Allama Iqbal Shayari In Urdu: اردو شاعری کے شائقین کے لیے ایک خاص مجموعہ حاضر ہے۔ یہاں آپ کو علامہ اقبال کے بہترین کلام کا خزانہ ملے گا۔ یہ تمام کلام آپ کے دل کو چھو لیں گے۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu کی دنیا میں خوش آمدید۔
شاعر مشرق کے افکار و جذبات سے بھرپور یہ کلام، فکر و دانش کا عکاس ہے۔ ان اشعار میں وہ گہرائی ہے جو روح کو متاثر کرتی ہے۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu کو پڑھ کر آپ یقیناً متاثر ہوں گے۔
یہ خوبصورت کلام اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بانٹیں۔ آپ ان اشعار کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu کا یہ انتخاب آپ کے جذبات کا بہترین اظہار ہے۔
Allama Iqbal Shayari In Urdu

سمجھتا ہے دل رازِ نہاں، تجھ سے کیا کہوں
مانگے ہے دل تو ہے prawo، تجھ سے کیا کہوں
تری نگاہوں میں ہے وہ سوزِ نہاں
پوچھے ہے دل ہر دم، تجھ سے کیا کہوں۔
ستاروں سے الجھتا ہے، یہ تیرا دل
ہواؤں سے باتیں کرتا ہے، یہ تیرا دل
کبھی زمیں پر، کبھی آسماں پر
بڑے ہی رنگ دکھاتا ہے، یہ تیرا دل۔
اے عشق، تیرا ہے یہ کیسا جال
جو دل کو کر دے بے مثال
کبھی درد، کبھی راحت
تیرے ہی سارے کمال۔
شکوہ بند ہے آج، دلِ مضطر
کچھ کہنے کو بے تاب، دلِ مضطر
رازِ دل کی بات، کب تک چھپے
ہو جائے آشکار، دلِ مضطر۔
یہ کیسی گردشِ ایام ہے، بتا
ہر شے میں اک اضطراب ہے، بتا
کب تک یونہی تڑپے گا یہ دل
کب ہوگا وصل، کب شام ہے۔
تیری نگاہوں کے اشارے، دل میں اتر گئے
جو راز تھے سینے میں، وہ سب بدل گئے
اب تو یہی ہے حال، کہ ہر سانس
تیرے نام پر رواں، تیری طلب میں سفر گئے۔
کون پوچھتا ہے تیری ذات کا حال
ہر کوئی ہے یہاں، اپنے ہی خیال
دل میں جو ہے، زبان پر وہی
یہی ہے زندگی کا، رنگین حال۔
جب تیری یاد آئے، تو دل بھر جائے
اشک بن کر وہ، آنکھوں سے ڈھل جائے
یہ دردِ فراق، کب تک سہیں
کاش، تیری صورت، نظر آئے
اور یہ دل، سکون پائے۔
تری ذات میں ہی، ڈھونڈتا ہوں سکون
تیری نگاہوں سے، ملتا ہے جنون
یہ کیسا عشق ہے، کیسا یہ وصل
دل میں بس گیا، تیرا ہی رنگون۔
تری باتیں ہیں، جیسے نغمہِ سرود
دل تیری آواز کا، ہمہ وقت ہے مود
کاش، یہ لمحات، یوں ہی ٹھہر جائیں
دل تیری یاد میں، محو رہے، ہر سود۔
یہ رات کی خاموشی، اور تیری یاد
دل میں جلاتی ہے، اک آگِ شاد
کب تک یہ انتظار، کب تک یہ درد
آجا، کہ اب تو، ہو جائے فریاد۔
اے دل، تیری کیفیت، بیان کیا کروں
تو اس کی چاہ میں، بے تاب ہے، کیا کروں
جو دور ہے، اسے کیسے پکاروں
اپنی ہی گت میں، روتا رہے، کیا کروں۔
تری چاہت میں، دل بے قرار ہے
ہر لمحہ بس، تیرا ہی انتظار ہے
یہ کیسی ہجر کی رات ہے
کب ہوگا وصال، کب صبحِ بہار ہے۔
یہ دل جو تیری، راہ تکتا ہے
ہر دم تیری، باتیں سوچتا ہے
کب آئے گا، وہ وقت خوش
جب تیرا وصل، حاصل ہوتا ہے۔
تری آنکھوں میں، جو ہے وہ جادو
دل کو کر دے، بے قابو
یہ کیسی کشش ہے، کیا بات ہے
دل بس تیری، ذات کا ہے، پہلو۔
شبنم کی طرح، آنکھوں سے، گرتا ہے
تیری یاد میں، دل، یوں ہی بھرتا ہے
کب آئے گا، وہ دن، اے صنم
جب تیرا وصل، حاصل ہوتا ہے۔
تری آرزو میں، دل، جلتا رہے
تیری یاد میں، ہر پل، پلتا رہے
یہ کیسا عشق ہے، کیسا ہے درد
دل تیری چاہ میں، بس پگلتار ہے۔
یہ دل جو تیری، طلب کرتا ہے
ہر دم تیری، بات، سنتا ہے
کب آئے گا، وہ موسمِ وصل
جب تیرا دیدار، ملتا ہے۔
تری صورت، جیسے، ماہِ کامل
دل تیری چاہ میں، ہوا ہے، غافل
کب ہوگا وصال، کب ملے گی راحت
اب تو بس، تیرا ہی ہے، حاصل۔
یہ عشق، تیرا، ہے کیسا انداز
دل میں بس گیا، تیرا ہی راز
کب ہوگا وصال، کب ہوگی ملاقات
اب تو بس، تیری ہی ہے، آواز۔
Allama Iqbal Shayari In Urdu Love | علامہ اقبال کی محبت میں شاعری

محبت وہ شے ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے،
یہ وہ جذبہ ہے جو زندگی سنوارتی ہے۔
اقبال کے افکار میں پنہاں ہے یہ سچ،
محبت سے ہی تو دنیا یہ سجتی ہے۔
سرشار ہے یہ دل تیری یادوں سے،
یہ جذبہ محبت کا ہے، کیا کہوں میں
تیرے عشق میں یہ جان بھی فدا ہے،
اقبال نے سکھایا ہے، یہی ہے میرا غم
فکر اقبال کا اک درس سناتا ہے،
محبت کی راہوں پہ جو چلتا ہے،
وہ منزلِ عشق کو پا ہی لیتا ہے،
کبھی ہارتا نہیں، فتح کرتا ہے۔
نگاہوں میں تیری وہ کشش ہے عجب،
کہ دل تیری چاہت میں گم ہو گیا ہے۔
یہی حال ہے شاید علامہ کا بھی،
محبت کے سفر میں یہ رستہ مجھے ملا ہے۔
ترا حسن، تیری ادا، سب ہیں دل فریب،
اقبال کے شعروں سے دل میں اترتی ہے۔
وہ وارفتگی، وہ محبت کی تڑپ،
ہر اک لفظ میں یوں محسوس ہوتی ہے۔
محبت میں گم، فکر اقبال میں کھویا،
یہ دل تیری چاہت کو کیسے سمجھے؟
جذبہِ عشق جب سر پہ سوار ہو،
تو زندگی کا ہر پل یوں ہی گُزرے۔
دل کی گہرائیوں سے یہ آواز آتی ہے،
محبت کا نغمہ جسے اقبال نے گایا ہے۔
تیری یادوں کا سایہ جب چھا جاتا ہے،
دل بے قرار ہو جاتا ہے، بس تیری چاہ کر رہا ہے۔
تری آنکھوں میں جو سمندر ہے محبت کا،
اس میں ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے۔
اقبال کے الفاظ میں یہی پنہاں ہے،
عشق کی منزل کا پتا، یہی بتاتا ہے۔
یہ دل تیری محبت میں سرشار ہے،
اقبال کے افکار بھی یہی کہتے ہیں۔
کہ عشق وہ شے ہے جو کر دے آزاد،
اور زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔
تیری یاد جب دل میں بسی رہتی ہے،
تو ہر شے میں تیری تصویر نظر آتی ہے۔
اقبال نے کہا تھا، عشق کی یہ نشانی ہے،
محبت کے آنسو، ہر پل بہہ جاتے ہیں۔
یہ دل تیرا ہی دیوانہ ہے، سن لے،
تیرے عشق کی شمع روشن ہے۔
اقبال کے شعروں کی طرح، یہ جذبہ،
ابدیت کا احساس دلاتا ہے۔
تری محبت میں یوں کھو گیا ہوں میں،
کہ خود کو بھی پہچاننا مشکل ہے۔
یہی تو ہے عشق کی انتہا، اقبال کے بقول،
کہ خودی کو اس طرح کر بلند، کہ دل بدل جائے۔
وہ جذبہِ عشق، جو دل کو چھو جائے،
اقبال کے کلام میں اسے پایا ہے۔
محبت کے دریا میں جب ڈوب جاؤ،
تو زندگی کا ہر پل حسین بن جاتا ہے۔
تیری یادوں کا سلسلہ کبھی تھمتا نہیں،
یہ دل بس تیرا ہی نام لیتا ہے۔
اقبال نے کہا تھا، عشق وہ منزل ہے،
جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
محبت کا نشہ، دل پر چھا گیا ہے،
اقبال کے شعروں میں یہ نظر آتا ہے۔
تیرے حسن کی تعریف میں کیا لکھوں،
ہر اک لفظ تیری عظمت ہی گاتا ہے۔
یہ دل تیرا ہی دیوانہ ہے، اے یار،
تیرے عشق میں سرشار ہے۔
اقبال کے کلام میں جو پایا ہے،
وہی محبت کا اصل معیار ہے۔
تیرے بنا زندگی ادھوری سی لگتی ہے،
یہ دل تیری طلب میں بے قرار ہے۔
اقبال نے محبت کو یوں ہی تو گایا ہے،
کہ یہ احساس ہر پل، ہر لمحہ، ساتھ رہتا ہے۔
یہ آنکھیں بس تجھے ہی ڈھونڈتی ہیں،
تیری چاہت میں یہ محوِ سرور ہے۔
اقبال نے کہا تھا، عشق میں فنا ہو جا،
اسی میں تیری خودی کا نور ہے۔
تیری یاد میں دل یہ بے قرار ہے،
تیرے عشق کا یہ سودا بہت خاص ہے۔
اقبال کے افکار سے یہ سمجھا ہے،
محبت ہی ہے وہ جذبہ، جس سے دل ہوتا ہے آس پاس۔
محبت کے رنگوں سے دل بھر گیا ہے،
اقبال کے کلام کی یہ تاثیر ہے۔
تجھے پانے کی آرزو ہے دل میں،
یہی میری زندگی کی سب سے بڑی تعبیر ہے۔
Allama Iqbal Shayari In Urdu Islamic

فکرِ نو نے کر دیا ہے زندہ مجھ کو ورنہ
افکارِ رفتہ کا خزینہ تھا خزانے کے سوا
اسلام کی سربلندی میری آرزو
اسی میں پنہاں ہے دنیا کا فسانہ۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور دریا ہے সংখر کی صدا
قوم کے دل میں ہو جوشِ جذبہ ایمانی
اسی سے ملت کی تقدیر بنتی ہے۔
متاعِ غیر سمجھتا ہے مسلماں جو اسے
پہ یہ سمجھے کہ وہ ملت کی ہے ہر اک ادا
یہ امت جس کا خدا بھی ہے ایک
اسے غیرت سے بچنا ہے، خدا کی رضا۔
خرد کو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے پوچھے
بتا تیری رضا کیا ہے؟ تیری مرضی کیا بنی
خدا کے حکم پر سر تسلیم خم کر
وہی منزل ہے تیری، وہی ہے تیری صدا۔
نئی ملت، نیا اسلام، نیا ترانہ
نیا ہے رنگ، نیا ہے انداز، نیا ہے کارواں
پراں ہے پرانا، دل ہے نیا
اسی شوق میں جیتا ہے، ہر مسلم کا جہاں۔
ستاروں سے بھی آگے جہاں اور ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور ہیں
یہ اسلام کا جذبہ، یہ ایمان کی روشنی
یہ دنیا و عقبیٰ کے، سب راز اور ہیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، پرواز ہے، تیرا کام ہے دونیا
ہو بلند اتنا تیرا حوصلہ
کہ ہر مشکل سے لڑے، اور جیتی رہے فنا۔
تو نے تو دیکھا فقط ایک رُخِ دنیا
یہ رنگِ بہار، یہ عیش و طرب، یہ ساز و صدا
مسلمان کا ہے یہ فریب
یہ فتنہ ہے، یہ دھوکا ہے، یہ اک دل کا گلہ۔
نہیں سمجھا ہے یہ رازِ حیات
یہ سب رنگ، یہ سب رس، یہ سب لطف و وفا
خدا کا نام ہے اصل
اسی میں پنہاں ہے، ہر مشکل کا حل ہے۔
یہی تھا رازِ ملت، جو تھی ملت کی بنیاد
وہی ہے آج ملت، یہی ہے وہ رمزِ خدا
بڑھے جا، بڑھتا جا، اے مسلم
تیری منزل ہے، جنت، تیری ہی ہے ہر ندا۔
یہ عالم، یہ دنیا، یہ رنگیں بہاریں
کچھ اور ہیں، سب کچھ ہے، پر دل نہیں لگاتا
پھولوں میں ہے خوشبو تو
جو جذبہِ اسلام ہو، وہی سب سے سنوارتا۔
عجائب ہیں، کرشمے ہیں، حوادث ہیں، یہ دنیا
پھر اس میں دل، یہ بندھن، یہ ہجر، یہ وصل، یہ وفا
مسلمان کا دل، خدا کا گھر
اسے غیروں کی چاہت سے، کبھی نہ سجانا۔
سمجھتا ہے دل، کہ یہ سب فریب ہے
یہ دنیا، یہ رنگ، یہ خوشیاں، یہ سب بلا
خدا کی یاد ہے اصل
اسی میں پنہاں ہے، سب سکون و بقا۔
مسلماں کو ہے ملت، عروج و زوال
یہ ملت کا جذبہ، ہے روحِ حیات
اسی سے ہے تیری بقا
اسی میں پنہاں ہے، تیرا عروج و کمال۔
بڑھے جا، بڑھتا جا، اے مردِ مسلماں
یہ تیری راہ ہے، یہ تیرا خدا
ہمت نہ ہار، ہوش میں رہ
یہی ہے تیری منزل، یہی ہے تیری صدا۔
خدا کے حکم پر، تیری خودی
یہ اسلام، یہ ایمان، یہ تیری صدا
یہی ہیں تیرے وارث
یہی ہیں تیری پہچان، یہی ہے تیرا خدا۔
فکرِ نو نے بدل دیا، سب رنگ و بو
اب ملت کو سمجھنا ہے، اپنا حال و ماجرا
خدا کا حکم ہے اصل
اسی میں پنہاں ہے، سب فتح کا ضیا۔
بڑھے جا، بڑھتا جا، اے مسلمِ آزادہ
یہ تیری راہ ہے، یہ تیرا خدا
حوصلہ نہ ہار
یہی ہے تیری منزل، یہی ہے تیری صدا۔
یہی ہے ملتِ اسلام کی پہچان
اسی جذبے میں پوشیدہ ہے تیری بقا
بڑھے جا، بڑھتا جا
تیرا ہے یہ جہاں، تیرا ہے یہ خدا۔
یہ دل، یہ دماغ، یہ جسم، یہ روح
سب تیری ملکیت ہیں، یہ سب ہیں خدا
اسی کی رضا میں ہے
تیرا سکون، تیرا عروج، تیرا ہی ہے خدا۔
Allama Iqbal Shayari In Urdu About Life

زندگی اک سفر ہے، منزل کوئی نہیں
عقل و دل کی کشمکش، حد کوئی نہیں
خود کو پہچان لے اگر، انسان ہے تو
پھر تیرے واسطے، عالم تنگ کوئی نہیں۔
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فتح عالم
یہ ہیں وہ عناصر، جن سے چلتا ہے زمانے کا نظام
یہی راز ہیں، جن سے ہے، زندگی کا ہر شعبہ
یہی ہیں وہ حقیقتیں، جن سے ملتی ہے کامرانی کا انعام۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہی وہ درس ہے، جو دیتا ہے، ہمیں اقبال
بلند پرواز بن، کہ تیری رفعت ہو سب سے زیادہ۔
پرندے کو سکھایا پڑھنا، تو وہ پڑھنے لگا
اور پھر اس نے اڑنا، چھوڑ دیا، یہ کیسی ادا
اسی طرح، علم اگر، عقل سے ہو خالی
تو منزل گم ہو جاتی ہے، اور رہ جاتی ہے cuma۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
یہی ہے زندگی کا راز، جو قوم ہے سب سے بڑی
اس کے بغیر انسان، تنہا ہے، بے معنی، بے ثمر ہے۔
رازِ حیات، یہی ہے، کہ خود کو پہچانو
اپنے اندر کے جہاں کو، تم خود ہی جانو
خدا کی صفات، تمہارے اندر ہیں پنہاں
بس انہیں ڈھونڈ لو، اور زندگی کو پہچانو۔
ہر لمحہ ہے نیا، ہر دن ہے اک نیا موڑ
زندگی کی حقیقت، یہی ہے، کوئی نہ توڑے
کبھی خوشی، کبھی غم، یہ کھیل ہے ایسا
ہمت سے لو مقابلہ، تو منزل ہو تیری، ہر دور۔
یہ زندگی، اک امانت ہے، خدا کی جانب سے
اسے سنوارو، اسے سجاؤ، خوشیوں کے رنگ بھر کے
یہ لمحے، جو گزر رہے ہیں، لوٹ کر نہ آئیں گے
ان کی قدر کرو، اور جی لو، ہر پل، مسرتوں سے بھر کے۔
تندی باد مخالف سے گھبرا نہ اے قافلہ
یہ تو چلتی ہی ہیں، عزم و ہمت کو آزمانے کے لیے
زندگی کے اتار چڑھاؤ، ہیں سب آزمائشیں
ان سے ہی سیکھو، اور آگے بڑھو، منزل پانے کے لیے۔
دل میں وہ درد اٹھے، کہ آنکھیں بھیگ جائیں
یہ زندگی کا سفر ہے، دکھ سکھ سب سمیٹ جائیں
کبھی مسکرائے، کبھی روئے، مگر گِرے نہیں
یہی ہے انسانیت، اور زندگی کا اصل مقصود، جو چھا جائے۔
تاروں کی طرح، چمکتے رہو، اپنی دنیا میں
روشنی پھیلاتے رہو، اپنی امیدوں کے سنگ
یہ زندگی، اک سفر ہے، خوابوں کی تعبیر کا
اس میں رنگ بھر لو، اپنے حوصلوں کے رنگ۔
شکوہِ ظلمتِ شب سے، تو کہیں بہتر تھا
نالہِ چراغِ سحر ہوتا، تو کوئی بات تھی
زندگی کے اندھیروں سے، نہ گھبراؤ کبھی
روشنی کی امید رکھو، یہ روشن بات تھی۔
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
اسی محبت سے، بھر لو، اپنی زندگی کو
تو ہر مشکل آسان ہو، اور ہر غم مٹ جائے۔
عجائب ہیں، یہ کارخانے، قدرت کے، اس دنیا میں
ہر شے میں، پوشیدہ ہے، اک راز، گہرا، سنہری میں
زندگی کا مفہوم، یہی ہے، کہ ان کو سمجھو
اور انہی سے سیکھ لو، کہ کیسے، hidup میں، ہر پل، رُوپہری میں۔
اپنی ہستی ہی، سے ہو، اگر، وابستہ
تو کیا، غم ہے، کہ یہ، جہاں، ہے، پرستان
زندگی، کا مقصد، یہی ہے، کہ خود کو، پہچانو
اور اس، پرستان، میں، خود، سے، بنا لو، اک، انسان۔
مسجد تو بنا دی، شب بھر میں، بستی، نے
اک نیا، پتا، خدا، کا، پھر، مانگتا، ہے، بندہ
زندگی، کا، سبق، یہی، ہے، کہ، سجدہ، بس، خدا، کو
باقی، سب، فانی، ہیں، اس، دنیا، میں، ان، کا، کیا، فائدہ۔
یہی، ہے، میرا، پیغام، محبت، کے، قافلوں کو
کہ، بٹ نہ، جاؤ، دنیا، کے، جھوٹے، رنگوں، میں
زندگی، کی، حقیقت، یہی، ہے، کہ، متحد، رہو
اور، بناؤ، اس، دنیا، کو، اپنے، پیار، کے، گنگوں، میں۔
نئی، دنیا، نئے، انداز، سے، ہے، اب، وابستہ
خیال، کو، بدل، دیا، تو، بدل، جائے، گی، تقدیر
زندگی، کا، سفر، ہے، یہ، بدلتا، ہوا، انداز
بس، اپنا، راستہ، خود، چنو، اور، بنو، خود، کی، تدبیر۔
یہ، زندگی، اک، خواب، ہے، خوبصورت
اسے، سجا لو، اپنی، چاہتوں، کے، رنگوں، سے
ہر، پل، کو، جیو، جی، بھر، کے، مسرتوں، کے، ساتھ
اور، بناؤ، اپنی، دنیا، کو، اپنے، خوابوں، کے، سنگوں، سے۔
خود، سے، ملا، دے، مجھے، وہ، خدا، کی، ذات
کہ، میں، جان، لوں، اپنی، ہستی، کا، راز
زندگی، کی، سچائی، یہی، ہے، خود، کو، پہچانو
اور، پالو، اپنے، اندر، ہی، اس، کائنات، کا، ساز۔
Motivational Allama Iqbal Shayari In Urdu | علامہ اقبال کی انقلابی شاعری

شبنم کی طرح ہیں یہ ملت کے جواں
ہمت ہو تو کر دیں بدل دنیا
اقبال کی باتوں میں ہے وہ درد
جو جگا دے دلوں کو، غم سے عاری کر دے
سمجھتے ہیں سب یہ وقت کی نزاکت
نہ ہوگی کوئی بھی بات اب شکایت
علامہ اقبال نے جو راہ دکھائی
اسی پر چل کے ملی ہے یہ عظمت
آندھی ہے، طوفان ہے، کیا ڈر ہے ہمیں
آزادی کی شمع روشن ہے ابھی
اقبال کا پیغام ہے یہ زندہ
آگے بڑھو، منزل تیری ابھی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
اقبال کی یہ بات ہے دل کی صدا
یہی ہے زندگی کی سچی ابتدا
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
اقبال کا یہ شعر ہے روح کی گہرائی
یہی ہے انسان کی سچی خودی
یہ ملت اب جاگ اٹھی ہے، نہ روکے گی کوئی
نئی صبح کا سورج اب طلوع ہوگا
علامہ اقبال کی یہ صدا ہے
خود اعتمادی سے ہم آگے بڑھیں
دور بیٹھا اپنے ہی غم میں نہ گھبرا
اے مسلماں، وقت ہے ابھی بھی سنور جا
اقبال کا فرمان ہے یہ خاص
مٹ جا، مگر نام کو زندہ کر جا
نہ سمجھو یہ وقت ہے اب بس ختم
ابھی تو انقلاب کی ابتدا ہے
اقبال کے الفاظ میں یہ زور
ملت کے دلوں میں جوش بھرتا ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ اقبال کا یہ درد ہے
بیدار کر دے سب کو، یہی ان کا مقصد ہے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے
جواں قدموں میں پھر رفعت پرواز آتی ہے
اقبال کی یہ بات ہے دل کی صدا
بیدار کر دے خود کو، یہی ہے زندگی کا راز
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ بدر منیر اس کے
اقبال کا یہ منشور ہے
یہی ہے راہ، یہی ہے منزل
خرد کو کر بلندی پر، فلک بوس
یہی ہے امت کی بقا، یہی ہے نشاط
علامہ اقبال کا یہ قول ہے
علم سے ہی روشن ہوگی یہ رات
مسافر! وقت کی رفتار سے نہ گھبرا
منزل کی تلاش میں آگے بڑھتا جا
اقبال نے یہ سبق دیا
حوصلے سے ہی ملے گی کامیابی
یہ جذبہ، یہ جنوں، یہ ولولہ
یہ ملت کی بیداری کا ہے اجالا
علامہ اقبال کا یہ پیغام
ہمت کے ساتھ، روشن ہے یہ قافلہ
فکر میں تیری تیری ذات کا پردہ
یہی ہے خودی، یہی ہے تیرا حوصلہ
اقبال کی یہ بات ہے نرالی
اپنی شناخت کو پہچان، یہی ہے منزل
آرزو تو ہے دل میں، مگر عمل نہیں
یہ کیسی بات ہے، اب کچھ تو کر
علامہ اقبال نے یہ کہا
عمل سے ہی ہوگی ہر آرزو پوری
وہ ملت جو خود کو پہچان لے
زمانے پر حکمرانی کر سکے
اقبال کا یہ خواب ہے
خود اعتمادی سے ہی ممکن ہے
اندھیرے میں روشنی کا نور ہے
علامہ اقبال کا فلسفہ
جو جگائے دلوں کی دنیا
اور دکھائے منزل کا راستہ
محبت، امن، اخوت کا درس
یہی ہے ملت کا سرمایہ
اقبال کا یہ پیغام ہے
محبت سے ہی ہوگی دنیا آباد
نئی سوچ، نیا جذبہ، نیا عزم
یہی ہے ملت کا مستقبل
علامہ اقبال کی یہ دعا
روشن کرے ہر دل، روشن کرے ہر پل
Allama Iqbal Shayari In Urdu | علامہ اقبال کی شاعری اردو میں

فکرِ نو نے عقلِ جہاں پر کیا ہے دستک،
تو نے کتنا سیکھا، ذرا دل سے بتا
زمانے کے بدلتے رنگوں کو پہچان،
اور اپنی منزل کو حقیقت بنا۔
یقینِ محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم،
جہادِ زندگی ہے یہ، یہی ہے رمزِ مومن
کبھی مایوس نہ ہونا، قدم بڑھاتے رہنا،
یہی ہے تیرا رستہ، تیری منزلِ روشن۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ خودی تیری پہچان ہے، تیری اصل طاقت،
اسی میں پوشیدہ ہے تیری معراجِ حیات۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
مگر منزلِ شوق کو جانتا نہیں،
یہ صرف کٹھن راستے، یہ اور بھی ہیں۔
نہ سمجھو اسے میری تنہائی کا غم،
مجھے دل کے معاملات سے فرصت نہیں
ہر اک شے میں نظر آتا ہے وہی،
بس اسی کی یاد سے فرصت نہیں
اسی کی چاہتوں میں گم ہوں۔
اٹھا شعلہ گناہوں سے، بچھا دشتِ گناہوں پر،
بجھا اس کو، مگر اس طور کہ شعلہ اٹھ نہ پائے
توبہ کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے،
اپنی غلطیوں کو سدھار، زندگی کو سنوار۔
ترا جوہر جو ہے پنہاں، تو کر اس کو آشکارا،
ہوئے جب وہ آشکارا، تو پھر کچھ پردہ نہ رکھے
اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان،
اور دنیا کو اپنی عظمت کا ثبوت دے۔
پانی پانی کر گئی مجھ کو، سرد مہری تیری
تیرا موسم، تیرا انداز، تو نے کیا کیا
کچھ ایسی بات کہہ جو دل میں اتر جائے،
ہر لفظ تیرے محبت کا پیغام سنائے۔
زمانے کے انداز بدلے ہوئے ہیں
نئے دور کے ت鏘 بدلے ہوئے ہیں
سمجھ لو یہ وقت کی پکار ہے،
نئی سمت میں قدم بڑھائے جاؤ۔
عشق میں غیرتِ جذبات کا اتنا ہی لحاظ،
کہ وہ شیشہ جو نہ ٹوٹے، وہ پھر آئینہ کب ہے
محبت میں اپنے احساسات کو سمجھو،
اور دل کی بات کو دل سے ہی کہو۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا،
لیا جائے گا تجھ سے، کام دنیا کا
علم اور ہنر سے خود کو آراستہ کر،
یہی تیرے لیے دنیا کی حقیقت ہے۔
مسافر! یہ تیری زندگی کا سفر ہے،
نہیں تھکنا، نہیں رکنا، بس چلتے جانا
راستے میں کچھ رکاوٹیں آئیں گی،
مگر ان کو عبور کر، منزل پانا۔
حقیقت ایک ہے، جس کو بدلنا ہے
مگر یہ بات دل میں، کہاں سمائے
اپنے عقائد کو مضبوط کر،
اور اپنی سچائی پر قائم رہ۔
نگاہِ بلند، سخن دلنشیں، ازمِ بلند
یہی ہیں اس کے مضامیں، جس کے کلام میں
اپنے خیالات کو بلند کر،
اور دلنشین انداز سے اپنی بات کہہ۔
یقینِ کامل، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
یہ تیری راہ کا پتھر، یہ تیری منزل
ان اصولوں کو اپنا، زندگی سنور جائے گی،
ہر مشکل آسان ہوگی، ہر آرزو پوری ہوگی۔
خرد کو کر بلند اتنا کہ مستی میں خود کو بھول جائے
اور اس مستی میں، خود کو خدا کے رنگ میں رنگ لے
اپنی عقل کو وسعت دے،
اور معرفت کی منزلیں سر کر۔
یہ بتانِ آذر، یہ رنگینیاں،
یہ سب فریب ہیں، جو دل کو بہکائیں
حقیقی راہ پر گامزن ہو،
اور خدا کی معرفت حاصل کر۔
زمانہ میں، جو تو خود شناس ہو جائے
تو پھر تیری، کوئی قدر نہ کر پائے
اپنی شناخت کو مقدم رکھ،
اور دنیا کو اپنی اہمیت کا احساس دلا۔
پیرِ مغاں! تیری راہ میں، میری چشمِ چراغ
تیری برکتوں کا، ہے یہ جلوہ
اے رہبر! مجھے اپنی رہنمائی عطا کر،
تاکہ میں تیری ہدایت پر چل سکوں۔
اپنی منزل کی طرف، بڑھتا جا مسافر
یہ راستے تیرے، یہ سفر تیرا
تو خود ہی اپنی تقدیر کا ستارہ ہے،
اپنی روشن کرنوں سے دنیا کو منور کر۔
Also Check:- 230+ Best Sad Shayari In Urdu | اردو میں اداس شاعری
Conclusion
علامہ اقبال کی شاعری میں مضمر پیغامِ خودی اور ملت کی بیداری انسانیت کے لیے ایک لازوال سرمایہ ہے۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu روح کو جلا بخشتی ہے اور ہمیں اپنے مقصد کی طرف گامزن ہونے کی ترغیب دلاتی ہے۔
یہ کلام دلوں میں جوش اور امید پیدا کرتا ہے، اور ہمیں اپنی اصل پہچان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu پڑھ کر ہم اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس کرتے ہیں جو ہمیں بہتر بنانے پر اکساتی ہے۔
آخر میں، ہم سب کو علامہ اقبال کے افکار سے فیض یاب ہوتے رہنا چاہیے۔ Allama Iqbal Shayari In Urdu کو دوسروں سے بانٹنا ایک عظیم عمل ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتا ہے۔

