم یاد کریں گے
حق کے لیے جو، وارثِ سردار تھے۔
خدا کی رضا پر، رضا سب کو دی
جان، مال، سب کچھ، راہِ خدا میں دیا
یہ ایثار و قربانی، ہے درسِ اعظم
اسی سے تو اسلام، ہے آج تک بقا میں۔
یوں خونِ دل سے، لکھا ہے افسانہ
جس نے رکھا، خدا کا نام پروانہ
یہ کربلا کی داستاں، ہے انمٹ
یہی ہے صداقت، یہی ہے پیمانہ۔
جب نامِ حسینیؑ، لب پہ آئے
دل مومن کا، غم سے بھر جائے
یہ قربانیِ عظمیٰ، ہے یادگارِ حق
یہ جذبہ وفا، دنیا کو سکھلائے۔
یہ شمعِ حسینیؑ، جو روشن ہوئی
اندھیروں میں، روشنی لے کے آئی
ہدایت کا رستہ، دکھاتا ہے یہ نور
جو حق کی خاطر، قرباں ہو گئی دائی۔
یزیدیت کو، کربلا نے مٹایا
حق کے علم کو، ہر سو لہرایا
یہ قصہِ غم، ہے درسِ حیات
جس نے کبھی، خدا کو نہ ٹھکرایا۔
آلِ نبیؐ کی، قربانی کو سلام
جس نے بچایا، دینِ خدا کا نام
کربلا کا میدان، ہے گواہِ حق
آج بھی ہے، دلوں میں یہی پیغام۔
وہ صبر کا پیکر، وہ حق کا سپاہی
جس نے کی قربانی، اپنی جان کی سبھی
حسینیؑ کی یاد، دلوں میں رہے گی
رستے پہ اس کے، چلیں گے ہم سبھی۔
غمِ کربلا میں، جو آنکھیں روئیں
اُن آنسوؤں کا، اجرِ عظیم پائیں
یہ دل کی آواز، ہے صدقِ دل سے
خدا ہم سبھی کو، حسینیؑ کی راہ دکھائے۔
یہ سر کٹا، پر جھکا نہیں کبھی
یہ عزت و حمیت، کی ہے نشانی سبی
حسینیؑ کی قربانی، ہے درسِ وفا
ہر دل میں بسے، یہ جذبہِ حسینیؑ۔
دیارِ کربلا، وہ سرزمیں مقدس
جہاں لہو سے، حق کا ہوا پرتم
یہ ذکرِ حسینیؑ، ہے روح کی غذا
بھلائے نہ کوئی، وہ کربل کا موسم۔
کربلا کی orice، ہے دلوں کا سہارا
پڑھتے ہیں جو، ان کا عروج ہے سارا
یہ غمِ حسینیؑ، ہے نورِ بصیرت
سمجھائے یہ ہم کو، حق کا اشارہ۔
جو ظلم کے آگے، نہ ڈرتا ہے
حق کے لیے، جو جیتا مرتا ہے
حسینیؑ کی راہ، وہ پاتا ہے
صداقت کا پرچم، بلند کرتا ہے۔
یہ مجلسِ عزا، ہے درسِ ایثار کا
ہر مومن کے دل میں، ہے غمِ یار کا
کربلا کی یہ یاد، نہ جائے گی بھلائے
رہے گی دلوں میں، یادِ شہدائے کربلا کا۔
Also Check: 270+ Best Dil Shayari In Urdu | دل شاعری اردو میں
Conclusion
کربلا کے المناک واقعات پر مبنی یہ شاعری دلوں کو چھو لیتی ہے اور روح کو تسکین بخشتی ہے۔ Karbala Shayari In Urdu کی یہ خوبصورت پیشکش ہمیں اس عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے جو انسانیت کی بقا کے لیے دی گئی۔
یہ اشعار ہمیں صبر، استقامت اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتے ہیں۔ Karbala Shayari In Urdu کے ذریعے ہم ان پاکیزہ ہستیوں کے غم میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی لازوال داستان کو محبت سے یاد کرتے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ Karbala Shayari In Urdu کا یہ مجموعہ آپ کے دلوں کو منور کرے گا۔ ان لازوال نظموں کو اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹیں اور کربلا کے پیغام کو عام کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

